صفحہ اول / دنیا / انسانیت پناہ کی تلاش میں – یورپ سے ایشیا تک

انسانیت پناہ کی تلاش میں – یورپ سے ایشیا تک

جرمنی نے سال کے اختتام تک مجموعی لحاظ سے آٹھ لاکھ افراد کو پناہ دی


خالد شیخ 

migration to europe

ابھی پچھلے ہی سال کی بات ہے ، بحرِ مردار کی چنچل لہروں سے اٹکھیلیاں کرتی ، نیم عریاں بِناتِ یہود ، دنیا کی توجہ پہلے اپنی طرف پھر اپنے توسط سے بحرِ مردار میں کم ہوتی ہوئی پانی کی سطح کی طرف مبذول کرانا چاہتی تھیں۔ پہلے مقصد کی بھر پور کامیابی کے بعد اس بات کی امید بڑھ جاتی ہے کہ لوگ بحرِ مردار پر بھی توجہ دیں۔ ایک ماحولیاتی ادارے کی جانب سے بحرِ مردار کو ساحلِ مراد میں تبدیل کرنے کی کوشش اور سطحِ آب کے اتر جانے کی بات اپنی جگہ مگر انہیں دنوں بحیرہِ روم میں دم توڑتی زندگی نے آنکھوں میں پانی کی سطح کو بلند کر دیا تھا ۔

یورپ کی طرف ہجرت کرنے والے گھرانے ، تکلیف دہ راستوں ، حوصلہ شکن مشکلات اور نامساعد حالات سے لڑتے جھگڑتے ، ملکوں ملکوں خاک چھانتے پھر رہے تھے ۔ عارضی ٹھکانوں کی تلاش میں ہمیشہ کے زخم پانے والے ان تارکینِ وطن میں کچھ ایسے بھی تھے جن کے معصوم بچے والدین کی گود میں دم توڑ گئے۔ کچھ ایسے بھی تھے کہ پورا پورا کنبہ کسی ملک میں پناہ کی تلاش میں نکلا اور ملکِ عدم جا پہنچا ۔ کبھی کسی ساحل پر روکے گئے تو کبھی زمین پر کھنچی نادیدہ سرحدوں میں محصور کر دیئے گئے۔

مجموعی لحاظ سے یورپ میں پناہ کی درخواست دینے والوں کی تعداد لاکھوں میں رہی اور لاکھوں افراد اپنی زندگی داو پر لگا کر وہاں پہنچے ۔ یورپی اتحاد ( یونین) کے اپنے بھی بہت سے مسائل ہیں جن میں یونان سمیت مشرقی یورپ کے کمزور معشت والے ممالک بھی ہیں جو یورپی اتحاد پر ایک اقتصادی بوجھ بنے ہوئے ہیں ۔ مگر اس کے با وجود یورپ بہرحال مشرق وسطیٰ والی خانہ جنگیوں سے محفوظ ہے ۔ جہاں خانہ جنگی سرحدوں کی قید سے آزاد دندناتی پھرتی ہے ۔

انسانیت کو اپنے قدموں میں روندتی یہ خون آشام جنگیں کب رکیں گی یہ بات کوئی بھی وسوق سے نہیں کہہ سکتا ۔ ان ممالک کے شہری ان جنگوں سے تنگ آکر اپنی بقا کی جنگ لڑنے جوق در جوق یورپ کے ساحلوں کا رخ کر تے رہے ہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ جنگ کی کوئی شکل بھی آسان نہیں ہوتی ، اپنی بقا کی اس جنگ میں ان بے تیغ سپاہیوں نے اپنی گودوں کے لال گنوائے ہیں ۔

ابتدا میں ان تارکینِ وطن کے لیے یورپ کا طرزِ عمل غیر واضح اور مبہم تھا ان لوگوں کو نہیں معلوم تھا کہ آخر کس ملک میں انہیں پناہ مل سکے گی ۔ ایسے میں جرمنی کی چانسلر انجیلنا مرکل نے یورپی اتحاد کی مشترکہ حکمتِ عملی کی صدا بلند کی ، اور اہلِ مغرب کو انسانیت دوستی کا سبق یاد دلایا اور علان کیا کہ جرمنی اپنے ملک میں ایک بڑی تعداد میں ان تارکینِ وطن کو پناہ دے گا۔ ہر چند کے مرکل کے اس

طرزِ عمل پر تنقید بھی ہوئی مگر بہرحال مرکل کی محنت کسی حد تک رنگ لائی اور یورپی اتحاد میں کچھ اور ممالک نے بھی ہامی بھری ۔ مرکل کے جرمنی نے سال کے اختتام تک مجموعی لحاظ سے آٹھ لاکھ افراد کو پناہ دی۔ دیگر ممالک نے بھی اس کارِ خیر میں کچھ نہ کچھ حصہ ڈالنے پر رضامندی تو ظاہر کی ۔ جن میں برطانیہ اور سنا تھا کہ امریکہ بھی شامل ہے ۔ مگر کچھ ممالک نے صاف انکار کردیا تھا کہ وہ کسی غیر ملکی کو پناہ نہیں دیں گے اور اپنی معیشت پر کوئی بوجھ برداشت نہیں کریں گے۔

جب انکار کی گنگا بہنے لگی تو اسرائیل نے بھی ہاتھ دھو لیے اور اعلان کر دیا کہ اسرائیل کسی کو پناہ نہیں دے گا ۔ تاریخ کے آئینے سے منہ چھپائے اسرائیل کے وزیرِ اعظم نے یہ بیان تو دے دیا مگر دنیا جانتی ہے کہ اسی قوم نے ماضی میں ایسی ہی پناہ گزینی کے لیے ملکو ں ملکوں خاک چھانی ہے ۔ مگر اب اسی قوم نے طے کیا تھا کہ اپنی سرحد کو خاردار تاروں سے محفوظ کیا جائے گا ۔ اپنی اسی محافظت کے تناظر میں اسرائیل نے اسی ساحلی پٹی پر دنیا کا سب سے بڑا قید خانہ بھی تعمیر کیا ہے ۔ جیسے ہم غزہ کے نام سے جانتے ہیں ۔

حال ہی میں اقوامِ متحدہ کی رپورٹ سامنے آئی ہے جس کے مطابق بیس لاکھ نفوس پر مشتمل یہ قید خانہ اب نا قابلِ رہائش ہو جاتا ہے ۔ ایک تو ویسے ہی غزہ میں پینے کے پانی کی قلت تھی یعنی غزہ میں موجود نوے فیصد پانی نہ پینے کے قابل ہے نہ ہی نہانے ، برتن دھونے کے، جو دس فیصد پینے کا پانی بچا ہے وہ بھی پنجہ یہود میں ہے ۔ پانی اہم اور بنیادی ضرورت ہے جس کے بغیر زندگی ممکن نہیں ہوتی ۔ اسرائیل ان غریب غزہ والوں کا پانی استعمال کر رہا ہے تاکہ غزہ میں پینے کے پانی کی ایک ایک بوند تک خشک ہو جائے ۔

اب پانی تو ایک طرف ہوا ، دوسری طرف ، پچھلی جنگ میں تاک تاک کر غزہ کے اسکول، ہسپتال ، پل برداد کئے گئے ۔ اسرائیل کی یہ غلطی کسی بے دھیانی میں نہیں ہوئی بلکہ ایک منصوبے کے تحت غزہ کو اس مکاری سے برباد کیا جا رہا ہے تاکہ جلد از جلد یہ بستی ناقابلِ رہائش ہو جائے اور یہاں کی آبادی کے پاس نقل مکانی کے علاوہ چارہ نہ ہو۔ 2014

کی جنگ میں 45 ہسپتال تباہ کردیے گئے غزہ اتنا بڑا شہر تو ہے نہیں کہ ہزاروں ہسپتال ہوں کل 60 ہسپتال تھے 45 توڑ تاڑ کے برابر کردیے چھوٹے طبعی مراکز اسکے علاوہ پھونک ڈالے۔ سڑکیں ، پل ، پانی کے ذخائر، بجلی کی کمپنی سب پر حملہ کر کے برباد کردیا۔ نہ جان مال کی ضمانت ، نہ رہنے سہنے کی سہولت، کاروبار سارے چوپٹ ، ہمہ وقت دشمن کا خوف ناگ کے پھن کی طرح سر پر لہرا رہا ہے ۔اگر قید خانہ بھی کہو تو دنیا کا بد ترین قید خانہ ہوگا ۔یہ ساری کوششیں اس لیے کی جارہی ہیں کہ غزہ کی بستی انسانوں سے خالی ہو جائے اور یہاں کی آبادی کومجبوراً نقل مکانی کر نی پڑے جو آخر کو ہونا ہی ہے بھلا کب تک کوئی آبادی ان حالات میں جی سکتی ہے ، جبکہ حالات دن بہ دن خراب سے خراب تر کئے جارہے ہوں۔ شہر کی 25 فیصد آبادی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کے مراکز میں رہتی ہے کیونکہ ان کے آشیانے اسرائیل اُجاڑ چکا ہے ۔ باقی بھی سکون سے گھروں میں نہیں بیٹھے ، تجارت پہ پہرے ،معیشت تباہ، زراعت برداد، ماہی گیری کی صنعت خطرے کی باریک لکیر پر لڑکھٹرا رہی ہے ، یعنی مستقبل میں جینے کے اثار معدوم ہوئے جاتے ہیں۔

اب یہ بیس لاکھ کی آبادی جائے تو کہاں جائے ؟ کہے تو کس سے کہے؟ مغربی کنارے ( ویسٹ بنک) جانے کیلیے اسرائیل پار کرنا پڑتا ہے جو غزہ میں رہنے سے زیادہ مشکل ہے ۔ پڑوسی مسلم ملک مصر نے شاید اسی بڑی نقل مکانی کو بھانپ کر پہلے ہی اپنی سرحدوں پر کیل کنڈے مظبوط کر لیے ہیں ۔ اگلے چند سالوں میں سر اٹھانے والا یہ مسئلہ کیسے حل کیا جائے گا اور یہ آبادی کہاں کھپائی جائے گی ؟ یا پھر شامی ،عراقیوں کی طرح یہ بھی دربدر خاک چھانتے پھریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے