صفحہ اول / سیاحت / تر کی / انقرہ میں گزارے چند دن

انقرہ میں گزارے چند دن

Kocatepe Mosque-ankara

"یہاں وقت کی سب سے زیادہ قیمت ہے”

3 بس سروس سے معلومات لیں. 50 لیرے سے 70 لیرے تک میں ٹکٹ اور جس سروس کی بس جتنی دیر سے چلے گی، ٹکٹ اتنی سستی. ان چونکہ یہاں وقت کی سب سے زیادہ قیمت ہے تو بغیر جمع تفریق اور ضربیں کئے سب سے پہلے جانے والی سروس کی ٹکٹ لے لی. شٹل سروس مقررہ وقت سے آدھا گھنٹا لیٹ تھی. شٹل سروس سے مین ٹرمینل تک پہنچایا گیا. جہاں ایک دیو ہیکل بس میں بیٹھے. بس میں پاکستان کی بلال ڈایؤو کی طرز پر ٹیب نصب تھی. لیکن یہاں 3 ٹی وی چینل بھی دیکھے جا سکتے ہیں. ایک لڑکا اس پر فٹ بال میچ ہی دیکھ رہا ہے. بس استنبول شہر سے باہر نکلی تو سڑکوں کے جال میں سبز بورڈوں کو دیکھتے ہوئے انقرہ کی جانب موڑ مڑ رہی تھی. کچھ دیر میں خاک اڑتی نظر آئی، بڑی بڑی مشینیں تھیں اور مائنگ کا کام جاری تھا.

تھوڑی دیر میں ہریالی، بیک گراونڈ میں بہت ہی مدہم ترک دھنیں اور پھر پہاڑ، ٹنل اور ارد گرد ایک دوسرے کو پچھاڑتی جدید گاڑیاں. دائیں جانب سمندر اور اس میں تیرتی فیریز اور بڑے جہاز. سمندر کے کنارے خوبصورت بستیاں. ایک بڑے شہر میں مڈ بریک، شاید ازمت تھا. وہاں دیگر مسافروں میں ہی ایک خاتون عبایا اوڑھے سگریٹ کے تیز تیز کش لگا رہی تھی اور اس کے ساتھ ہی ایک نو عمر جوڑا ہاتھوں میں ہاتھ دیے مستقبل کی منصوبہ بندی کررہاتھا. کسی کو کسی کی کوئی پرواہ نہیں. خیر گاڑی چلی جس کے بعد آئسکریم پیش کی گئی، ہوسٹ لڑکا تھا. پھر پانی اور پھر چائے، بسکٹ اور جوس. بس دوڑے جا رہی ہے اور اب پھر کوئی دریا یا شاید سمندر ہی، خوبصورت مناظر … کنارے پر نہایا جا رہا ہے. روشنی کم ہو رہی ہے پوری سڑک پر سٹریٹ لائٹس کی روشنیاں اور ارد گرد ریسٹورنٹس کے چمکتے بورڈ. …

ٹریفک میں سست روی سے چلتی بس ایک دلکش سنہری گیٹ کو پار کرکے شہر انقرہ میں داخل ہو چکی تھی. یہ انقرہ کا شاید مرکزی بس سٹینڈ ہے جو کسی ائرپورٹ کی مانند ہے. سینکڑوں بسیں ترتیب سے موجود تھیں اور سچ پوچھیں تو استنبول ائرپورٹ سے زیادہ منظم اور صاف ستھرا. رش بھی نہیں تھا جس کی وجہ شاید وقت بہت بیت چکا تھا. اگلا مرحلہ "کنزلے” پہنچنے کا تھا جو تھا تو صرف 12 منٹ کی مسافت پر لیکن میٹرو بند ہونے کے باعث ٹیکسی ڈرائیوروں کی ساتھ مشکل بحث کے بعد ایک ٹیکسی ڈرائیور قدرے کم چونا لگانے پر تیار ہو گیا.

15 جولائی کی ناکام بغاوت کی پہلی برسی کی مناسبت سے پورے ملک میں شہداء کی یاد اور انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے غرض سے مہم چلائی جا رہی ہے. شہداء کے ناموں اور تصاویر کے ساتھ بڑے بڑے بورڈ اور ترکی کے سرخ جھنڈے چوکوں چوراہوں پر نظر آ رہے ہیں لیکن ہمارے ہاں کی طرح کوئی بینر نظر نہیں آیا. بلکہ بہت خوبصورت اور اچھے ڈیزائن کیے ہوئے. انقرہ شہر پیلی روشنیوں میں نہایا، سویا ہوا شہر بہت ہی خوبصورت منظر پیش کر رہا ہے. اکثر دکانیں بند ہو چکی ہیں اور کچھ ریسٹورنٹ بند ہو رہے ہیں. کچھ لوگ بیئر کی بوتلیں منہ سے لگائے خوش گپیوں میں مشغول ہیں اور کچھ جوڑے راز و نیاز میں.

رات بلکہ صبح ساڑھے تین سونے کے بعد 8 بجے آٹھ بجے اٹھ بیٹھے ہیں. پانچویں منزل سے کھڑکی کے باہر کا ترکی ابھی سو رہا ہے. ناشتے کے لئے ھال میں پہنچے تو وہاں نا پراٹھے نا لسی نا سر پاؤے نا چکڑا چھولے … ترش زیتون، ترش پنیر اور انتہائی میٹھے جیم، شہد اور کیک. یہ ذائقے ہم پاکستان کو آئے ترک دوستوں کے ساتھ گزشتہ 8 سالوں سے چکھ رہے ہیں اور ذائقہ بنانے کی کوشش جاری ہے. ترک ناشتہ صحیح معنوں میں کھٹا میٹھا واقعہ ہوا ہے.

دن بھر انقرہ گردی کی تفصیل بعد میں سہی، ابھی ترکی کی فاسٹ ٹرین پر قونیہ روانگی ہے. انڈر گراؤنڈ میٹرو سے جب باہر نکلے تو "Ankara Yat Gar” پیشانی پر سجائے ایک کانچ کی بڑی سی عمارت کا سامنا تھا. اندر داخل ہوئے تو خوشگوار ٹھنڈک کا احساس ہوا. معلومات اور ٹکٹ کی خریداری کے بعد عمارت گھومنا شروع کی، پہلی بار میں لگا کوئی ایمپوریم طرز کی شے ہے. ریلوے اسٹیشن سے زیادہ شاپنگ مال لگ رہا تھا. ہر جگہ باوردی اور تقریباً خوش اخلاق عملہ اور صرف کام سے کام. کمال کے کمال شاگردوں کی کمال منصوبہ بندی اور کمال سسٹمز. واہ واہ.

مقبرہ رومی

حضرت مولانا رومی کے ہاں حاضری کی روداد بھی مستعار رہی. فلحال قونیہ سے ازمیر روانگی ہے. یہ ترکی میں تیسرا سفر ہے. استنبول سے انقرہ سڑک کے دونوں سمندر، پہاڑ اور سبزہ تھا جبکہ انقرہ سے قونیہ فاسٹ ٹرین میں سفر کے دوران فقط اونچے نیچے کھلے میدان ہی دیکھنے کو ملے، یہاں تک کہ دور دور تک کوئی درخت بھی نظر نہ آیا تھا. اب قونیہ سے ازمیر کا سفر شروع ہوا تو بس جیسے لاہور سے اسلام آباد موٹروے سے گزر رہی ہو. دونوں جانب پہاڑوں ،کھیت کھلیانوں اور چھوٹے چھوٹے دیہاتوں کے خوبصورت مناظر ہیں اور آج کے سفر کی خاص بات آسمان پر منڈلاتے اور کہیں کہیں سایہ کئے ہوئے بادل ہیں. بس میں گنی چنی سواریاں ہیں اور اگلی نشست سے جڑے ٹیب پر ترک ڈرامے اور فلموں سمیت یہاں کے نیوز چینل دیکھے جا سکتے ہیں. میں ترک ڈرامے کے فنکاروں کی فنکاریاں جبکہ ابا حضور ترک چینلوں پر 15 جولائی کی ناکام بغاوت سے متعلق بنائے گئے پرومو اور ٹاک شو دیکھ رہے. جب سے آئے ہیں 15 جولائی کے حوالے سے ہر طرف کچھ نہ کچھ دیکھنے کو مل رہا. آج کے دن کو سرکاری طور پر چھٹی کا دن قرار دے دیا گیا ہے، بلدیہ کے تحت چلنے والی بسیں اور شاید تمام موبائل کمپنیاں آج کے دن مفت سروس فراہم کر رہی ہیں. بہت بڑی میڈیا مہم ہے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے