صفحہ اول / دنیا / مجھے بس باہر جانا ہے کینیڈا ہو یا برطانیہ – یہاں رہکر کچھ نہیں ہوسکتا

مجھے بس باہر جانا ہے کینیڈا ہو یا برطانیہ – یہاں رہکر کچھ نہیں ہوسکتا

"میں توبس اب  باہرجاؤنگا "

بیرون ملک جانے کے شارٹ کٹ  طریقوں کی بجائے قانونی راستوں  پر چلیں

سہیل بلخی

abroad travel

 "کام  ٹھیک چل  رہا  ہے ہے ؟ ” جب رشید  میرے  دفتر سے نکلنے  ہی والا  تھا تو  میں  نے آخر  میں  پوچھااور  وہ دوبارہ  میرے  پاس بیٹھ گیا   جیسے  کچھ  بات کرنا چاہتا  ہو – میری توجہ پاکر بولا  ” سہیل بھائی  کام  کوئی  خاص  نہیں  چل  رہا ، میں  بھی  کینیڈا  جانا  چاہتا ہوں  ” –

میں  نےاپنا  کام  روک کر  توجہ  اسکی طرف مبذول کرتے ہوئے پوچھا  کہ اسے یہ خیال کیونکر  آیا ؟ تو اس نے بتایا کہ بس وہ سمجھتا  ہے کہ یہاں کچھ نہیں  کر سکتا اور اگر باہر چلا گیا تو زندگی  بدل سکتی ہے –

یہ  صرف اسکا خیال نہیں آئے دن مجھے ایسے نوجوان ملتے ہیں اور میں ان سے وہی بات کرتا ہوں جو اس دن میں نے رشید  سے کہی –  میں نے اسے بتایا کہ دنیا بھر میں تم کہیں   بھی جا سکتے ہو ، یہ تمہارا حق ہے اگر وہاں کی حکومت کو کوئی اعتراض نہیں، اگر تمہیں وہ  آسانی  سے ویزا دیں –  مگر  جھوٹ کے سہارے ، غلط اندازے اور کم علمی کے سبب  اگر نکلنے کی کوشش کرو گے تو مارے جاؤ  گے . سوائے   پچھتاوے کے کچھ ہاتھ نہ  ائے  گا …

کیا  بیرون ملک  جاکر قسمت  آزمانے  میں کوئی برائی  ہے ؟  کن لوگوں  کو  کمانے اور اپنی  قسمت  بدلنے  کے لیے   باہر جانے  کی کوشش کرنی  چاہے؟  میں کیسے  باہر  جا  سکتا ہوں ؟  باہر جانے سے قبل مجھ میں کیا  قابلیت اور صلاحیت ہونی ضروری ہے ؟  ایسے اور ملتے جلتے ڈھیروں سوالات لوگ کرنا چاہتے ہیں  مگر ہمارے ہاں نہ  کالج میں نہ  اسکول میں کوئی اسٹوڈنٹ کونسلر کا تصور ہے نہ محلے اور کمیونٹی سنٹر میں اسکا کوئی اہتمام ، اگر ہمیں اپنے ہیومن ریسورز کو بچا نے اور انکو ٹھیک استعمال  کرنے کی فکر ہوتی تب ہی  اسکا اہتمام ہوتا –

illegal immigrant arrested

دنیا  بھر کے لوگ  ایک ملک سے دوسرے ملک کمانے کے لیےجاتے ہیں اس میں کیا برائی ہے ؟ – ہرگز کوئی برائی نہیں اور سچ بات تو یہ ہے کے جو بیرون ملک جاکر اپنے عزیزوں رشتے داروں کو پیسے بھیجتے ہیں وہ ملک کے لیے بہت اہمیت رکتھے ہیں ، جو لوگ وہاں سے تجربہ لے کر اتے ہیں اسکی بھی الگ اہمیت ہے ، پاکستان کا تعارف دیگر ممالک میں عام لوگوں تک ان ہی کے زریعے ہوتا ہے

باہر جانے کے جو  جایز طریقے ہیں اس پر عمل کرتے ہوئے جائیں ، وزٹ ویزا پر سیر و تفریح کے لیے جانا  جائز ہے اور قانونی ہے ، بزنس ویزا پر کاروباری مقاصد کے لیے جانے اور وقت گزارنے کی اجازت ہے  ، اسٹوڈنٹ ویزا پر پڑھائی کی اجازت ہے اور کسی کسی ملک میں مشروط طور پر ہفتے میں بیس یا پندرہ گھنٹے کام کرنے کی اجازت ہے –

عمرہ یا حج کے ویزے ظاہر ہے مذہبی فرائض کی  ادائیگی کے لیےدئیے جاتے ہیں ، دنیا بھر میں درج بالا ویزے پر نوکری کرنے کی ہرگز اجازت نہیں  اگر آپ ایسا کریں گے تو ایک غیر قانونی عمل ہو گا اور وہاں کی سرکار آپکو جیل بھی بھیج  سکتی ہے اور ڈی پورٹ بھی کر سکتی ہے .دونوں  صوررت میں آپ اور اپکا خاندان ایک شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہو سکتا ہے .

  یاد رکھیں دنیا بھر میں آپ یہ کہکر جان نہیں  بچا سکتے کہ مجھے  اسکا  علم نہیں تھا ،مجھے کسی نے اسکے بارے میں نہیں بتایا  یا کوئی اور معصومانہ  بہانہ  بناکر  آپ کسی سے کوئی مدد کی امید نہیں رکھ سکتے – عالمی طور پر ہرجگہ  ”  قانون کا پتہ  نہ ہونا  قانون توڑ نے کا  بہانہ نہیں  ہو سکتا ” ایک اصول کے طور پر رائج ہے

ہر جگہ کے قوانین  وہاں آنے والے پتہ کر کے آئیں ،  وہاں  کی حکومت اور وہاں کی پولس نے ٹھیکہ نہیں لے رکھا کہ ہر آنے والے کو اپنے قوانین کے کورسز کروائے – یہ  آنے والے کا فرض ہے کہ وہ آنے  سے قبل سب کچھ جان کر آئے .

تو پھر کیا کریں ؟ جن کو باہر پیسہ کمانے جانا  ہے وہ کیسے جائیں ؟

immigration at airport

اگر  آپ  کسی  شعبے میں  ایکسپرٹ ہیں ، تجربہ رکتھے ہیں تو اس شعبے کے لائیسنس، ڈگری، سرٹیفکیٹ اور عملی تجربے کے ثبوت جمع کر کے ایسے اداروں کی خدمات  حاصل کریں جو بیرون ملک میں ملازمین کی فراہمی کا لائیسنس رکھتے ہوں اور پروفیشنلی یہ کام  کرتے ہوں ، متعلقہ ممالک میں رجسٹرڈ ہوں اور پاکستان میں متعلقہ وزارت سے تصدیقی سند حاصل کر چکے ہوں . بیرون ملک کے ادارے خاص کر سعودی عرب ، متحدہ عرب امارت ، قطر ، بحرین ، کویت اور دیگر عرب ممالک میں یہ لوگ بہت فعال ہیں اور آپ ان ہی کے توسط سے باہر جائیں تو یہ آپکے حق میں بہتر ہے

ماضی  میں  لوگ  سعودی  عرب  میں  اپنے  عزیزوں سے کہکر  آزاد  ویزا  حاصل کر کے وہاں   جاکر جاب تلاش کرتے تھے اور جاب  ملنے کے بعد ویزا  ٹرانسفر ہو جاتا تھا  اب ایسا مشکل ہے  – دبئی میں   لوگ  وزٹ ویزے پر جا کر نوکری تلاش کرتے ہیں تاہم  روزگار  ملنے کے بعد وہ  اپنی اسی کمپنی سے جاب لیٹر حاصل کرنے کےبعد اپنے ملک واپس  اکر  نیا ویزا حاصل  کر کے واپس جاتے ہیں

دوسری طرف ایسے ممالک ہیں جہاں آفرادی قوت کی درآمد کی اتنی ضرورت نہیں اور وہاں سے ایسی کوئی خاص ڈیمانڈ نہیں  آتی یعنی امریکہ، برطانیہ ، اٹلی ، اسپین، کینیڈا ، سویڈن، ناروے ، جرمنی ، فرانس، اسٹریلیا ، نیوزی لینڈ وغیر شامل ہیں . ان ممالک میں یا تو لوگ امیگریشن لے کر جاتے ہیں یا اسٹوڈنٹ ویزے پر وہاں جا پہنچتے ہیں

امیگریشن ممالک میں  کینڈا ، اسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا پہلے نام آتا ہے جہاں  مختلف وجوہات کی بنا پر یہ ممالک  دنیا  بھر کے لوگوں کو دعوت دیتے ہیں  کہ وہ اگر اپنی قابلیت کی بنیاد پر اسکلڈ کیٹگری میں اپلائی کر کے وہاں آنا چاہیں تو درخواست دے سکتے ہیں . ان ممالک نے ایک پوائنٹس  سسٹم  بنا رکھا ہے اور ہر سال اس سسٹم میں بھی تبدیلیاں کرتے رہتے ہیں . اگر اپ ان ممالک میں امیگریشن لے کر جانا چاہتے ہیں تو آپکو کسی  ایجنٹ یا کسی وکیل کی ہرگز ضرورت نہیں ،ان ممالک متعلقہ وزارت کی ویب سائیٹ پر جاکر تازہ ترین کٹیگری لسٹ  ڈونلوڈ کر کے دیکھیں کہ آپکی  تعلیم ،آپکے تجربے ، آپکی عمر  کے لحاظ  سے آپکے کتنے پوائنٹس بن رہے ہیں –

امیگریشن حاصل کرنے کے لحاظ سے اگر اپ فٹ ہیں توآپکو کسی  ایجنٹ اور وکیل کی ضرورت نہیں اور اگر آپکے پوائنٹس نہیں بن رہے تب بھی ضرورت نہیں  وہ کوئی  "چکر” چلا کر آپکے لیے کچھ نہیں کر سکتے ، بلاوجہ کسی کے بہکاوے میں آکر کہیں پھنسنے  کی خود کوشش نہ کریں.  اگر کوئی مشکل ہو تو وہاں ای میل کر کے رابطہ کر سکتے ہیں اور ان ہی کے جواب کو ٹھیک سمجھیں –  یاد  رکھیں کہ وہ امیگریشن خیرات میں یا صدقے میں نہیں دے رہے ، ان ممالک کو زندگی کے خاص شعبوں میں افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے اور وہ پڑھے لکھے اور تجربہ کارلوگوں کو اپنے ملک میں لانا چاہتے ہیں،  اس کے لیے ایک خاص ہدف طےکر کے اسکا بجٹ بنا کر کوششیں کرتے ہیں کہ وہ ہدف حاصل ہو جائے – جتنی  ضرورت آپکووہاں جانے کی ہے شائد  اس سے زیادہ  انہیں  آپکی ضرورت ہے اگر اپ واقعی -اس شعبے میں  ماہر ہیں، تعلیم رکھتے ہیں اور امیگریشن کی شرایط پوری کررہے ہیں تو وو آپکو بھر پور مدد دینگے –

اسکلڈ بیسز پر امگریشن کے پوائنٹس کے سسٹم کو سمجھنا آسان ہے ، مثال کے طور پر اگر ایک ملک نے اپنے سسٹم میں ستر 70 پونٹس  حاصل کرنا لازم قرار دیا ہو تو اس ٧٠ پوائنٹس کو آپکی تعلیم،  تجربے او دیگر چیزوں پر اس طرح سے تقیسم کیا جاتا ہے کہ مطلوبہ قابلیت کا فرد ہی فٹ اسکے – سب سے پہلے آپکو دیکھنا ہے کہ  اپکا شعبہ اس تازہ ترین کیٹگری لسٹ میں ہے کہ نہیں  ، اگر  اپ فارماسسٹ  ہیں  اور  اپ نے دیکھا کہ  ہاں فارمسسٹ اس فہرست میں شامل ہے تو خوش ہوکر آگے بڑھیں ورنہ معاملہ یہاں ہی روک دیں – اگر آپ فٹ ہیں اور   آگے  بڑھ  رہے ہیں اور اپنا جایزہ لے رہے ہیں تو  تفصیلات میں جائیں .  تعیلم کے اگر دس پوائنٹس ہیں تو اس میں سے صرف ہائی اسکول والے کو چار پوائنٹس، گریجویٹ کو چھ ، ماسٹرز کو آٹھ اور پی اچ ڈی کو دس پوائنٹس دے گے ہوں گے … آپ نے چونکہ ہائی اسکول (انٹر میڈیٹ) کے  بعد  چارسالہ فارمیسی کی ڈگری لی ہے  تو اپ کو یہاں سے صرف چھ پوائنٹس مل گے اپنی گریجویشن کی بنیاد پر، اگر اپنے  گریجویشن کے بعد  دس سال تک کہیں بطور فارمسسٹ خدمات انجام دی ہیں اور اپ اسکو ثابت بھی کر سکتے ہیں تو کیٹگری لسٹ میں  تجربے کے کالم کو دیکھیں ہو سکتا ہے کہ ہر چار  سال کے تجربے پر دو پوائنٹس ملتے ہیں  تو آپ کو دو اعشاریہ  پانچ  پوائنٹس  یہاں سے مل سکتے ہیں  اور اسی طرح  انگریزی میں استعداد کی بنیاد پر الگ  پوانٹس، اگر اپکا کوئی خونی رشتے دار اسی ملک میں ہے تو اسکے پوائنٹس بھی ہونگے،  آپکی عمر کے لحاظ سے پوائنٹس ہونگے، جتنی عمر کم ہو گی اتنے ہی زیادہ  پوائنٹس ہونگے کیوں کہ وہ بوڑھے لوگوں کو بلانے کی بجائے جوان عمرلوگوں کو بلا کر انکی خدمات سے فایدہ اٹھاناچاہتے ہیں .

اسکلڈ کیٹگری کے علاوہ  فیملی کٹیگری میں بھی لوگ امیگریشن حاصل کرکے بیرون ملک جاتے ہیں ، انکی تفصیلات بھی دیکھی جا سکتی ہے مگر اس میں آپ اپلائی نہیں کرتے کہ میرے فلاں رشتے دار وہاں ہیں تو مجھے آنے دیں بلکہ آپکے رشتے دار وہاں محکمہ امیگریشن میں اپلائی کرینگے کہ وہ اپنے فلاں خونی رشتے دار کو بلانا  چاہتے ہیں ، وہاں کا محکمہ ان سے مختلف کاغذات مانگے گا جس سب  سے پہلے فیملی سائز  کے لحاظ سے انکی  آمدنی کو جانچا  جائے گا کہ یا انکم ٹیکس کے کاغذات کے سے یہ  ثابت کرنا ہوتا ہے کہ اتنی انکم ہے اور اس انکم کا ثبوت یہ ٹیکس کے کاغذات ہیں ، اتنی آمدنی ضروری ہے کہ اپنی فیملی کا خرچہ پورا کرنے کے بعد اپکا بھی بھی کچھ عرصے خرچہ اٹھا سکیں  –

جانا یا نہ جانا فرد اور خاندان کی اپنی مرضی ہوتی ہے اور سب کے اپنے مخصوص حالات ہوتے ہیں مگر یہ مت سوچ کر جائیں کہ کینیڈا یا امریکہ یا برطانیہ ایک جنت ہے ، کچھ ریسرچ کریں انٹرنیٹ پر اور نیگیٹو چیزوں کو بھی چیک کریں اگر وہ نیگیٹو چیزیں آپکے لئیے کوئی مسلہ نہیں تو کم از کم آپکو انکے بارے میں پہلے سے پتہ ہو اور آپکے اسکو فیس کرنے کے لیے تیار ہوں – جیسا کہ اس ویڈیو میں ایک امیگریشن وکیل اپنے تجربات کی روشنی میں بتا رہا تھا ہے کہ لاکھوں لوگ ہر سال کینیڈا آتے ہیں بہت مواقع رکھنے والا ملک ہے مگر کچھ چیزیں ایسی بھی ہیں جن کے بارے میں اگر لوگوں کو پہلے سے پتہ ہو تو شائد وہ کینیڈا نہ آئیں

 

جو لوگ  قانونی  طریقوں  پر  یقین نہیں رکتھے  اور شارٹ کٹ کے زریعےہی آگے  بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں وہ جان  بوجھ کر حقایق کو نظر انداز کرتے ہیں, انھیں  انکے دوست مشورہ دیتے ہیں کہ بس ایک بار کسی بھی ویزا پر نکل لو اور وہاں جاکرقانونی پناہ  کے لیے اپلائی کر دینا ، اب معاملہ اتنا سادہ نہیں رہا ، نائن االیون کے بعد  دنیا بدل چکی ہے- آپکی ڈیڑھ ہوشیاری دنیا کے کسی بھی حصے میں آپکو دہشت گرد قرار دلواکر سلاخوں کے پیچھے ک سکتی ہے ، دنیا کے ہر ایرپورٹ پر انتہائی مستعد، اپنے کام میں ماہر ایسے لوگ اپکا انتظار کر رہے ہوتے ہیں جو اس بات پر یقین نہیں کریں گے کہ آپ بے روزگاری سے تنگ آکر جعلی پاسپورٹ پر آنے پر مجبور ہوئے ،وہ یہ کہیں گے کہ ہمیں آپ القاعدہ کے لوگ لگتے ہیں ،پہلے ہم اسکو کیوں نہ چیک کریں .

مختصر یہ کہ میری نظر میں بیرون ملک جاکر ڈالرز کمانے اور اچھی زندگی گزارنے کے اصل ضرورت مند تو تو بہت ہی غریب اور فٹ پاتھ پر اخبار بیچنے والےلوگ ہیں مگرافسوس کی بات یہی ہے کہ انکو کوئی اپنے ملک میں داخل نہیں ہونےدے گا کوئی نہیں چاہتا کہ ان پڑھ اور غیر ہنر مند افراد آکر وہاں بسیں اور انکے معاشرے پر ایک بوجھ بنیں -، دوسرے نمبر پرایسے لوگوں کو بھی جانا چاہیئے جو  ڈاکٹرز ، انجنیرز، آرکیٹیک ، اور لیکچرا ر ہیں-  جو کچھ عرصے کے لیے بھی جائیں تو اپنی تعیلم و تجربے کی بنیاد اعلی  مشاہرہ اور بہترین سہولیات حاصل کرتے ہیں . انکا کہیں بھی جانا ملک وو قوم کے لیے فخر کی بات ہے ،وہ دنیا بھر میں  عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں

جو لوگ نہ اچھی تعلیم رکھتے ہیں نہ تجربہ اور ملک میں رہکر بھی کبھی کچھ نہ کر سکےوہ بیرون ملک کے خواب نہ ہی دیکھیں تو انکے لیے اچھا ہے – خواب دیکھنے کی  بجائے اپنے ملک میںرہکر خوب محنت سے کام کریں ، ہنر سیکھیں، کاروبار کریں اور اپنے آپکو منوائیں یہی انکے حق میں بہتر ہے …

کچھ روز قبل میں نے قسم علی شاہ کی یہ ویڈیو اپنے فیس بک پر شئیر کرتے ہوئے یہ بات کہی کہ مجھے انکے نقطۂ نظر سے نہ صرف اتفاق ہے بلکہ میں یہ ویڈیو نوجوانوں کے لیے بہت فائدہ مند بھی سمجھتا ہوں – اگر آپ تلاش روزگار میں باہر جانے کا سوچ رہے ہیں تو یہ ویڈیو ضرور دیکھیے گا

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے