صفحہ اول / سیاحت / تر کی / میرا ترکی کا پہلا سفر

میرا ترکی کا پہلا سفر

TURKEY FLAGایک پاکستانی نوجوان کے سفر ترکی کی روداد

شعیب احمد ہاشمی

  نوجوان بلاگر نے سادہ لفظوں میں  میں جو دیکھا سو لکھا


جی ہاں یہ میر ا ترکی کا پہلا سفر تھا اور  میں ترکی پہنچنے کے دوسرے ہی روز  کم از کم دوبارہ  ترکی جانے کا ارادہ کر چکا تھا۔اِس میں میرے ہمراہ میرے والد ڈاکٹر عبد اللہ شاہ ہاشمی تھے اور میرے اکثر

 دوستوں کا خیال ہے کہ میرے دوبارہ ترکی  دیکھنے کے ارادے کی  وجہ میرے والد محترم ہیں۔ خیر جتنے منہ اتنی باتیں ۔ اب کس کس کو چپ کروایا جا سکتا ہے۔  سفر ہمیشہ سے میرے لئے خوشی کا باعث رہا ہے۔

میرا ماننا ہے  کہ سفر کے دوران  چونکہ  آپ نے مشاہدے کی نیت  باندھ رکھی ہوتی ہے لہذا  ہر شہ اور ہر منظر ہی    پر کشش  ،دلچسپ اور معنی خیز   لگتا ہے  ۔شاید  سفر  سب کے لئے ایک جیسا  نہیں ہوتا۔ سفر  ایک مشقت ہے  اور اکثر لوگ  سفر کی اس تھکاوٹ اور بے چینی سے گھبراتے ہیں۔سفر سے لطف اندوز ہونے کے لئے ذہنی طور پر سر پرائزز کے لئے  تیاررہنا چاہیے اور   مشاہدے کی آنکھ کھلی رکھنا ضروری ہے ورنہ سفر تو بس ڈرائیور ، کنڈیکٹر سمیت  ہمارے ارد گرد بہت سے لوگ کرتے ہی ہیں۔ لیکن وہ سفر ہی کیا جس میں کچھ نیا سیکھنے کو نہ ملے ، نئے دوست نہ بنیں۔

یہ میرا پہلا بین الاقوامی سفر تھااور میں  آنے والے دنوں، اَن دیکھے مناظر اور دریافتوں کو سوچ کر پُر جوش تھا۔ہمارے ترکی کا یہ سفر ہمارے والد محترم کی تحریک کا نتیجہ تھا۔جنہوں نے ترکی دیکھنا تھا اور ہمیں بطور پی اے۔ ویزا کے مراحل سے گزرے اور عید کے بعد جانا طے پایا۔ ٹکٹ کے لئے کوشش شروع کی تو معلوم ہوا کہ لاہور سے براہ راست استنبول کا ٹکٹ مہنگا جبکہ ٹرنزٹ سستا تھا۔سو سعودی ائیر لائن کی ٹکٹ ملی جس نے لاہور سے  براستہ جدہ استنبول  پہنچانا  تھا۔

    مقررہ دن ہمارے چھوٹے بھائی ہمیں علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیر پورٹ چھوڑ کر آئے۔فورٹرس سٹیڈیم اُس روز نوکیا کے تعاون سے فٹ بال میچ کھیلا جا رہا تھا جس میں فٹ بال کی دنیا کے بڑے کھلاڑی بھی شریک تھے اور اس لئے انہوں نے ائیر پورٹ جانے والا رستہ بند کر رکھا تھا۔ ہم انہی خدشات کے تحت چونکہ جلدی چلے تھے لہذا متبادل رستہ اپنانے کے باوجود وقت پر پہنچ گئے۔ تلاشیوں کا سلسلہ اور سوالات۔  ہمارے سامان کے علاوہ  ایک کارٹن ترکی میں  ہمارے پاکستانی دوست عمر فاروق کا تھا  جس میں اُن کے گھر والوں نے اشیائے خوردو نوش اور تحائف بھجوائے تھے اوریہی کارٹن انتظامیہ کی جانب سے روک لیا گیا کہ نہیں لے جا سکتے۔ انہیں  سمجھایا کہ یہ  تمام  چیزیں   ترکی میں  میسئر نہیں اور اِس سے پہلے بھی یہ سامان لے جایا جا چکا ہے۔ انہوں نے بلا تکلف کہا کہ ہم کب منع کر رہے ہیں آپ بھی لے جائیں لیکن۔ ۔ ۔

اب اِس لیکن کے بعد والے جملوں پر حیران تھا کہ کیسے  آسانی اور مزے سے انہوں نے پیسے مانگ لئے۔جب انہیں اُن کا نام لے کر مناسب انداز میں بتایا کہ آپ آنے جانے والوں کو ایسے تنگ کرتے ہیں تو آپ کی میڈیا سمیت مناسب جگہوں پر شکایت کرنا پڑے گی تو انہوں نے فوراََ جانے دیا بلکہ باقی بات سننا بھی گوارا نہیں کی۔ لیکن اِس کے بعد کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔

کچھ دیر میں  ایک اعلان کے ساتھ سب قطار بنا کر جہاز میں جانے کے لئے تیار تھے۔ بورڈ نگ  کارڈ کے دوٹکڑے ہوتے ہی پاکستانی عملے نے خیر آباد کہہ دیا اور عربی چہرے مہروں والے لڑکوں نے انتظامات سنبھال لیے جوتیز تیز کرخت لہجے میں عربی  میں ایک دوسرے سے بات کر رہے تھے اور قطار سیدھی کروا رہے تھے ۔انہی میں سے ایک نے اونچی آواز میں  کہا  نو فوڈ نو فوڈ  اور  پھر ہینڈ کیری میں مٹھائیوں سمیت  ایک خاتون کو جامنوں سے بھرے لفافے سمیت باہر بھیج دیا گیا۔ یہاں چوتھی بار  تلاشی ہوئی اور بیگ کھلوایا گیا۔انگریزی میں خود ہی بیان کرنے پر عربی نوجوان سے مسکراہٹ کے ساتھ "نائس فلائیٹ” سننے کو ملا.

جہاز میں داخل ہوتے ہی ایک دوسرے سے عربی میں بات کرتے مسکراتی ہوئی فضائی میزبانیں  نظر آئیں۔ فضائی میزبان سے یاد آیا کہ گزشتہ دنوں کراچی کی ایک صحافی نے سوشل میڈیا پر  قومی ائیر لائن  کی ادھیڑ عمر فضائی میزبان کی تصویر  شیئر کی اور قدرے  تضحیک آمیز جملے بھی لکھے۔ جس کا سوشل میڈیا پر چرچا رہا کہ ہاسپیٹیلٹی بزنس سے جڑے لوگوں کو جاذب نظر اور کم عمر ہونا ضروری ہے یا نہیں۔ میرے خیال میں تو ہاسپیٹیلٹی بزنس سے جڑے لوگوں کا جوان اور خوبصورت ہونے سے زیادہ خوش اخلاق ہونا ضروری ہے۔ قطع نظر اس کے کہ قومی ائیر لائن میں کئی دھائیوں سے جاری   تباہیوں نے جو بیڑا غرق کیا ہے وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ۔

خیر  7 بج کر 35 منٹ پر جہاز نے رینگنا  شروع کر دیا. جہاز کے ہوا میں بلند ہوتے  ہی پہیوں کی گڑگڑاہٹ ختم ہو گئی اور  لاہور کی روشنیاں  گم ہونے لگیں۔ لاہور  کے ہوائی اڈے پر مغرب ہوئے کافی وقت گزر چکا تھا اور  رات کی نیلاہٹ گہری ہو چکی  تھی لیکن اس اڑن کھٹولے کے فضا میں بلند ہوتے ہی مغرب میں لالی اور نیلا آسمان آسانی سے دیکھا جا سکتا تھا۔ جہاز آدھے سے زیادہ خالی تھا۔ پہلے مرحلے میں سیٹ کے پاؤچ میں موجود ایک انگریزی اور ایک عربی میگزین کو دیکھنا شروع کیا۔ مہنگے پرفیومز ، گھڑیوں اور گاڑیوں کے  اشتہارات ، عربی ماڈلوں کی دیدہ زیب تصاویر اور سعودی ائیر لائن کا منجن۔

کچھ عرصہ پہلے تک  عام پاکستانیوں کے لئے عربی مکہ مدینہ  کے پارسا تھے ، پھر عرب امارات نے دروازے کھولے اور مغربیت زدہ ماحول میں عربوں کا ایک نیا رنگ دیکھنے کو ملا ۔  عرب خطہ، یہاں کی ثقافت، ادب، موسیقی، فلمیں اور کھانے پینے سے طرز زندگی تک،کم از کم ہمارے ہاں اکثریت اس سے  نا واقف  ہی ہے.۔انٹرٹینمنٹ گائیڈ تھی، جس میں  انگریزی اور عربی میں اگلی سیٹ سے جڑے ٹیب میں موجود ’’منوونجن‘‘ یعنی تفریح  کے سامان کی تفصیل تھی۔انگریزی اور عربی کے علاوہ ہندوستانی فلموں ہندی اور تامل سینما    تک کی تفصیلات درج تھیں.پاکستان  کی نہ کوئی فلم تھی اور نہ کہیں  ذکر تھا۔ ایک لمبے عرصے کی مشق ہے جس میں فنون لطیفہ کو حرام سمجھا جاتا رہا ۔ فلم بنانا تو توبہ توبہ دیکھان تک گناہ ۔

اب سعودی ائیر لائن میں فلم دیکھنے کے حوالے سے  چونکہ کوئی موجود نہیں تھا لہذا  اچھی طرح میگزین دیکھنے کے بعد عربی موویز میں ایک کلاسک عربی فلم دیکھنا شروع کی کہ شاید عرب ثقافت کا کوئی رنگ نظر آئے ۔فلم اگر چہ  بلیک اینڈ وائٹ  تھی اور عربی زبان میں تھی لیکن تمام  فنکاروں کا  لباس انگریزی تھا اور کہیں کہیں قابل اعتراض لباس کے باعث سکرین کو دھندلا دیا جاتا۔ کیا عرب اتنے ایڈوانس ہوا کرتے تھے؟  اتنے میں  فضائی میزبان  نے جوس پیش کیا۔  چونکہ سعودیہ میں  خواتین کے لئے  بطور فضائی میزبان  کام کرنے پر پابندی ہے لہذا  سعودی  ائیر  لائن میں ائیر ہوسٹس  کا تعلق  بھی دیگر عرب ممالک یا عجم سے ہوتا ہے۔یہاں بھی ایسا ہی تھا ۔،کچھ عربی چہرے مہروں والی  فضائی میزبانیں بھی تھیں جن کے چہروں سے  ایک عجیب ناگواری جھلک رہی تھی۔ ایسے میں ان میں ایک قدرے کم جاذب نظر فلپائنی چہرہ بھی تھا جو انتہائی خوش اخلاقی سے تمام امور سر انجام دے رہی تھی. جہاز میں اکثر اپنے گھروں سے دور محنت مزدوری کرنے والے افراد اور خواتین تھیں جو اپنے شوہروں کے پاس جا رہی تھی. کسی کو کچھ بتانے کی ضرورت نہیں تھی، ایک ایک چہرہ ڈھیروں کہانیاں تھیں۔

ٹیب سے  کھیلنا جاری تھا. کھانے کا وقت ہو گیا. چکن اور فش میں سے فش کا انتخاب کیا. ایک پراٹھا رول (جو صرف روٹی تھی )، چاولوں کے ساتھ جھینگوں کی بنا سالن، مٹر، گاجریں اور سلاد کے ساتھ ایک براؤنی اور ہندوستان کا پیک کیا اچار کا چھوٹا سا ساشے ۔. اکثر لوگ ٹرین کی برتھ کی طرح پوری پوری سیٹ پ تکیوں کے ڈھیر میں سر رکھ کر سو رہے ہیں. جہاز کبھی کبھی ڈولنے لگتا تو لوگ بھی ہڑ بڑا کے اٹھ بیٹھتے۔ اتنی نشستیں خالی ہیں. سوچا کہیں اور بیٹھا جائے۔جہاز کے دیو ہیکل پر کو کراس کرتے ہوئے پیچھے جا کر بیٹھا تو شیشے سے نیچے روشنیاں نظر آنے لگیں. گہرے اندھیرے کے ساتھ ساتھ روشنیوں کا مطلب گہرے سمندر کے ساتھ ساتھ بسے شہر. ہم  سعودیہ عرب میں تو داخل ہو چکے تھے. 2 گھنٹے سے زیادہ گزر گئے اور اتنے ہی ابھی باقی ہیں.۔ یہ جہاز کا پچھلا حصہ تھا اور یہاں سواریاں بالکل موجود نہیں تھیں۔ ٹیب کا ٹچ بالکل فضول تھا لہذا ہم نے ٹیب کو آف کرکے ہوسٹس سے بات چیت شروع کی اور اُسے عربوں کے ساتھ کام کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔اُس نے محتاط انداز میں بات کی تائید کی اور اورنج جوس پیش کیا ۔آخری گھنٹہ مزیدار رہا. دور سے روشنیاں نظر آنا شروع ہوئیں جو آہستہ آہستہ ایک دلکش منظر میں بدلنے لگیں۔’’تیل‘‘ ہمارا بھی نکلتا ہے، لیکن  جو تیل عربوں کا نکلا ہے،  ان کی تو دنیا ہی بدل گئی ہے اور نسلیں بگڑ گئی ہیں۔

روشنیوں میں نہایا ایک جدید شہر ہمارے سامنے  تھا۔. جہاز آہستہ آہستہ نیچے اور نیچے کو جاتا گیا. کانوں میں ہوا کے دباؤ کے باعث تکلیف بڑھنے لگی اور پھر آئر ہوسٹس ٹافیوں سے بھرا تھال اٹھا لائی. یعنی خالصتا ہمیں ٹافی دے کر بہلایا جا رہا تھا. روشنیاں بڑھتی گئیں اور پھر ایک گڑگڑاہٹ کے ساتھ ہی جہاز کے پہیے سر زمین حجاز سے ٹکرائے. سامان کے ساتھ باہر نکلے.

درجہ حرارت 32 تھا. جدہ ایئرپورٹ جہازوں کا مینار بازار ہے. سعودی  ائیر لائن کے  بیسووں جہاز ویلے کھڑے  تھے۔سامان لے کر بس میں بیٹھے جس نے 15 منٹ چلنے کے بعد  ہمیں  ائیر پورٹ کی عمارت کے  سامنے اتار دیا۔ہم دبئی سمیت انٹرنیشنل ائیر پورٹ کا سنتے تھے لیکن یہاں تو اترتے ہی  عجیب خاموشی اور خوف کی سی کیفیت تھی۔ محنت مزدوری کے لئے آئے لوگ   تو بالکل خاموش خاموش ۔ پاسپورٹ کنٹرول میں پاسپورٹ دکھانے کے بعد ٹرانزٹ کارڈ کے ساتھ ایک ڈنر کا پاس تھما دیا گیا۔ جس کے بعد کہاں جانا ہے  کچھ پتا نہیں۔ ڈیوٹی پر موجود 3 لوگوں سے پوچھا تو تینوں نے بات سننے کے بعد الگ الگ سمتوں میں اشارے کئے۔مجھے یقین ہے کہ انہیں انگریزی بالکل سمجھ نہیں آئی یا ہماری انگریزی  بالکل سمجھ نہیں آئی۔ خیر اتنے میں ایک سینئر افسر نے بتایا کہ اوپرھال میں انتظار کرنا ہے۔

ہم نے سوچا کہ شاید یہ ھال اچھا ہو گا اور کوئی آرام کی مناسب جگہ ہوگی. لیکن وہاں کا ھال تو لاہور کے بادامی باغ والے لاری اڈے جیسا تھا۔ کوئی نشست خالی نہ تھی.  مختلف رنگ و نسل کے لوگ  فرش پر ہی  ڈھیر  تھے اور فرش پر کچرا بھی بکھرا ہوا تھا۔ واش روم کے بالکل سامنے بھی لوگ سو رہے تھے۔ لوگ نشستوں پر ہی لیٹے ہوئے تھے اور کئی نے سامان رکھا ہوا تھا۔ وہاں سے باہر نکلے تو وہاں بھی قریباََ یہی حال۔فلائٹس آ رہی تھیں اور عجب مناظر دیکھنے کو مل رہے تھے ۔سر پر دوپٹہ ہو نا ہو، بال سنہری سرخ کالے سفید یا جو بھی، نیچے کالا  عبایا  ضرور پہنا ہے. ائرپورٹ واقعی بین الاقوامی ائرپورٹ کا منظر پیش کر رہا ہے. ون سونے لوگ تھے، ون سونی بولیاں اور انتظامات بہت ہی برے اور اُس پر ستم نہ کوئی سننے والا اور نہ کوئی سمجھنے والا۔

(جاری ہے)


Writer Shoaib Ahmed Hashmi
شعیب احمد ہاشمی

بلاگر: شعیب احمد ہاشمی ایک این جی او کے میڈیا  ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ سے منسلک ہیں۔ فنون لطیفہ میں گہری دلچسپی  رکھتے ہیں  اور سماجیات ،انٹرٹینمنٹ اور سیر تفریح  جیسےموضوعات  پرجھک  مارنا   پسندیدہ مشغلہ ہے۔ آپ ان  سے اِن کے  فیس بک  پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

www.facebook.com/link2shoaib


 

3 تبصرے

  1. آپ کا آرٹیکل بہت اچھا ہے. اگلی قسط کا انتظار رہے گا…

  2. بہترین آرٹیکل … اگلی قسط کا بے صبری سے انتظار ہے.

  3. محمد طاہر رانا

    شعیب احمد ہاشمی کی تحریر پڑھنے کا یہ پہلا موقع نہیں . لکھتے ہیں تو قاری کو اپنے ساتھ ہمسفر بنا لیتے ہیں.. کیا خؤبصؤرت انداز پایا ہے..اللہ مذید نکھار لائے..آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے