صفحہ اول / سیاحت / تر کی / آیا صوفیہ – ترکی کے تاریخی مقام کی سیر

آیا صوفیہ – ترکی کے تاریخی مقام کی سیر

میٹرو ٹرین کے اسٹیشن پر انتظار کے لمحات

شعیب احمد ہاشمی

(چھٹ قسط)

پہلی صبح:

اگرچہ رات کو ہوٹل دیر سے آنا ہوا لیکن صبح جلدی اٹھ گئے۔ کلورین ملے پانی سے غسل کرنے کے اورکچھ ترک چینل پر تانکا جھانکی کے بعد ہم اپنی پہلی منزل "آیا صوفیہ” اور”بلیو ماسک”کی طرف چل پڑے۔ ہوٹل میں ناشتے کی سہولت موجود نہیں تھی اورناشتہ راستے میں ہی کرنا تھا۔ ہم دوبارہ تاقسم سکوائیر سے ہوتے ہوئے استقلال سٹریٹ پر تھے لیکن استقلال سٹریٹ پر وہ رات والی رونق نہ تھی۔ سُونی سُونی استقلال سٹریٹ اور اِکا دُکا لوگ. سڑکوں پر لاہور کی طرح سرکاری اہلکار دھول اور کچرہ سمیٹ رہے تھے۔ اکثر دکانیں بند تھیں جو کھلی تھیں وہاں بھی صفائی ستھرائی ہو رہی تھی لیکن کوئی کام والا یا کام والی نہیں تھی بلکہ یہ اہم ذمہ داری مالکان خود ہی سر انجام دیتے نظر آئے یا ہو سکتا وہاں کام والے بھی دکان کے مالک ہی لگتے ہیں ۔

دکان کی صفائی کرتی مالکن

 

ناشتہ:

ارادہ تھا کہ کسی مناسب ریسٹورنٹ پر بیٹھ کر ناشتہ کیا جائے لیکن استنبول دیکھنےکی جلدی میں یہی فیصلہ ہوا کہ رستے میں ہی کہیں ناشتہ کیا جائے۔ استقلال سٹریٹ میں کافی ریڑھیاں تھیں جن پر چیز، پنیر اور بیکری آئٹم کے مافق کھانے کی اشیاء تھیں۔ ہم نے بھی ایک ایسی ریڑھی پر بریک لگائی۔ ایک گرم تلوں میں لپٹا رِنگ تھا۔ جو ترکی کا معروف روائتی کھانا ہے لوگ ناشتے میں استعمال کرتے ہیں اور نام ہے "سمتھ” ۔رنگ بھی سنہری تھا سو اِسے حاصل کرنے کے بعد ہم ہوئے”گولڈ سمتھ” ۔ جلدی والے حضرات کے لئے اچھی چیز ہے اور ساتھ میں چیز تو ہے ہی۔ لوگ چیز اور پنیر لگاتے جاتے۔۔۔ کھاتے جاتے۔ ذائقہ اچھا تھا۔چلتے چلتے کھاتے گئے اور کھاتے کھاتے چلتے گئے۔ گلاٹا کے پاس پہنچ کر فریش اورنج جوس لیا۔ اب ہم دن بھر کے لئے تیار تھے۔

ترکوں کے نان کلچوں اور چھولوں کی ریڑھی

استنبول کارڈ:

استقلال سٹریٹ اور گلاٹا ٹاور کراس کرنے کے بعد ہم "ایمونونو "کے پاس پہنچ چکے تھے۔ یہاں میٹروٹرین پر سوار ہونا تھا لیکن اُس سے پہلے میٹرو ٹرین پر سواری کے لئے کارڈ لینا تھا۔ گزشتہ شب عمر اور انس نے جو بنیادی معلومات فراہم کی تھیں ، اُن میں استنبول میں سفر کے لئے ایک کارڈ بنوانا ضروری تھا جسے حاصل کرنے کے بعد ہم میٹرو ٹرین، بس اور فیری پر پورے شہر میں ٹیکسی کی نسبت بہت ہی کم قیمت میں سفر کر سکتے تھے۔ہر شہر کا اپنا کارڈ ہوتا ہے جو وہاں کی بلدیہ جاری کرتی ہے اور ہر اسٹیشن کے آس پاس کھوکھے نما دکانوں سے با آسانی مل جاتا ہے۔ سو استنبول میں اِس کارڈ کا نام استنبول کارڈ تھا۔جسے لینے کے بعد ہمارے منزل سلطان فاتح کا علاقہ تھا جہاں سب سے پہلے ہمیں آیا صوفیہ جانا تھا۔

اسٹیشن کے پاس کھوکھا نما دکان جہاں سے استنبول کارڈ دستیاب ہے۔

شیشے کی چار فٹ کی دیوار:

ایسا میٹرو ٹرین کا اسٹیشن پاکستان میں تو نہیں ہو سکتا۔ 4 فٹ کی شیشے کی دیوار اور ایک باوردی نگران جو صرف نظر رکھے ہوئے ہے۔اب اُس با اخلاق نگران کی نظر کا کمال ہے یاقومی اخلاق کا کہ کسی کی جرات نہیں جو شیشے کی 4 فٹ کی دیوار کو عبور کر سکے۔تھوڑے سے غور کرنے پر اندازہ ہو جاتا ہے کہ بغیر ٹکٹ کوئی پلیٹ فارم والے رستے سے بھی آنا چاہے تو آ سکتا ہے۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ قوموں کو عروج ایسے ہی حاصل ہوتا۔ دہائیوں کی تربیت ہے ۔ لوگ انتہائی نظم و ضبط سے آتے ہیں،لاہور اور اسلام آباد میٹرو بس کی طرح کارڈ سوویپ کرتے ہیں اور اپنی اپنی منزل کی طرف چل پڑتے ہیں۔بیٹھنے کو جگہ بھی ہے اور میٹرو ٹرین کے روٹ نقشے کی مدد سے دیکھے جا سکتے ہیں۔ سامنے ہی نیلگوں باسفورس کی رونقیں اور پلیٹ فارم پر ترک اور غیر ملکی تھے خیر ہمارے لئے تو سبھی غیر ملکی تھے۔ چند منٹ بعد ٹرین آ گئی۔ جن کی منزل آ چکی تھی وہ اتر گئے تو بقیہ لوگ سوار ہو گئے۔ کوئی دھکم پیل نہیں ۔

سلطان فاتح:

ٹرین میں بیٹھے، قریباََ سبھی نیکر میں ملبوس تھے۔ جس کو جہاں جگہ ملتی بیٹھ جاتا۔کچھ ہی دیر میں سلطان فاتح کی آواز گونجی اور یہی ہماری منزل تھی۔ ٹرین آہستہ ہوئی اور چلتی ٹرین سے کھڑکی کے باہر پُر جلال عمارات دکھائی دیں۔ خوب بارونق علاقہ تھا۔بائیں جانب آیا صوفیہ اور بلیو ماسک کی پر شکوہ عمارتیں تھیں جنہیں ہم کئی ٹی وی اور کمپیوٹر کی سکرین پر دیکھ چکے تھے اور دائیں جانب ایک زندگی سے بھر پور بازار۔ ہم جیسے بتیاں دیکھنے آنے والوں کو متوجہ کرتی سجی سجائی خوبصورت دکانیں تھیں۔ لیکن ہم نے آیا صوفیہ کا رُخ کیا۔

سلطان فاتح کے علاقے کی رونقیں

آیا صوفیہ:

پوچھتے پاچھتے اور دیکھا دیکھی لائن میں لگ گئے۔ یہاں ہم نے میوزیم پاس بنوایا جو 85 لیرا کا تھا اور 4 روز میں 25سے زائدمیوزیم دیکھنے لے لئے کافی تھا۔ جبکہ صرف آیا صوفیہ کے لئے ٹکٹ خریدتے تو ٹکٹ نسبتاََ مہنگی پڑتی۔اب آیا صوفیہ کی پرشکوہ عمارت تھی اور ہم ۔آیا صوفیہ کے بارے میں بہت کچھ سُن پڑھ چکے تھے۔ آیا صوفیہ بلاشک و شبہ دنیا کی تاریخ کی عظیم ترین عمارتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

آیا صوفیہ کے مرکزی ھال کا داخلی دروازہ

آیا صوفیہ اگرچہ چوتھی صدی عیسوی میں تعمیر کیا گیا لیکن اب کے آیا صوفیہ میں چوتھی صدی عیسوی میں تعمیر ہونے والے گرجے کے کوئی آثار موجود نہیں ہیں۔ تاریخی حوالوں کے لحاظ سے چوتھی صدی عیسوی میں تعمیر ہونے والے گرجے آیا صوفیہ کی تباہی کے بعد قسطنطین اول کے بیٹے قسطنطیس ثانی نے اسے تعمیر کیا ۔ تاہم 532ء میں یہ گرجا بھی فسادات و ہنگاموں کی نذر ہوگیا۔ اسے جسٹینین اول نے دوبارہ تعمیر کرایا اور 27 دسمبر 537ء کو یہ مکمل ہوا۔ یہ گرجا اشبیلیہ کے گرجے کی تعمیر تک ایک ہزار سے زائد عرصے تک دنیا کا سب سے بڑے گرجے کی حیثیت سے دنیا بھر میں مسیحوں کی نگاہوں کا مرکز رہا۔ آیا صوفیہ متعدد بار زلزلوں کا شکار رہا جس میں 558ء میں اس کا گنبد گرگیا اور 563ء میں اس کی جگہ دوبارہ لگایا جانے والا گنبد بھی تباہ ہوگیا۔ 989ء کے زلزلے میں بھی اسے نقصان پہنچا۔ 1453 ء قسطنطنیہ کی عثمانی حکومت میں شمولیت کے بعد آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کر دیا گیا ۔ آیا صوفیہ کی یہ حیثیت 1935ء کواختتام پذیر ہوئی جب کمال اتا ترک نے اس کی گرجے اور مسجد کی حیثیت کو ختم کرکے عجائب گھر میں تبدیل کر دیا۔ چوتھی صدی عیسوی میں رومی سلطنت مشرق اور مغرب دو حصوں میں تقسیم تھی اور مشرقی سلطنت اور شہنشاہ کو بازنطینی کہا جاتا تھا۔ قسطنطنیہ سمیت رومیوں کی مشرق میں کی گئی طرز تعمیر کو بازنطینی کہا گیا اور اِس اعتبار سے آیاصوفیہ بلاشبہ بازنطینی طرز تعمیر کا ایک شاہکار تھا جس سے بعد میں عثمانی طرز تعمیر نے جنم لیا۔ عثمانیوں کی قائم کردہ دیگر مساجد شہزادہ مسجد، سلیمان مسجد اور رستم پاشا مسجد آیا صوفیہ کے طرز تعمیر سے متاثر ہیں۔ ترکی میں طیب اردگان کی مسلسل کامیابیوں سے ایک تاثر عام ہے کہ آیا صوفیہ کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ حالانکہ سرکاری سطح پر حاجیہ صوفیہ میں عبادت کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ 2006ء میں اُس وقت کے پاپائے روم بینیڈکٹ شانز دہم نے بھی حاجیہ صوفیہ کے دورے کے دوران اس حکم کی پابندی کی تھی۔ لیکن ایک گرہ کی جانب سے آیا صوفیہ میں تلاوت کا اہتمام کیا گیا اور نماز ادا کی گئی۔ بلکہ انا طولیہ کے مسلمان نوجوان اسے دوبارہ مسجد میں بدلنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں انہوں نے ایک مہم کے ذریعے ڈیڑھ کروڑ لوگوں سے دستخط بھی اکھٹے کر رکھے ہیں۔مسلمانوں کی آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیلی کی اِن کوششوں کے ساتھ ساتھ دوسری جانب قدامت پسند مسیحی بھی آیا صوفیہ کی ملکیت کے حوالے سے دعوے کر رہے ہیں۔ ان کا ایک طویل عرصے سے مطالبہ ہے کہ آیا صوفیہ کو مسیحی عبادات کے لیے دوبارہ سے کھولا جائے۔اگر اِس حوالے سے تاریخ پر نظر دوڑائیں تو استنبول کی تاریخی عمارت آیا صوفیہ بڑی طاقتوں، تہذیبوں اور مذاہب کے تصادم کی داستان سناتی ہے۔ اِس وقت بھی اِس میں موجود عیسیٰ علیہ السلام اورحضرت مریم کی شبہیات کے ساتھ ساتھ ’اللہ‘ اور ’محمد‘ سمیت خلفاء راشدین کے ناموں کی خطاطی بھی موجود ہے۔ 1453ء میں آج کے استنبول اور اُس وقت کے قستطنطنیہ کے عثمانیوں کے قبضہ کے بعد خطے سے عیسائیت آہستہ آہستہ ختم ہونے لگی ۔ ترکی کی عیسائی آبادی سو سال پہلے 20 فیصد سے کم ہو کر آج صرف 0.2 فیصد رہ گئی ہے۔ کرنے کو ڈھیروں باتیں ہو سکتی ہیں۔ لیکن فلحال آگے بڑھتے ہیں۔ ایک بڑا سا گیٹ عبور کر کے ہم ایک بڑے ھال میں داخل ہو گئے۔ بائیں جانب آدھی عمارت لوھے کے پلستر میں لپٹی ہوئی جبکہ دائیں جانب آدھی عمارت دیکھی جا سکتی تھی۔

آیا صوفیہ کے مرکزی ھال کا ایک منظر

ایسی تاریخی عمارتوں کو دیکھتے ایک خیال ہمیشہ ذہن میں آتا ہے کہ اُس وقت ایسی شاہکار عمارتیں بنانا ہی اصل کاریگری تھی۔ آج کل تو جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے ، ڈھیروں سہولیات ہیں لیکن تب ایسی بارعب عمارتیں اور نفیس کام کرنا ایک بڑا کام تھا۔ یہاں غیر ملکی بڑی تعداد میں موجود تھے۔ حضرت عیسی اور حضرت مریم کی شبہہ کے سامنے لوگ دعائیں مانگ رہے تھے، تصاویر بنا رہے تھے۔ یہاں ہمیں 3 پاکستانی خاندان بھی ملے ، ایک تو ہمارے آبائی ضلع چکوال سے تعلق رکھتے تھے۔ہمارے لئے محض ایک پر شکوہ عمارت تھی لیکن اکثریت کے لئے عقیدت۔ آیا صوفیہ تو آغاز تھا ،جیسے جیسے ترکی میں آگے بڑھے معلوم ہوا کہ یہ سارا علاقہ مشرقی رومی سلطنت بازنطینی کا حصہ ہونے کے باعث عیسائی علاقہ رہا ہے۔

 

آیا صوفیہ میں گرجے کے آثار اور شبہات

(جاری ہے)


Writer Shoaib Ahmed Hashmi
شعیب احمد ہاشمی

بلاگر: شعیب احمد ہاشمی ایک این جی او کے میڈیا  ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ سے منسلک ہیں۔ فنون لطیفہ میں گہری دلچسپی  رکھتے ہیں  اور سماجیات ،انٹرٹینمنٹ اور سیر تفریح  جیسےموضوعات  پرجھک  مارنا   پسندیدہ مشغلہ ہے۔ آپ ان  سے اِن کے  فیس بک  پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

www.facebook.com/link2shoaib

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے