صفحہ اول / سیاحت / تر کی / ترکی کا پہلا سفر -(قسط ٢) -جدہ ائیرپورٹ پر گذارے یادگار لمحات

ترکی کا پہلا سفر -(قسط ٢) -جدہ ائیرپورٹ پر گذارے یادگار لمحات

jeddah airport transit

اطالوی خاتون کو پاکستانی قصائی یاد آیا


شعیب احمد ہاشمی

(دوسری قسطپہلی قسط کے لئیے یہاں کلک کریں )

اگر چہ منزل ترکی ہی تھی لیکن چونکہ لاہور سے ڈائریکٹ فلائٹس مہنگی تھیں اور اُن تاریخوں میں سعودی ائیر لائن کی ٹکٹ  دیگر ائیر لائینوں کی نسبتاََ سستی تھی  لہذا جاتے ہوئے  جدہ میں  ہمیں 12 گھنٹے  اور واپسی پر 10 گھنٹے انتظار کرنا تھا  ۔ یعنی اس سفر میں ہمیں2 راتیں جدہ  گزارنی تھیں  لہذا با ضابطہ طورپر  یہ جدہ میں ہماری پہلی رات تھی اورمجھے یقین تھا کہ یہ وقت مزیدار گزرنے والا ہے۔

مسافروں کا آنا جاری تھا۔ بڑے ھال میں ایک کونے میں جائے نماز بچھی تھی۔ وہیں کچھ لوگ سامان رکھے آرام بھی کر رہے تھے ۔حالات کا جائزہ لینے کے بعد ہم  ھال میں آگئے جہاں پہلے سی  صورتحال تھی۔ قریباََ  سبھی کے پاس  سفری تکیہ موجود تھا اور لوگ دنیا و مافیا سے بے خبر یا تو سو رہے تھے یا سونے کی کوشش  کر رہے تھے۔ والد صاحب کے لئے ایک نشست کا انتظام کرنے کے بعدمیں اپنے عشائیہ والے کوپن لے کر فوڈ کاونٹرپر چلا گیا۔

وہاں موجود نوجوان کو گرمجوشی سے سلام اور حال احوال کے بعد نام پوچھا۔نوجوان نے سر دمہری سے جواب دیا اوربورڈنگ پاس طلب کیا ، جسے دیکھتے ہی نوجوان نے مزید برا سا منہ بنا لیا۔پھر خود ہی کہنے لگا مجھے پتا تھا آپ پاکستان سے ہو۔ میں نے مسکراتے ہوئے  اُسے بتایا کہ ظاہر ہے آپ مجھے میرے والد سے اردو میں بات چیت کرتے دیکھ چکے ہو۔لیکن نوجوان کا رویہ افسوسناک تھا  ۔یقینا وہ سقوط ڈھاکہ کے معاملے کو لے کر پاکستانیوں کے بارے میں ایسا سوچتا ہو گا لیکن اسے کون سمجھائے کہ وہ اُس وقت ڈیوٹی پر تھا اور ہمیں اچھے انداز میں خدمت کرنا اُس کا فرض تھا  ۔ خیر دیگر پاکستانیوں نے بھی ڈیوٹی پر موجود بنگالی اور نیپالی  نوجوانوں کے رویوں پر بات کی

۔کھانا کھانے کے بعد ذولقکی فلی اور عظمی سے بات شروع ہوئی جو ملائشیا سے تھے ۔ عظمی  نے بتایا کہ اُس کے پردادا کراچی سے تھے اور جن کا نام گلاب خان تھا ۔1908 میں وہ ملائشیا چلے گئے۔اب ایک ملائی اور ایک پٹھان میرے سامنے تھے لیکن دونوں میں کوئی فرق نہیں تھا۔  دونوں حضرات ملائشین آرمی میں تھے  اوران میں سے ایک کرنل اور ایک میجر تھے جو  اقوام متحدہ کے امن مشن میں بیروت لبنان میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ہمارے بارے میں یہ جان کر کہ ہم لاہور سے ہیں بہت خوش ہوئے اور مزید یہ بتا کرحیران کر دیا کہ لاہوری گروپ (احمدی) کی وجہ سے وہ لاہور کو جانتے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ ملائشیا میں بہت بڑی تعداد میں احمدی موجود ہیں اور اس کی بڑی وجہ لاہور سے گئے احمدی ہیں۔دونوں کے خاندان میں بھی بڑی تعداد میں احمدی ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ ملایشیا میں بھی  چین سے آئے لوگ پریشانی کا باعث ہیں اورکاروبار چینیوں کے ہاتھوں میں جاتا دیکھ رہے ہیں۔

Shoaib hashmi at Jedda airport
جدہ ایئر پورٹ پر ہمسفر ملائی اور انڈونیشی ساتھیوں کے ہمراہ

اتنے میں اُن کی فلائیٹ کا وقت ہو گیا۔ والد صاحب سے کافی کا پوچھا اور کافی بنانے چلا گیا ۔ کاؤنٹر پر دونوں صاحبان کا رویہ ویسے کا ویسا ہی تھا۔ عجیب بات یہ تھی کہ جیسے ہی کوئی گورا یا عربی ان سے بات کرتا تو ان کی باچھیں کھل اٹھتی اور جیسے ہی کوئی دیسی ، ملائشیا یا  انڈونیشیا کا فرد بات کرتا تو کاٹ کھانے کو دوڑتے۔ خیر کافی لی اور وہاں موجود رسائل دیکھنے لگا۔جو سعودی ائیر لائن  کا رسالہ تھا ویسا ہی ایک رسالہ جہاز میں دیکھ چکا تھا ۔صفحے پلٹتے ایک خاتون  کی تصویرکو دیکھ کررُک گیا ۔۔۔نینا ۔۔۔ لیکن جب نام پڑھا تو  یہ نینا نہیں تھیں ۔نینا برطانیہ میں اسلام چینل کے لئے کام کر چکی ہیں اور کچھ عرصہ پہلے تک سعودیہ تھیں اسی لئے پہلی نظر میں لگا شاید وہی ہیں۔

Reading magazine at Jeddah airport

میں دیکھ رہا تھا کہ کافی  لوگ فلائٹس کے انتظار میں بورہو رہے تھے۔ ایک ادھیڑ عمر خاتون سے بات شروع ہوئی  جن کا نام جینی  تھا۔جینی اٹلی  سے تھیں لیکن چوتھی نسل کینیا میں رہ رہی ہے۔ جینی نے بتایا کہ اُن کے  والد  اٹلی کی آرمی میں تھے، انگریزوں کے جنگ جیتنے کے بعد کینیا منتقل ہونے کا فیصلہ کیاگیا۔ جہاں  انہیں زمین کا   بڑا ٹکڑا ملا جس پر انہوں نے  ڈیری  فارم بنایا ۔ میں جینی کی باتیں سن رہا تھا اور جون ایلیا  کی بات یاد آ رہی تھی کہ فوج جہاں کی بھی ہو،ہوتی پنجابی ہے۔ جینی نے بتا یا کہ   جینی کی بیٹی بحرین میں خصوصی بچوں کو پڑھاتی تھی اور بحرین جیسے چھوٹے سے ملک میں بڑی تعداد میں معذور بچوں کا ہونا خطرنا ک ہے جس کی وجہ خاندان میں شادیوں  کا رحجان ہے- بحرین کی گرمی اور 51 سینٹی گریڈ درجہ حرارت او یا یا یا یا یا!!!!۔ ناقابل برداشت اور اسی لئے سب کچھ چھوڑ کر واپس جا رہی ہیں اورجا بھی رہی ہیں کینیا کیونکہ وہاں اچھا موسم ہے۔ حتی کہ اٹلی میں بھی شدید گرمی ہے۔ میرے لئے یہ مزیدار بات تھی کہ یورپ میں گرمی اور افریقہ میں خوشگوار موسم  ہے ان دنوں۔ جینی کے شوہر سفاری بزنس اوربیٹا سیاحت کے کاروبار سے منسلک ہے۔ جینی کو پاکستان کے بارے میں کچھ اچھی باتیں بتائیں تو جینی نے  بتایاکہ ان کا قصائی پاکستان  سے ہے اور پورے کینیا میں اس سے اچھا گوشت کوئی نہیں بنا سکتا۔

shoaib hashmi jeddah airport with Italian lady
اطالوی آنٹی جینی کے ساتھ

میں جینی کی باتیں سن رہا تھا اور جون ایلیا  کی بات یاد آ رہی تھی کہ فوج جہاں کی بھی ہو،ہوتی پنجابی ہے

جینی سے یہ گفتگو  بہت خوشکوار رہی ۔ ہمیں باتیں کرتا دیکھ کر وہاں بیٹھے اور لوگ بھی گفتگو میں شریک ہوئے۔ایک خاتون جو قدرے پریشان اور خاموش تھیں ۔۔نوری ۔ لگتا تھا ایران سے ہیں لیکن وہ بحرین سے تھیں ۔نوری گرافک ڈئزائنر اورعمدہ انگریزی بولتی تھیں ۔اپنے دوستوں سے ملنے امریکہ جا رہی تھیں۔ کافی دیر بات چیت جاری رہی  پھر نوری کی فلائٹ کا وقت ہو گیا ۔ جانے والوں کو کون روک سکتا ہے ۔

بتایا کہ ملائشیا میں بہت بڑی تعداد میں احمدی موجود ہیں اور اس کی بڑی وجہ لاہور سے گئے احمدی ہیں

واپس والد صاحب کے پاس آن بیٹھا ۔والد صاحب لیپ ٹاپ پر بی بی سی کی بھٹو خاندان پر بنائی دستاویزی فلم دیکھ رہے تھے۔اب اکثر نشستیں خالی ہو چکی تھیں اور چند گھنٹوں والا پہلا سا رش نہیں تھا۔ ساتھ والی نشست پر ایک نوجوان آن بیٹھا  نام تھا موروان ۔ موروان کا تعلق لیبیا سے تھا اوروہ ملائشیا میں پڑھ رہا تھا۔ لیبیا کی  موجودہ صورتحال  کے بارے میں پوچھنے پر بتایا کہ 3 بڑے گروپوں کے بیچ  لڑائی ہے اور ملک خانہ جنگی کی کیفیت سے دوچار ہے۔ ہنستے ہوئے کہا کہ ایک قذافی ہی بُرا ٹھیک تھا اب  لیبیا میں بہت سے قذافی ہیں۔ ڈالراور لیبیا کے دینارمیں 30 سینٹ کا فرق ہوا کرتا تھا اور اب ایک ڈالر میں 10 دینار آ جاتے ہیں۔ میں نے کہا شکر کرو بھائی ہمارے تو 105 آتے ہیں ۔لوگ قذافی سے نفرت کرتے ہیں لیکن موجودہ صورتحال میں اسے یاد بھی کرتے ہیں۔

 

کاؤنٹر پر دونوں صاحبان کا رویہ عجیب تھا کہ  جیسے ہی کوئی گورا یا عربی ان سے بات کرتا تو ان کی باچھیں کھل اٹھتی اور جیسے ہی کوئی دیسی ، ملائشیا یا  انڈونیشیا کا فرد بات کرتا تو کاٹ کھانے کو دوڑتے

موروان کا پڑھائی مکمل کرنے کے بعد یورپ جانے کا ارادہ ہے۔ شادی کے شدید خواہش مند ہیں لیکن داڑھی آنے کے باوجود اس کےوالد کو احساس نہیں۔ وہ پڑھائی سے زیادہ کسی کام کرنے میں دلچسپی لیتا ہے لیکن والد جوایک بینک منیجر ہیں، اس کی ڈگری مکمل ہونے تک اس کی شادی کروانے پر رضامند نہیں باوجود اس کے کہ لڑکے کے پاس اپنا گھر بھی ہے۔

موروان  دلچسپ آدمی تھا خوب مزیدارگپ شپ ہوئی۔ پاکستان کے بارے میں کافی کچھ جانتا تھا قذافی سٹیڈیم تک ۔  اس نے بتایا کہ استنبول میں چور اچکوں سے کیسے بچنا ہے اور فلیٹ کی بجائے ہوٹل کو فوقیت دینا ہے تاکہ سامان محفوظ رہے۔

Libyan mowan at jeddah airport
ائیرپورٹ کا ساتھ موروان ،لیبیائی باشندہ جو ملائشیامیں طالبعلم ہے

ہماری فلائیٹ کا وقت  بھی قریب آ رہا تھا ۔ نیند نہیں آ رہی تھی اور نہ ہی میں نے کوشش کی تھی- مجھے تو دنیا کے مختلف لوگوں سے بات چیت کر کے یہ جاننے میں دلچسپی محسوس ہوتی ہے کہ باقی دنیا کے لوگ کیا سوچتے ہیں اور ہمارے ملک کے بارے میں کیا جانتے ہیں –

ھال سے اٹھ کر بڑے ھال کی جانب جانے لگے۔ جہاں جوتوں سمیت بیلٹ اور جیبیں تک خالی کرا کر تلاشی لی جا رہی تھی ۔ ایسی تلاشی کا تو  امریکہ میں سنا تھا ۔خیر یہاں بھی عجیب رویے تھے۔  وہاں سے نکلے تو ایک مارکیٹ کا سا ماحول تھا۔ برقعے میں خواتین دکانیں سنبھالے بیٹھی تھیں۔ دکانیں خالی تھیں۔ بڑے حال میں پہنچے تو لگا جیسے لاہورکے پرانے ریلوے اسٹیشن پر آ گئے ہوں۔ لوگ زمین پر کپڑے بچھائے بیٹھے، نشستیں کم اور لوگ زیادہ،کرسیوں کی پوشش اکھڑی ہوئی، یہاں بھی عربیوں سمیت مختلف دیگر ممالک کے لوگ اور رش۔ عربی بچے ہاتھوں میں ریال لئے خرید و فروخت میں مشغول۔ اتنا پیسہ ہے ائیر پورٹ کیوں اچھا نہیں بناتے؟ ۔

(مزید پڑھیے تیسری قسط میں )


Writer Shoaib Ahmed Hashmi
شعیب احمد ہاشمی

بلاگر: شعیب احمد ہاشمی ایک این جی او کے میڈیا  ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ سے منسلک ہیں۔ فنون لطیفہ میں گہری دلچسپی  رکھتے ہیں  اور سماجیات ،انٹرٹینمنٹ اور سیر تفریح  جیسےموضوعات  پرجھک  مارنا   پسندیدہ مشغلہ ہے۔ آپ ان  سے اِن کے  فیس بک  پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

www.facebook.com/link2shoaib


2 تبصرے

  1. زبردست
    بہت خوب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے