صفحہ اول / سیاحت / تر کی / جدہ سے استنبول – ترکی میں گذارے چند روز کی سرگزشت

جدہ سے استنبول – ترکی میں گذارے چند روز کی سرگزشت

  پہلا پڑاؤ تاقسم سکوائیر میں 
Taqsim square Turkey
 شعیب احمد ہاشمی

قسط نمبر٣

 

جدہ ائیر پورٹ :
شیشے کی دیواروں سے باہر دھوپ اور ریت چمک رہی تھی۔ جدہ ائیر پورٹ کی حالت قریباََ بے نظیر بھٹو شہید راولپنڈی ائیر پورٹ جیسی ہے۔ جدہ میں عرصہ دراز سے مقیم ہمارے دوست محمد علی الدین سے جب بات ہورہی تھی تو انہوں نےبتایا کہ جدہ میں ایک جدید ائیر پورٹ تکمیل کے مراحل میں ہے ۔ہماری دعا ہےکہ جلد از جلد جدہ ائیر پورٹ کی نئی عمارت بن جائے لیکن کیا نئی عمارت میں بھی یہی عملہ تعینات ہو گا یا اُس کی تربیت کے حوالے سے بھی کوئی انتظام ہو گا ۔میں یہ سب باتیں اِس لئے کر رہا کہ اِس سفر میں استنبول سے جدہ واپسی پر مجھ سمیت دیگر مسافروں سے کو انتظامیہ کی جانب سےنامناسب رویے کا سامنا کرنا پڑاجس کی تفصیلات آنے والی روداد کا حصہ ہو ں گی ۔

Turkey airport
جدہ ائیر پورٹ کے ھال کا ایک منظر

بہر حال ائیر پورٹ کے بڑے ھال میں انتظار کے لمحات ہمارے والد صاحب نے کتاب پڑھنے اورہم نے چہرے پڑھنے میں بتائے۔ فلائیٹ کا وقت قریب آیا تو بقول محمد علی الدین ، جدہ ائیر پورٹ پر جہاز کے پیسے دینے کے بعد پہلے بس پر سفر کرنا پڑتا ہےاور 10 سے 15 منٹ کا یہ سفر اُس وقت اتنا طویل لگتا ہے جیسے یہ بس ہی منزل مقصودپر پہنچائے گی۔

Jedda airport
ڈاکٹر عبد اللہ شاہ ہاشمی جدہ ائیر پورٹ پر انتظار کے لمحات میں کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے۔

سعود ی سیاح :
اب کے مسافروں اکثریت سعودی شہریوں کی تھی۔ زیادہ تو خاندان تھے لیکن نوجوان لڑکے لڑکیوں کی بھی بڑی تعداد شامل تھی اوران مسافروں کے حلیے اور تیاریاں بتا رہی تھیں کہ سب استنبول چھٹیاں گزارنے اور سیر و تفریح کے غرض سے جا رہے تھے۔ بس درجنوں جہازوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ایک جہاز کے سامنے آکھڑی ہوئی۔ یہاں ہمیں سیڑھیاں چڑھ کر جہاز پر سوار ہونا تھا۔

Jeddah airport
راقم جدہ ائیر پورٹ پر

آنکھیں چندھیا دینے والی دھوپ اور تیز ہوا۔ لوگ تصاویر بنا رہے تھے، ہم نے بھی دو چار تصاویر بنا لیں۔ لاہور سے جدہ آنے والے جہاز میں سواریاں نہ ہونے کے برابر تھیں اور اس جہاز میں کوئی ایک نشست بھی خالی نظر نہیں آ رہی تھی۔ ہمیں جاگے مسلسل 31 گھنٹے ہو چکے تھے لہذا نشست پر جاتے ہی نیند نے آلیا اور جہاز اڑنے پر جدہ شہر کے دن کا نظارا نہ دیکھ سکا۔ناشتے کے وقت آنکھ کھلی تو اندازہ ہوا کہ یہ جہاز لاہور سے جدہ آنے والے جہاز سے کئی بہتر تھا۔

جہازکی اندرونی حالت سے کھانے کے معیار اور سروسز تک ہر شے گزشتہ فلائیٹ سے بہتر تھی۔سامنے ٹیب کا لائیو منظر آن کیا تو ہم سعودیہ عرب کو پیچھے چھوڑ آئے تھے اور ترکی میں داخل ہو چکے تھے لیکن ابھی ایشیا میں ہی تھے۔جدہ سے استنبول کے اس سفر میں کویت اورعراق ہمارے دائیں جانب جبکہ مصر اور لیبیا ہمارے بائیں جانب رہ گئے اور ہم اردن کے اوپر سے اڑتے ہوئے ترکی میں داخل ہو رہے تھے۔

پہلی نظر :
تھوڑی دیر میں جہاز نیچی پرواز کرنے لگا اور کھڑکی سے باہر نیلے آسمان اورنیلے سمندر کا محسور کن منظردیکھنے کو ملا۔ چھوٹے چھوٹے شپ نیلگوں سمندر میں کیا خوبصورت نظارا پیش کر رہے تھے۔

Jeddah airport
ہوائی جہاز سے نیلگوں سمندر میں تیرتے بحری جہازوں کا منظر

اور پھر جہاز اور نیچے اور نیچے اور سمندر بالکل قریب جیسے جہاز سمندر میں ہی لینڈ کرے گا۔

اتا ترک انٹرنیشنل ائیر پورٹ:
استنبول میں 2 انٹرنیشنل ائیر پورٹ ہیں ۔پرانے اور معروف ائیر پورٹ کا نام ترکوں کے قائد اعظم ’’اتا ترک ‘‘کے نام پرہے جبکہ نئے اور جدید ائیر پورٹ کا نام ’’ صبیحہ‘‘ کے نام پر ہے ۔ صبیحہ کو 1936 میں ترکی کی پہلی پائلٹ ہونے کا اعزاز حاصل ہوا اور اُس سے بڑھ کر صبیحہ کا نام لڑاکا طیارے اڑانے والی دنیا کی پہلی خاتون کے طور پر گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی درج ہوا۔ اب تو خیر ہمارے ہاں بھی خواتین پائلٹ بھی ہیں اور لڑاکا طیارےبھی اڑا رہی ہیں۔ لیکن ایسی چیزیں جان کر اندازہ ہوتا ہے شاید ہم باقی دنیا سے بہت پیچھے ہیں۔

ہماری فلائیٹ اتاترک انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر اتری جہاں ترک ائیر لائن کے جہازوں کی بہار تھی۔پاسپورٹ کنٹرول کے کافی سارے کاونٹر تھے اور ہر کاونٹر پر خوب رش ۔ دنیا کی بہت س قوموں سے تعلق رکھنے والے خواتین و افراد اپنے اپنے ممالک کے پاسپورٹ تھامے کھڑے تھے۔ سعودیہ عرب سے چلی خواتین میں سے کچھ کے عبایے اتر چکے تھے اور لائن میں کھڑے اکثریت کا لباس ایساتھا جسے ہمارے ہاں قابل اعتراض کہا جاتا ہے۔

پراسرار خاتون:
پاسپورٹ کنٹرول سیکشن سے فراغت کے بعد اگلا مرحلہ سامان حاصل کرنے کا تھا۔والد صاحب کو سامان کے قریب چھوڑ کر ٹرالی لینے گیا جو لاک تھیں۔ ہمارے ہاں ائیر پورٹس پر ٹرالی مفت ملتی ہے اور یہاں ایک لیرا خرچ کرنا پڑنا تھا۔ ابھی تک چونکہ ڈالر ترک کرنسی لیروں سے تبدیل نہیں کروائی تھی ، لہذا جیسے ہی جانے لگا ایک خاتون نے اردو میں سمجھاتے ہوئے ایک لیرے کا سکا تھما دیا۔ مجھے اچانک یاد آیا کہ یہ وہی پراسرار خاتون تھیں جو گزشتہ رات جدہ ائیر پورٹ پر دنیا و مافیا سے بے خبر جم کر سوتی رہیں ۔اگر چہ عمر زیادہ نہیں تھی، لیکن بقول اس خاتون کے ’’وقت بہت کچھ سکھا دیتا ہے۔‘‘سامان ٹرالی میں رکھا ، ڈالرز کے لیرے خریدے اور مقامی موبائل سم خریدنے کی ناکام کوشش کے بعد ائیر پورٹ کی بتیاں دیکھتے باہر کی طرف چل پڑے۔

سعودیہ عرب سے چلی خواتین میں سے کچھ کے عبایے اتر چکے تھے اور لائن میں کھڑے اکثریت کا لباس ایساتھا جسے ہمارے ہاں قابل اعتراض کہا جاتا ہے

ترکوں کی ماٹھی انگریزی:
ہماری منزل تاقسم سکوائیر تھی۔ ہمارے دوست عمر نے ہمیں پہلے ہی بتا رکھا تھا کہ ائیر پورٹ سے تاقسم سکوائیر تک ’’ھاواباس‘‘پر آنا ہے لہذا ہم بس کی پہچان اور ایک صاحب سے مشورے کے بعد ھاوا باس میں بیٹھ گئے۔ احتیاطاََ اک اور صاحب سے بھی پوچھا لیکن کچھ ہی دیر میں پتا چلا کہ یہ بس ابھی نہیں چلے گی لہذا دوسری بس میں سامان اور خود منتقل ہوئے اور بس سمندر کنارے چلنا شروع ہو گئی ۔ ایک بات جو ترکی پہنچتے ہی محسوس کی ترکوں کو انگریزی میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ۔اسی لئے جب بھی کوئی بات پوچھتے تو لوگ اس کا کچھ فیصد سمجھ سکتے اور کافی کنفیوژن ہو جاتی۔

Taqsim
ائیر پورٹ سے تاقسم جانے والی بس

لاہور کی جھلک:
بس ائیر پورٹ سے نکل کر سمندر کنارے چلی جا رہی تھی اور استنبول شہر کے چوک چوراہے ہمیں لاہور کی یاد دلا رہے تھے۔ خاص طور پر خوبصورت کیاریاں، پھول اور صفائی کا نظام لاہور جیسا ہی تھا۔ ویسے ہی مناظر تھے جیسے لاہور ائیر پورٹ سے نکلتے ہوئے دیکھنے کو ملتے ہیں۔

استنبول کا ایک چوراہا

ٹھگ ٹیکسی ڈرائیور:
قریبا پون گھنٹے چلنے کے بعد بس تاقسم سکوائیر پہنچ گئی۔صاف ستھری پر رونق جگہ تھی ۔ لیکن تھکاوٹ کے باعث ہم جلد از جلد ہوٹل پہنچنا چاہ رہے تھے لہذا تاقسم سکوائیر میں ہی ایک پاکستانی دوست انس کے دھلی دربار ریسٹورنٹ جانا تھا جس نے ہمیں ہوٹل تک پہنچانا تھا۔ انٹرنیٹ نہ ہونے کے باعث ہمیں ریسٹورنٹ ڈھونڈنے میں دشواری تھی اور سامان کے ساتھ پیدل چلنا ممکن نہیں تھا, لہذا ٹیکسی لینے کا سوچا لیکن جس سے پوچھتے وہ 40 لیرے 30 لیرے مانگ لیتا۔ جبکہ اتنا ہمیں اندازہ تھا کہ وہ بالکل قریب ہے۔ دنیا بھر کی طرح یہاں بھی ٹیکسی ڈرائیورز کی مناپلی تھی۔  کچھ دیر انتظار کے بعد آخر ایک 20 لیرے میں تیار ہو گیا اور 5 منٹ بعد اُس نے ہمیں دھلی دربار ریسٹورنٹ پہنچا دیا۔ہمارے دوست انس نے بتایا کہ تاقسم سکوائیر ترکی کے مشہور ترین علاقوں میں ہے اور یہاں خوب رونق رہتی ہے ۔ ہمارا ہوٹل بھی تاقسم سکوائیر میں ہی تھا۔

(مزید پڑھیےچوتھی  قسط میں )

گزشتہ اقساط

 میرا ترکی کا پہلا سفر

جدہ ائیرپورٹ پر گذارے یادگار لمحات


Writer Shoaib Ahmed Hashmi
شعیب احمد ہاشمی

بلاگر: شعیب احمد ہاشمی ایک این جی او کے میڈیا  ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ سے منسلک ہیں۔ فنون لطیفہ میں گہری دلچسپی  رکھتے ہیں  اور سماجیات ،انٹرٹینمنٹ اور سیر تفریح  جیسےموضوعات  پرجھک  مارنا   پسندیدہ مشغلہ ہے۔ آپ ان  سے اِن کے  فیس بک  پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

www.facebook.com/link2shoaib

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے