صفحہ اول / سیاحت / تر کی / استقلال اور گلاٹا

استقلال اور گلاٹا

taksim_square
تاقسم سکوائر کا ایک منظر

شعیب احمد ہاشمی

(پانچوی قسط)

ہوٹلوں والی گلی

                         یہ تاقسم سکوائر کے بالکل ساتھ ایک گلی میں چھوٹا سا ہوٹل تھا۔گلی میں کافی سارے ہوٹل اور بھی تھے اور سیاحوں کی آنیاں جانیاں بتا رہی تھیں کہ آج کل خوب رش ہے۔  خیر سامان رکھا اور آرام کے غرض سے سو گئے۔ قریباً رات 9 بجے دروازہ پر دستک کی آواز سے آنکھ کھلی۔ عمر اور انس موجود تھے جن کے ساتھ ہمیں انس کے  ریسٹورنٹ جانا تھا۔ ٹف ٹائلوں والی گلی میں چڑھائی چڑھتے ہم تاقسم سکوائر  کی طرف جا رہے تھے ، اس چوڑی گلی میں کافی سارے ہوٹل تھے جس میں مزید کچھ گلیاں نکل رہی تھیں  جن میں سے کچھ تو بالکل پہاڑ جیسی اترائی پر تھیں۔ہوٹلوں کی بالکونیوں سے لٹکے گپ شپ لگاتے لوگ۔ ہوٹل کے کونے میں ایک ریڑھی پر ۳ طرح کے کباب بنائے جا رہے تھے اور لوگ کھڑے ہو کر اپنی مرضی کے مطابق نوش جاں کر رہے تھے۔ تاقسم سکوائر پر حسب معمول خوب رونق تھی۔ ہمارا رخ  تاقسم سکوائر کے دوسری جانب انس کے ہوٹل "دہلی دربار” کی طرف تھا۔

 دہلی دربار

تاقسم سکوائر میں 3،4 دیسی کھانوں کے مراکز ہیں جن میں سے ایک ہے دہلی دربار ۔ ریسٹورنٹ میں داخل ہوتے ہی پاک و ہند کی معروف دھنیں  سماعتوں سے ٹکرائیں۔ دیواروں پر پنجاب  کی ثقافت کے رنگ بکھرے ہوئے تھے۔دیسی چہرے مہرے  دیسی کھانوں سے لطف ادوز ہو رہے تھے۔ ایک سردار فیملی بھی دیسی کھانوں پر ہاتھ صاف کر رہی تھی ۔اگرچہ دیسی کھانے ہماری ترجیحات میں نہیں تھے لیکن چونکہ یہ عمر اور انس کی طرف سے دعوت تھی سو ترکی پہنچتے ہی پہلا باضابطہ کھانا بھی ہمیں پاکستانی ہی ملا۔  یہاں کھانے کے ساتھ ساتھ عمر اور انس سے ان کے ترکی آنے  سے لے کر اُن کےتجربات اوراپنے دورے کی منصوبہ بندی   پر  گپ شپ رہی۔ ہم چونکہ تھوڑی نیند کر چکے تھے اس لئے فوری طور پر چہل قدمی  کا ارادہ تھا۔ سو عمر کی تجویز پر  استقلال سٹریٹ سے ہوتے گلاٹا  ٹاور کا رخ کیا۔

ڈاکٹر عبد اللہ شاہ ہاشمی دہلی دربار پر احکامات (کھانوں)کی فہرست (مینو)دیکھتے ہوئے

 استقلال سٹریٹ

                    گلاٹا ٹاور جانے کے لئے ہمیں استقلال سٹریٹ سے گزرنا تھا، یوں تو تاقسم سکوائر کے چاروں طرف ہی اک میلہ لگا رہتا ہے لیکن استقلال سٹریٹ کی روشنیاں ان سب میں نمایاں ہیں۔سڑک  کے بیچو بیچ ٹرام کی پٹری پر کام ہو رہا تھا لیکن اس کے باوجود نہ دھول مٹی اور نہ کوئی شور شرابہ۔کام کرنے والے ہیلمنٹ اور دستانے پہنے جدید مشینری کے ذریعے کام میں مگن تھےجن کے گرد جستی دیواریں بنی ہوئین تھیں۔ ہم بتیاں دیکھتے آگے بڑھ رہے تھے ۔ فاسٹ فوڈ،ترک کھانوں اور مٹھائیوں کی رنگ برنگ دکانوں پر خوب رش تھا۔موسم گر م  تھا اور اکثریت کا لباس بھی موسم کی مناسبت سے ہی ، جسے دیکھ کر یورپ کی کسی بھی چوراہے کا گمان ہوتا تھا ویسے بھی تھے تو ہم یورپ میں ہی۔ گارمنٹس سٹور پر کپڑوں کے نام پر چیتھڑوں کی نمائش  جاری تھی اور خریداروں کا رش۔مرکزی سڑک میں سے بھی چھوٹی چھوٹی گلیاں نکل رہی تھیں اور اندر کرسیوں پر لوگ بیٹھے  کافی اور الکوحل کی چسکیاں لے رہے تھے۔ گزرتے گزرتے ہر 5 منٹ بعد مو سیقی کے آلات سے خوبصورت دھنیں  تشکیل دیتے لڑکے لڑکیوں پر نظر پڑتی۔جو مانگ نہیں رہے تھے لیکن لوگ خود ہی سکے اور نوٹ اُن کے سامنے پڑے تھیلے میں ڈالتے جا رہے تھے کہ وہاں مانگنے کا یہی طریقہ ہے۔

استقلال سٹریٹ کی روشنیاں

فنکار آئس کریم فروش

ہر 50 قدم پر جلتی بجھتی تیز روشنیوں اور  تیز میوزک کی اونچی آوازوں کے ساتھ کالے رنگ  کی پینٹ بشرٹ میں ہٹے کٹے  لڑکے لڑکیاں دیکھنے کو ملتے ’’نائٹ کلب‘‘میں آجارہے تھے۔عربی انگریزی میں بورڈ لگے ہوئے تھے۔ہمیں دعوت نہیں تھی ورنہ اردو میں بھی بورڈ ہوتا۔ سب سے مزیدار آئس کریم کے ٹھیلے تھے جہاں مونچھوں والے دکاندار سرخ ٹوپی اور شیشوں والی سنہری  واسکٹ   پہنے بڑے سے چمٹے سے آئس کریم کُوٹ رہے تھے اور اچانک وہی چمٹا اوپر لگی گھنٹیوں  سے ٹکراتے جس سے اچانک سب متوجہ ہو جاتے۔ اُس پر  اِن فنکاروں کا آئس کریم ل خریدنے والوں سے آنکھ مچولی۔ لوگ لطف اندوز ہو رہے تھے، ویڈیو بنا رہے تھے۔  ہم بازار کی رونق دیکھتے گلاٹا ٹاور کی جانب چل رہے تھے۔ کوئی 35 منٹ  پیدل چلنے کے بعد سیاحوں کے رش  پیچھے رہ گیا۔ سڑک  کے کنارے بڑی بڑی  بارعب عمارتیں تھیں ، لوگ اکا دکا۔یہاں زیادہ تر دکانیں بند تھیں ۔رات کافی بیت چکی تھی ۔بڑی سڑک ختم ہونے پر ایک تنگ بازار، اترائی اور گلاٹا ٹاور۔

استقلال سٹریٹ کے فنکار آئس کریم فروش

 گلاٹا ٹاور

گلاٹا ٹاور کا بڑا نام ہے اور استنبول کی شناخت کا اہم جزو بھی اور کیوں نہ ہو تاریخی اہمیت سے ہٹ کربھی آپ استنبول میں جہاں بھی چلے جائیں گلاٹا سر نکالے مسکراتا دکھائی دے گا۔ رات کو  سفید اور پیلی روشنیوں میں نہایا پروقار  گلاٹا ٹاور- ایسے لگ رہا تھا جیسے اپنی تاریخ اور اہمیت پر ناز ہو۔رومن فن تعمیر کا یہ نمونہ 1348 میں ٹارو آف مسیح کے طور پر تعمیر کیا گیا جس کی اونچائی قریباََ218 فٹ ہے اور یہ اُس وقت میں استنبول کی سب سے اونچی عمارت تھی۔یہ مختلف ادوار میں بنتا بگڑتا رہا۔ اس وقت گلاٹا میں ایک   چھوٹا میوزیم موجود ہے اور مینار پر ایک ریسٹورنٹ ۔ اوپر جانے کو سیڑھیاں اور لفٹ دونوں موجود ہیں جس سے پورے شہر کا نطارہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ڈیڑھ بج رہے تھے اور اُس وقت یہ سب ممکن نہیں تھا۔ ارد گرد ریسٹورنٹ موجود  تھے جس میں کچھ ہی لوگ بیٹھے تھے۔ہم نے گلاٹا کو قریب سے دیکھنے کی نیت سے قدم اٹھایا اور طواف کرتے ہوئے دوسری طرف قدرے اندھیرے میں سیڑھیوں پر چڑھنا شروع کیا ۔یہاں دو ہیولے  راز و نیاز میں مصروف تھے۔2بجنےوالے تھے لہذا گلاٹا  ٹاور کو دوبارہ یاترا ترک کرکے ایک نئے رستے سے واپسی کا سفر شروع کیا۔

گلاٹا ٹاور اور یاتری

آتے ہوئے اترائی  اور بازار کی خوب رونق تھی  جبکہ  واپسی پر چڑھائی اور کوئی  سنسان محلہ لیکن ایسی خوبصورت کشادہ گلی تھی کہ جی چاہا کہ یہیں رہا جائے۔ایک گھر کے باہر کرسیاں بچھائے ایک جوڑا مے نوشی میں مصروف تھا۔ہم نے ہیلو کے ساتھ رستہ کنفرم کیا ۔یہاں زیادہ تر سرکاری دفاتر تھے ۔ایک آدھ آنے جانے کے علاوہ  سنسان گلیاں تھیں۔ تھوڑی تھوڑی دیر میں کسی شرابی کے لڑکھڑانے  سے سکوت توٹتا

۔استقلال سٹریٹ ہمارے ساتھ ساتھ چل رہی تھی، مسلسل خاموشی سے تنگ ہم ایک گلی میں گھسے اور  دوبارہ استقلال سٹریٹ میں آ گئےجہاں وہی پہلی سی رونق تھی۔استقلال سے تاقسم اور وہاں سے ہوٹل پہنچے اور سو گئے۔ کہ صبح باقاعدہ استنبول میں پہلا دن تھاْ۔

(جاری ہے)


Writer Shoaib Ahmed Hashmi
شعیب احمد ہاشمی

بلاگر: شعیب احمد ہاشمی ایک این جی او کے میڈیا  ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ سے منسلک ہیں۔ فنون لطیفہ میں گہری دلچسپی  رکھتے ہیں  اور سماجیات ،انٹرٹینمنٹ اور سیر تفریح  جیسےموضوعات  پرجھک  مارنا   پسندیدہ مشغلہ ہے۔ آپ ان  سے اِن کے  فیس بک  پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

www.facebook.com/link2shoaib


 

 

 

 

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے