صفحہ اول / سیاحت / تائیوان اسپیئر پارٹس برآمد کرنے والے سے ہائی ٹیک ملک کیسے بنا ؟

تائیوان اسپیئر پارٹس برآمد کرنے والے سے ہائی ٹیک ملک کیسے بنا ؟

مرکزی حکومت کے نیچے ایک مظبوط بلدیاتی نظام ملک کو ترقی کے راستے پر چلا رہا ہے

AUTHOR
سید امین الدین گزشتہ تیس سالوں سے تائیوان میں مقیم ہیں

٩٧% خواندگی نے ہی ملک کو دنیا کی ترقی یافتہ قوم بنا یا
مکتوب تائیوان – سید امین الدین


آج سے 28 سال قبل یعنی 1989 میں جب ہم نے روزگار کی تلاش اور دیگر مسائل کی بناء پر بیرون ملک جانے کی تگ و دو شروع کی تو ہمارے ایک جاننے والے صاحب نے ہمیں تائیوان جانے کا مشورہ دیا  ، ہم بہت حیران ہوے اور ان سے دو سوال کئیے –

ایک یہ کہ وہی تائیوان جہاں سے آٹو سپئر پارٹس بہت آتے ہیں؟  جب ہم اپنی موٹر سائیکل ٹھیک کروانے کے کئیے مکینک کے پاس لے جاتے تو مکینک ہمیشہ  پوچھتا تھا کہ بھائی  فلاں پارٹ خراب ہوگیا جاپانی پارٹ ڈلواو گے یا تائیوان پارٹ ؟  اب ظاہر سی بات ہے زمانہ طالب علمی میں اپنے مخصوص بجٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے تائیوان کے پارٹ پر ہی اکتفا کرکے اپنا کام چلا لیا کرتے تھے کیونکہ تائیوان کا پارٹ کم قیمت میں دستیاب ہوتا تھا

یہ تائیوان کی بلند ترین عمارت ہے جو 101 کے نام سے پہچانی جاتی اور مرکزی شہر تائیپی میں ہے

اس کے بعد ہمارا دوسرا سوال یہ تھا کہ بھائی جان تائیوان تو ایک جزیرہ ہے وہاں نوکری چاکری کہاں ملے گی کیونکہ ہمارے زہن میں جزیرے کا کچھ عجیب سا تصور تھا بہرحال ہمارے جاننے والے نے تفصیلات بتا کر ہمیں قائل کرہی لیا تھا ور ہم ویسے بھی اس وقت کراچی کے سیاسی اور دوسرے حالات کے ستائے ہوے تھے ہم نے فورا فیصلہ کیا بوریا بستر سمیٹا اور تائیوان کی طرف نکل پڑے اور آج تک اس خوبصورت جزیرے کی فضاؤں میں قید  ہوکر رہ گئے

اس میں کوئی شک نہیں کہ89 کی دھائی تک جہاں تائیوان کا نام آتا تھا وہیں ذہن آوٹ اسپئر پارٹس کی طرف جاتا تھا لیکن اب تائیوان کا نام آٹو سپئر پارٹس انڈسٹری میں نہیں بلکہ ہائی ٹیک انڈسٹری کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے- دنیا میں معاشی زوال کے بعد تائیوان کا شمار اب بھی دنیا کی 22 ویں بڑی معیشت میں ہوتا ہے اور چین کی حیرت انگیز معاشی ترقی اور دنیا میں اپنی سفارتی شناخت نہ ہونے کے باوجود تائیوان ہائی ٹیک صنعت کے حوالے سے دنیا میں اپنا مثبت کردار ادا کررہا ہے- اس وقت عالمی semiconductor کی صنعت میں جن چند ممالک کو غلبہ حاصل ہے ان میں تائیوان کا بھی شمار ہوتا ہے اور تائیوان semiconductor کی صنعت میں اپنا کلیدی کردار ادا کررہا ہے اس کے علاوہ تائیوان کی صنعت میں غیر ملکی انجنیئرز اور لیبرز بھی اپنا مثبت کردار ادا کر رہے ہیں-

 

تائیوان کے سیاسی نظام حکومت کے حوالے سے تائیوان جو جمہوریہ چین (ROC) کے نام سے بھی اپنی شناخت رکھتا ہے میں ایک مظبوط جمہوری صدارتی نظام ہے. تائیوان کا اپنا آئیں ہے جو 25 دسمبر 1947 میں نافذ العمل ہوا جس کو قدیم قوم پرست جماعت Koumintang نے تشکیل دیا تھا لیکن طویل خانہ جنگی اور 1949 میں ماوزے تنگ کی قیادت میں چینی کمیونسٹ انقلاب کے بعد اس وقت کے قوم پرست جنرل Chiang Kai Shek نے مارشل لاء ڈکلیئر کردیا اور اسی دوران قوم پرست جنرل Chiang Kai Shek کی قیادت میں قوم پرست فوجی بشمول سویلین اور اس وقت کی بنیادی حکومتی اور کاروباری کمیونٹی کی ایک بڑی تعداد چین سے تائیوان ہجرت کر گئی اور تائیوان

کے مرکزی شہر تائیپی کو جمہوریہ چین کا عارضی دارالحکومت بنانے کا اعلان کردیا جو اب بھی تائیوان کا دارالحکومت مانا جاتا ہے- تائیوان میں 1949 سے 1987 تک مارشل لاء نافذ رہا جس کی وجہ سے آئین کا بیشتر حصہ نافذ العمل نہیں رہا. 1970 کے اواخر میں سیاسی اصلاحات کا آغاز ہوا اور ایک طویل عمل سے گزرنے کے بعد تائیوان میں مارشل لاء کا اختتام ہوا جس کے باعث ایک کثیر جماعتی نظام بحال ہوا لیکن آئین میں ترامیم کا سلسلہ اب ابھی تک جاری ہے. آئین کے مطابق تائیوان میں چار سال بعد یعنی Leap Year میں جماعتی بنیاد پر براہ راست صدارتی اور پارلیمانی انتخابات ہوتے ہیں اور پرامن منتقلی اقتدار کا سلسلہ سیاسی رواداری کے ساتھ جاری ہے اس کے علاوہ آئینی طور پر ایک صدر کی زیادہ سے زیادہ معیاد دو صدارتی مدت ہے. تائیوان کے اپنے آئین اور جمہوری نظام کے باوجود عوامی جمہوریہ چین (PRC) ایک ملک دو نظام کی بنیاد پر تائیوان کو چین کا حصہ ہونے کا دعوہ کرتا ہے اور کم و بیش 68 سال کے بعد بھی عوامی جمہوریہ چین کسی بھی قیمت پر اپنے دعوے اور سخت اصولی موقف پر قائم ہے, عالمی برادری بھی عوامی جمہوریہ چین کے اس سخت اصولی موقف کی تائید تائیوان سے اپنے سفارتی تعلقات قائم نہ کرنے کی صورت میں کرتی ہے.

عوامی جمہوریہ چین کے اسی سخت موقف کی بنیاد پر تائیوان بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں میں Chinese Taipe کے نام سے اپنی شرکت کو یقینی بناتا ہے-
تائیوان کا انتظامی نظام حکومت پانچ برانچوں میں تقسیم کیا گیا ہے کانگریس یا پارلیمنٹ, کابینہ, جوڈیشل ایوان, آڈٹ ایجنسی, سول سروس ایجنسی- صدر ہی سربراہ مملکت اور مسلح افواج کا سربراہ ہوتا ہے اور وزیراعظم کی نامزدگی اور کابینہ کی تشکیل کا مکمل اختیار صدر کے پاس ہے. پالیسی اور قانون سازی کی ذمہ داری ارکان پارلیمنٹ پر ہوتی ہے جس کی حتمی منظوری صدر دیتا پے-

مرکزی نظام حکومت کے علاوہ تائیوان میں ایک مظبوط بلدیاتی نظام موجود ہے اس نظام کے تحت ہر چار سال بعد جماعتی بنیاد پر بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہوتا ہے جس میں عوام اپنے ووٹوں کے ذریعے براہ راست اپنے شہر کا جماعتی و غیر جماعتی مئیر اور بلدیاتی نمائندے منتخب کرتے ہیں جو لوکل حکومت کی تشکیل اور ان کے شہری مسائل کو حل کرنے میں مکمل طور پر با اختیار ہوتے ہیں یہاں کی پولیس لوکل شہری حکومتوں کے دائرہ اختیار میں آتی ہے جس کی بنیاد پر شہروں میں قانون کی بالادستی قائم رہتی ہے-

تائیوان کا آئین لوگوں کی مذہبی آزادی اور ان کے اپنے مذہبی عقائد کے مطابق زندگی گزارنے کو تحفظ فراہم کرتا ہے. تائیوان کی اکثریت عام طور پر مذہبی وابستگی کو بالائے طاق رکھ کر کنفیوشنزم کے سیکولر اخلاقی تعلیم کو یکجا کرتے ہیں لیکن پھر بھی مذہبی لحاظ سے اکثریت بدھ مت کو ماننے والوں کی ہے اس کے علاوہ عیسائی اور اسلام کے پیروکار بھی ہیں (تائیوان میں مسلمانوں کے حوالے سے ان شاء اللہ ہم کسی اور نشست میں ذکر کریں گے) لیکن تائیوان کے لوگ مذہب سے بہت دور ہیں لیکن جب ان کے سامنے مذہب کی دعوت رکھی جاے تو اپنی توجہ ضرور مرکوز کرتے ہیں لیکن کسی بھی منفی و مثبت تاثرات کا اظہار نہیں کرتے کیونکہ تائیوانی مذہب کو ایک ذاتی معاملہ سمجھتے ہوے اسکو اہمیت نہیں دیتے-

تائیوان میں صحت کی دیکھ بھال کا نظام سرکاری نیشنل ہیلتھ انشورنس بیورو کے تحت کام کررہا ہے, حکومتی صحت انشورنس پروگرام ہر تائیوان شہری اور غیر تائیوان شہری پر لاگو ہوتا ہے جس سے ہر شہری مستفید ہوتا ہے-

اگر ہم تائیوان کے نظام تعلیم پر سرسری نظر نہ ڈالیں تو بڑی زیادتی ہوگی کیونکہ مہذب معاشرے کی تعمیر کی بنیاد ہی تعلیم ہی ہوا کرتی ہے. تائیوان میں بچہ جب 6 سال کی عمر تک پہنچتا ہے تو متعلقہ ادارے کی طرف سے والدین کو بچے کو اسکول میں داخلے کی یاددہانی کا نوٹس بھیجا جاتا ہے اگر والدین بچے کو اسکول نہ بھیجیں تو وہ قانونی طور پر سزا کے مستحق ہوتے ہیں کیونکہ تائیوان کے قانون کے مطابق ہر شہری پر بارہ جماعت تک تعلیم حاصل کرنا لازمی ہے- جونئیر ہائی اسکول کے 95 فیصد گریجویٹ طلبہ و طالبات سینیئر ہائی اسکول, پیشہ ورانہ اسکول, یونیورسٹی اور دیگر تعلیمی اداروں میں جاتے ہیں, بیشتر طلبہ و طالبات اپنی صلاحیتوں کی اجاگری اور مختلف مضمونوں کے امتحانات کی تیاری کے لئیے ٹیوشن سینٹر بھی جاتے ہیں.

تائیوان سوسائٹی کا شمار سائینس, ریاضی پڑھنے میں سب سے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ممالک میں ہوتا ہے, اس حوالے سے سال 2015 میں تائیوان کے طالب علموں نے سائینس, ریاضی اور سوادگی میں دنیا میں بہترین نتائج حاصل کئیے. گزشتہ ایک دہائی میں تائیوان کی یونیورسٹیوں میں داخلہ کی شرح میں 90 فیصد تک اضافہ ہوا ہے. تائیوان کا شمار ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں طلباء شدید ذہنی دباو کا شکار ہونے کی وجہ سے تنقید بھی کی جاتی ہے. تائیوان میں خواندگی کی شرح 97.3 فیصد ہے- اسی تعلیم نے تائیوان کو دنیا کے تہذیب یافتہ ممالک کی صفوں میں لا کھڑا کیا-
اگر ہم مجموعی طور پر تائیوان کے لوگوں کے رویوں اور طرز زندگی پر مختصر سی نظر ڈالیں تو ہم انکو مثبت سوچ کا مالک پائیں گے اور ان کا رویہ بہت دوستانہ ہوتا ہے عمومی طور پر انکی زندگی دکھاوے سے عاری نہایت سادہ ہوتی ہے لیکن مثبت رویوں کے ساتھ منفی رویہ بھی دیکھنے میں آتا ہے جو کہ معاشرے کی مکمل غمازی نہیں کرتا- دوسری جنگ عظیم سے قبل جاپان کے زیر حکمرانی رہنے کے باعٹ تائیوانی اب بھی جاپانی نظام اور کلچر سے کافی متاثر ہیں اور جاپانی روایات و طرز زندگی کو اپنانے میں جھجک محسوس نہیں کرتے کیونکہ یہ سمجھتے ہیں کہ آزاد معاشرے میں کسی بھی طرز زندگی کو اپنانا ان کا بنیادی حق ہے-

یہ تائیوان کا ایک مختصر سا تعارف تھا جو ہم نے اپنے بے ترتیب و ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں آپ کے سامنے رکھنے کی کوشش کی اگر اس مختصر تعارف میں نادانستہ طور پر کہیں غلطی ہوگئی ہو تو براے مہربانی میری تصیح فرمائیں تاکہ غلطی کا ازالہ ہوسکے. ہم کوشش کریں گے کہ ان شاء اللہ وقتا فوقتا تائیوان کے حالات سے آپکو آگاہ رکھیں-

آپ مجھے فیس بک پر فالو کر سکتے ہیں
https://www.facebook.com/aminuddink

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے