صفحہ اول / سیاحت / تر کی / انگریزی سیکھنے والے طلبہ سیاحوں کو انگریزی میں مدد دیتے ہیں – ترکی کا حیرت انگیز سفر نامہ ایک پاکستانی نوجوان کی زبانی

انگریزی سیکھنے والے طلبہ سیاحوں کو انگریزی میں مدد دیتے ہیں – ترکی کا حیرت انگیز سفر نامہ ایک پاکستانی نوجوان کی زبانی

آیا صوفیہ کی یادیں 

اتنی پرانی عمارت اور روزانہ ہزاروں لوگوں کی آمد ، فرش کئی جگہ سے بیٹھ گیا تھا۔ آیا صوفیہ کے ہی ایک ھال میں بڑی سی سکرین لگا کر اُس کی تاریخ اورمختلف حصوں کے حوالے سے بتایا جا رہا تھا ۔ چند لوگ کانوں میں کھوپے ( ہیڈ فون) لگائے بھی گھوم رہے تھے۔آیا صوفیہ کے باہر ٹکٹ گھر کے پاس ہی ایک خوبصورت کاؤنٹر یاد آیا جس کی پیشانی پر مختلف ممالک کے جھنڈےبنے تھے اور زبانیں درج تھیں۔ جن میں امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس، جاپان اورسعودیہ وغیرہ شامل تھے۔ زبانیں تو اردو ،پنجابی اور ہندی بھی بڑی ہیں اور "چلتی” بھی بہت ہیں، لیکن ظاہر ہے یہاں بڑی زبانوں سے مراد وہ زبانیں ہیں جن کے بولنے والے سیاحت میں ہم دیسیوں سے بہت آگے ہیں۔  اب آتے میں نمک کے برابر ہم ایسوں کے لئے وہ اتنا "کشت” (تکلیف)کیوں کریں۔

جولائی کی دھوپ اور آیا صوفیہ کے باہر

 

 بلو ماسک یعنی نیلی مسجد ترکی کی پہچان بن گیا 

آیا صوفیہ سے نکلے تو صبح کی نسبت موسم قدرے گرم تھا اگرچہ پسینہ یا شدید گرمی والی کیفیت نہیں تھی۔ اگلی منزل بلیو ماسک تھی ۔ لیکن اُس سے پہلے بہت ضروری کام موبائل سم خریدنا تھی۔ گزشتہ روز ائیر پورٹ پر موبائل کمپنی کا سسٹم ٹھیک نہ ہونے کے باعث موبائل سم نہیں خرید سکے تھے ۔عُمر فاروق کو جب بتایا تو اُس نے کہا کہ ممکن ہےسسٹم ٹھیک نہ ہو لیکن اکثر لوگ انگریزی بولنے کے ڈر سے گل بات سسٹم پر ڈال دیتے ہیں۔

خیر ہوٹل میں تو وائی فائی کی سہولت تھی اورپاکستان میں سب کو خیر خیریت سے پہنچنے کی اطلاع کر دی تھی۔ لیکن ایسے ملک میں جہاں انگریزی بہت کم لوگ جانتے ہوں ، وہاں گوگل ٹرانسلیٹر اور گوگل میپ کے بغیر زیادہ رسک نہیں لیا جا سکتا تھا کہ وقت کم اور مقابلہ سخت تھا۔ سو ہمیں فوری طور پر موبائل سم خریدنا تھی۔ میں نے والد صاحب کو درخت کی چھاؤں اور سیاحوں کے گھرمٹ میں بینچ پر بٹھایا اور خود سم خریدنے چل پڑا۔ سلطان احمد کے علاقے میں بہت سے لڑکے لڑکیاں نظر آئے تھےجنہوں نے نیلے رنگ کی شرٹیں پہن رکھی تھیں اور شرٹ کے اوپر لکھا تھا”آسک می” ۔

پہلی نظر میں لگا کہ کسی پروفیشنل کمپنی کے گائیڈ ہیں۔ خیر ایک ایسے ہی گروپ سے موبائل سم خریدنے کے لئے معلومات لیں تو اُس نے نہ صرف رہنمائی کی بلکہ ساتھ چل پڑا اور100 لیرے میں ہمیں 4 جی بی انٹر نیٹ کا کنکشن خرید کر دیا۔ جب "آسک می” کے بارے میں پوچھا تو میرے گائیڈ مظلوم اور آنیہ نے بتایا کہ یہ سب نیلی شرٹیں پہنے لڑکے لڑکیاں یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات ہیں جو اپنی انگریزی کی استعداد کارکو بڑھانے کے لئے یونیورسٹی اور وزارت سیاحت کی اجازت سے ایسی جگہوں پر پہنچ جاتے ہیں جہاں زیادہ سے زیادہ سیاح آتے ہوں۔

ایسے ملک میں جہاں انگریزی بہت کم لوگ جانتے ہوں ، وہاں گوگل ٹرانسلیٹر اور گوگل میپ کے بغیر زیادہ رسک نہیں لیا جا سکتا تھا کہ وقت کم اور مقابلہ سخت تھا

یہ لوگ سیاحوں کو معلومات فراہم کرتے ہیں، اُن سے بات چیت کے ذریعے اِن لوگوں کی انگریزی سمیت کیمونیکشن سکلز امپروو ہوتی ہیں اور باقی دنیا کے لئے اُن کے لئے رستے کھلتے ہیں۔ مظلوم اور آنیہ نے اپنے دوستوں سے بھی ملوایا۔ یہ سب لوگ اور اِن جیسے اور لوگ بھی اِن سروسز کے کوئی پیسے نہیں لیتے اور صرف اور صرف سیکھنے کےغرض سے یہاں آتے ہیں۔

سلطان احمد کے علاقے میں "آسک می” کے رضاکاروں کے ہمراہ

  مکئی کا سٹہ ترکی میں بھی ملتا ہے

سلطان احمد کے علاقے میں ہی ایک لوہے کا مینار کی باقیات بھی تھیں۔ دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کہ کوئی تاریخی حیثیت کا حامل ہو گا۔ مظلوم نے بتایا کہ یہ یونانیوں کی بنائی گئی صلیب تھی جسے عثمانیوں نے فتح کے بعد توڑ دیا۔ تاریخ ہمارے ارد گرد بکھری پڑی تھی۔ میں نے موبائل سم لی اور سب کا شکریہ ادا کرکے واپس والد صاحب کے پاس آگیا۔

یہاں خوبصورت ریڑھیوں پر مکئی کے سٹے، پھل اور سمتھ مل رہے تھے۔ ہم نے ڈھائی لیرے میں مکئی کا سٹہ خریدا جو ہمارے پاکستانی سٹے کے مقابلے میں کافی میٹھا اور رسیلا تھا۔ اِسی طرح کچھ تربوز لئے اور یوں ہلکی پھلکی بھوک کا علاج بھی ہو گی اور ترک پھلوں کے ذائقےسے آشنائی بھی۔ اتنے میں ظہر کی آذان کی آواز سنائی دینے لگی اور ہم بلیو ماسک کی جانب چل پڑے۔

یونیانیوں کی بنائی گئی صلیب کی باقیات

بلیو مسجد  ترکی کی پہچان ہے

یہ ہمارا ترکی میں کسی بھی مسجد میں پہلا تجربہ تھا ۔مسجد کو دیکھنے آنے کے لئے سیاح بڑی تعداد میں موجود تھے لیکن انتظامیہ کے انتظامات متاثر کن تھے۔ وضو کے لئے داخلی دروازے سے باہر ہی انتظام موجود تھا۔ تمام آنے والوں کو انتظامیہ کی جانب سے شاپنگ بیگ فراہم کئے گئے تاکہ وہ اپنے جوتے اُن شاپنگ بیگ میں ڈال لیں اور دھول مٹی مسجد میں نہ رہ جائیں۔ مجھ سمیت اکثریت نیکر میں ملبوس تھی، لیکن شکر کہ میری شرعی نیکر (لانگ نیکر) کے باعث مجھے مسجد میں داخل ہونےدیا گیا۔اکثر سیاح مغربی لباس میں تھے ۔

انتظامیہ میں موجود خواتین کارکنان کی جانب سے "قابل اعتراض” لباس والی خواتین کو عبایہ اور سکارف دیے گئے جنہیں پہن کر وہ مسجد میں داخل ہو سکیں ۔ مجھے گوردوارہ پنجہ صاحب یاد آگیا جہاں ہم بچپن میں اکثر جاتے اور ہمیں سنہرے رنگ کی چمکتے رومال دیے جاتے جو ہم سر پر باندھ لیتے۔خیر بہت بڑی تعداد میں لوگ نماز کے لئے موجود تھے۔

مرکزی ھال میں داخلے کے وقت بائیں جانب الگ سے صف بنی ہوئی تھی جبکہ دائیں جانب خواتین کی صفیں موجود تھیں۔ بائیں جانب والی صف دیکھ کر پہلی نظر میں گمان ہوا کہ شاید کسی اور فرقے کے لوگ ہیں۔ لیکن بعد میں پتا چلا کہ یہ جگہ موذن اور تکبیر کہنے والے کے لئے مختص ہے اور وہ اپنے ساتھ ایک صف بنا کر جماعت کا حصہ بنتا ہے۔ اِس کی تفصیل آگے لکھنے کی  کوشش کروں گا۔ مرکزی ھال کی خوبصورتی اپنی مثال آپ ہے۔

(جاری ہے )
گزشتہ اقساط یہاں پڑھیں 

 

مسجد سلطان احمد کی معلومات کے سینٹر کا بورڈ

بلیو ماسک یا مسجد سلطان احمد کو اگر استنبول بلکہ ترکی کی پہچان کہا جائے تو بے جا نا ہو گا۔ بلیو ماسک سلطان احمد اول کے دور حکومت میں1609 ء سے 1616ء کے درمیانی عرصے میں بنایا گیا۔ ترکی میں بننے والی مساجد کے پروٹوکول طے تھے ۔تب تک ترکی میں بننے والی عام مساجد میں ایک مینار تعمیر کیا جاتا تھا ، کسی بھی شہزادے یا شہزادی کی تعمیر کی گئی مسجد میں 2 مینار اور سلطان کی دیگر بنائی گئی مساجد میں 4 مینار رکھے جاتے تھے۔

مسجد سلطان احمد کی تعمیر کے دوران ایک بہت ہی دلچسپ مرحلہ بھی آیا۔ جب مسجد سلطان احمد کی تعمیر مکمل ہوئی تو اُس میں 6 مینار تھے۔ جب سلطان کو اِس بات کا پتا چلا کہ مسجد سلطان احمد میں 6 مینار ہیں تو وہ سخت ناراض ہوا کیونکہ اِس سے پہلے 6 مینار صرف مسجد الحرام کے تھے۔لہذا سلطان کے حکم پر فوری طور پر مسجد الحرام میں ایک مینار کا اضافہ کیا گیا اور یوں مسجد الحرام میں میناروں کی تعداد 7 ہو گئی۔ یہ عظیم و شان مسجد اُس وقت کے معروف آرکیٹیکٹ محمد آغاز کی نگرانی میں تعمیر ہوئی۔ مسجد میں 6 مینار ، 5 بڑے گنبد اور 6 چھوٹے گنبد بنائے گئے۔

مسجد کے گنبد کے اندرونی حصوں پر خوبصورت خطاطی اپنے وقت کے معروف خطاط سید قاسم گبادی نے کی۔

مسجد کے اندرونی حصوں میں خوبصورت خطاطی کی گئی اور یہ کام اپنے وقت کے معروف خطاط سید قاسم گبادی نے کیا ۔مسجد میں200 سے زائد کھڑکیاں ہیں جن پر لگے رنگ برنگے شیشے دلکشن منظر پیش کرتے ہیں۔ یہ شیشے سلطان کو وینس حکومت نے تحفے میں دیے تھے۔ سلطان تب طاقتور حکمران تھا اور طاقتور حکمرانوں کو تحائف ملتے ہی ہیں۔

امریکہ میں ہر صدر کے رخصت ہونے پر اُسے ملنے والے تحائف کی فہرست اور مالیت میڈیا میں اناؤنس کی جاتی ہے۔ خیر سے سب سے مہنگے تحائف عرب حکمرانوں کی جانب سے د یے جاتے ہیں۔ ایک وقت تھا مسلمان حکمرانوں کو یورپ سے تحائف ملتے تھے ، اب مسلمان حکمران بیش قیمت تحائف دیتے ہیں۔ مسجد کے صحن میں سنہری رنگ کا خوبصورت ماڈل بھی موجود تھا۔

بلیو ماسک کے باہر

(جاری ہے )
گزشتہ اقساط یہاں پڑھیں 

 


Writer Shoaib Ahmed Hashmi
شعیب احمد ہاشمی

بلاگر: شعیب احمد ہاشمی ایک این جی او کے میڈیا  ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ سے منسلک ہیں۔ فنون لطیفہ میں گہری دلچسپی  رکھتے ہیں  اور سماجیات ،انٹرٹینمنٹ اور سیر تفریح  جیسےموضوعات  پرجھک  مارنا   پسندیدہ مشغلہ ہے۔ آپ ان  سے اِن کے  فیس بک  پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

www.facebook.com/link2shoaib

2 تبصرے

  1. مزیدار اور دلچسپ سفرنامہ ، پہلے کبھی کسی نے ایسے نہیں لکھا …
    شکریہ .. جاری رکھیں …

  2. مجھے ترکی کے بارے میں جاننے کا شوق تھا اپکا آرٹیکل پڑھ کر لگا کے مینے خود سیر کی … بہت ہی اچھ لگا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے