صفحہ اول / بھارت / یہ ہے ہندوستان (انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی) – قسط ٢

یہ ہے ہندوستان (انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی) – قسط ٢

 

ایک بھارتی نوجوان کا سب سے بڑا خواب یہی ہوتا ہے کہ وہ IIT کے داخلہ ٹیسٹ میں کسی طرح کامیاب ہوجائے

جوزف امل راج پہلا ہندستانی تھا جس نے ہمیں آئ آئ ٹی کا بتایا کہ وہ وہاں سے پڑھکر فارغ ہوا تھا …میں اسکے پروفیشنل کیرئیر کو رشک کی نگاہ سے دیکھتا تھا کہ وہ دبئی میں امیگریشن کے سسٹم پر کام کر کے اب کینیڈا منتقل ہوا تھا اور ہمارا ٹیم لیڈر تھا .. کسی میٹنگ میں جب ٹیکنیکل معاملے پروہ اظہار خیال کرتا تو اوریکل اور ایچ پی کے بڑے نامی گرامی کنسلٹنٹ بہت توجہ سے اسکی باتیں سنتے اور اس نے بہت تھوڑے عرصے میں ڈھیروں ایسے ٹاسک جو گھنٹوں چلنے کے بعد رپورٹ بناتے تھے کو اتنا ٹیون کر دیا کہ اب وہ منٹوں میں آؤٹ پٹ دینے لگے … پوری کمپنی میں اسکی واہ واہ ہونے لگی —- میں اسے کہتا کہ "جوزف یار تم تو چھا گئے ہو، ہر طرف تمہارا ڈنکا بج رہا ہے” تو وہ مسکرا کر کہتا کہ ” کاش تمہیں پتہ ہوتا کہ میں اپنے کلاس فیلوز سے کتنا پیچھے رہ گیا ہوں ” – وہ بتاتا تھا کہ اسکے ساری آئ آئ ٹی کے دوست امریکہ میں سن مائکرو سسٹم، اوریکل، ناسا اور دیگر جگہوں پر بہت ٹاپ پوزیشن پر کام کر رہے ہیں اور وہ کافی پیچھے ہے ان سے ….
تب مجھے اندازہ ہوا کہ IIT انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کوئی انتہائی غیر معمولیتعلیمی ادارہ ہے جو ہزاروں ہندوستانی لڑکوں کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ دنیا بھر کی ٹاپ انجنیرنگ اور ٹیکنالوجی کمپنیز میں ہندوستان کا ڈنکا بجائیں .. کروڑوں ڈالرز زرمبادلہ ہندوستان بھیجیں –

آخر یہ IIT کیا ہے ؟ یہ ہندوستان میں ” انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ایکٹ ” کے تحت بنایا گیا ادارہ ہےجو وزارت افرادی قوت کے تحت کام کرتا ہے – پہلے انہیں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے نام سے بھی چلایا گیا . پہلی برانچ 1951 میں کھرگ پور میں قائم کی گئی ..پھر بمبئی، مدراس، کانپور، ، گجرات، دہلی،چندی گڑھ، جودھپور، حیدر آباد، اندور ، پٹنہ، گوہاٹی، تریپور، جموں اور دیگر پچیس شہروں میں قائم کیے گئے اور ملک بھر میں ٢٥ سے زائد شہروں میں اسکے کیمپسز ہیں —

ایک بھارتی نوجوان کا سب سے بڑا خواب یہی ہوتا ہے کہ وہ IIT کے داخلہ ٹیسٹ میں کسی طرح کامیاب ہوجائے – لوگ آکسفورڈ، کیمبرج ، ایم آئ ٹی اور واٹر لو سے زیادہ اس میں داخلے کی خواہش رکھتے ہیں – ایک امریکی ٹی وی کے آئ آئ ٹی کے بارے میں ایک ڈاکومنٹری میں دکھایا گیا کہ کس طرح لاکھوں ہندوستانی اس میں داخلے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیتے ہیں. چند نمبر سے رہ جانے والے ایک طالبعلم سے جب رپورٹر نے پوچھا کہ اب وہ کیا کرے گا ؟ تو اسکا جواب تھا کہ ظاہر ہے نمبر ون یہی آپشن تھا میرا اب یہاں داخلہ نہ مل سکا تو سیکنڈ آپشن یعنی ایم آئ ٹی (امریکہ) Massachusetts Institute of Technology میں ہی پڑھوں گا …. 🙂

ایک پروفیسر سے سوال کیا گیا کہ آپ لوگ اتنی محنت سے پڑھاتے ہیں اور آپکے ننانوے فیصد لوگ امریکہ چلے جاتے ہیں جاب لیکر تو یہ آپکا نقصان نہیں ؟
انہوں نے کہا کہ ” ہرگز نہیں – ہماری قوم اپنے ٹیکس کے پیسوں سے ان بچوں کو پڑھاتی ہے اور وہاں جاکر ایک ایک لڑکا کم از کم ملین ڈالرز ضرور ہندستان بھیجتا ہے ” ….
یہ تو تھا تعارف اور بیک گراؤنڈ ، اس ادارے کے بارے میں تفصیلات میں جائے بغیراس منفرد نوعیت کی دنیا کی ٹاپ یونیورسٹی کے بارے میں کچھ دلچسپ باتیں شئیرکرتے ہیں –

***- ١٩٨١ تک یہاں صرف اور صرف لڑکے ہی لڑکے تھے کہ پہلی بار اس سال ایک لڑکی اس سال وہاں سے گریجویٹ ہوئی ….
*** – آئ آئ ٹی دہلی کے ڈوگرہ ہال کی چھت hyperbolic paraboloid انداز میں بنی ہے ، اس چھت کو صرف آخری کنارے سے سپورٹ دی گئی ہے، درمیان میں کوئی سپورٹ نہیں، دور سے یہ عمارت ایک بحری جہاز کی طرح لگتی ہے
** – آئ آئ ٹی رورکی کیمپس کی شہرت اس بات سے ہے کہ انکے پاس ہنوستان کی سب سے فاسٹ اسپیڈ انٹرنیٹ ہے، اوسط اسپیڈ سے پانچ گنا زیادہ –
***- آئ آئ ٹی کھرگ پور کے اسٹاف کوارٹر کو "بم ہاوس” کہا جاتا ہے..برطانوی دور میں یہاں بموں کا ذخیرہ رکھا جاتا تھا- کھرگ پور کیمپس کا رقبہ ساڑھے آٹھ اسکوائر میل ہے یعنی ویٹیکن سٹی اور موناکو جیسے تین شہر اس میں سما سکتے ہیں- اس کیمپس کا اپنا رن وے ہے جہاں ایروناٹیکل انجنیرنگ کے طلبہ جہازاڑاتے اور لینڈ کرتے ہیں-

***- آئ ای ٹی دہلی سے جو نامی گرامی لوگ نکلے ہیں ان میں کرن بیدی، چیتن بھگت، سچن بنسال اور بننی بنسال ہیں – دنیا کی مشھور ای کامرس کمپنی فلپ کارٹ Flipkart کےمالک چیتن اور بننی بانسال ہر سال آئ آئ ٹی سے انجنیرز ہائر کرتے ہیں

*** آئ آئ ٹی مدراس سب سے زیادہ طلبہ کی تعداد کے لحاظ سے دیگر کیمپسز سے آگے ہے، انکے آٹھ ہزار طلبہ میں سے چھ ہزار چار سو٦٤٠٠ ریگولر طلبہ روزانہ میس میں بیٹھکر ناشتہ کرتے ہیں جو کسی بھی لحاظ سے ہندوستان بھر میں اور شائد ایشیا میں طلبہ کی سب سے بڑی تعداد ہے جو ناشتے پر جمع ہوتے ہیں

**- ” چاسترا” مدراس کیمپس کا ایک سالانہ فیسٹیول ہے مگر یہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہ دنیا میں طلبہ کا واحد اسٹوڈنٹ فیسٹیول ہے جوSO 9001:2000 سے سند یافتہ ہے –
**_ سن انیس سو پچھتر ١٩٧٥ میں آئ آئ ٹی بمبئی نے اپنا ایک سالانہ کلچرل فیسٹیول کا آغاز کیا ” موڈ انڈیگو” کے نام سے… یہ آج ایشیا کا سب سے بڑا کلچرل فیسٹیول ہے، یہ اپنے آغاز کے اگلے ہی سال سے اتنا مقبول ہوا کہ شو بز اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والی بڑی شخصیات اس میں ہر سال شریک ہوتی ہیں –
یہ تو صرف چند اہم باتیں جو میں نے ضروری سمجھی اشارتا اسکا ذکر کر دیا، حقیقت میں تو ایک ایک کیمپس کی ایک تاریخ اور ایک دنیا ہے جس پر الگ الگ مضامین لکھنے کی ضررت ہے … ہم فیس بک کے پھٹیچر لکھاری اگرانکی تفاصیل یہاں بیان کرنا شروع کر دیں تو کون پڑھے گا ؟ 🙂
ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں پڑھکرہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان جیسے نہیں ہو سکتے وہ ہم سے بہت آگے ہیں .. ہم جیسے نہیں ہیں .. ہندوستان تو ہمارے ساتھ ہی آزاد ہوا ؟ .. ہمارے جیسا ہی ہے ؟ ..مگر ہمارے جیسا ہو کر ہم سے کتنا آگے نکل گیا ؟ .. طویل مدتی منصوبوں اور حکومتی دلچسپی اور اقدامات سے … کہ صرف ایک ٹیکنالجی کا ادارہ پوری دنیا میں ہندستان کا ڈنکا بجا رہا ہے اور وہ ملک کے تعمیر و ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کر گیا ..آئ آئ ٹی ہی کی طاقت ہے کہ فیس کا مالک ہو کہ مائیکروسافٹ کا وہ بھارتی وزیر اعظم سے کیسے جھک جھک کر ملتے ہیں … جانتے ہیں کہ انکے ادارے میں کتنے ہندوستانی ہیں اور کس کس لیول پر ہیں، انہیں عزت دینے کے لیے لیے وہ نریندر مودی کو عزت دیتے ہیں ….. اوردوسری طرف ہم ہیں کہ ………………. ٹی وی میں ٹکر چل رہا ہے کہ ڈاکٹر عا صم کو سندھ میں ہائر ایجوکیشن کا دوبارہ سربراہ مقرر کر دیا گیا !!!

سہیل_بلخی ، IIT  انڈین_انسٹیٹیوٹ_آف_ٹیکنالوجی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے