صفحہ اول / ٹیکنالوجی / فیس بک استعمال کروں کہ ٹویٹر ؟ – دونوں میں سے کیا بہتر ہے

فیس بک استعمال کروں کہ ٹویٹر ؟ – دونوں میں سے کیا بہتر ہے

میں اپنے کاروبار کے لئیے کیا استعمال کروں فیس بک یا ٹویٹر یا دونوں ؟

ہم آئے دن اپنے دوستوں کے ان سوالات کا سامنا کرتے ہیں ہیں کہ فیس بک اور ٹویٹر میں کیا بنیادی فرق ہے ، کیا استمال کریں ؟ دونوں استمال کریں ؟ مگر کیوں اور کیسے ؟  یہ ایک دلچسپ اور معلوماتی عنوان ہے اور اس پر بہت تفصیل سے لکھا اور پڑھا جانا چاھئیے مگر مختصر نویسی کا زمانہ ہے ہر وہ چیز جو دو پیراگراف سے زیادہ ہو لوگوں کو اکثریت اسکو پڑھے بغیر آگے گذر جاتی ہے اس لیے یہاں اسکو اختصار سے بیان کرنے کی کوشش ہے –

 

فیس بک اور ٹویٹر دونوں مختلف طریقوں انفارمیشن پہنچاتے ہیں ، اگر چہ دونوں کےصارفین ایک جیسے ہیں اور کسی حد تک مشترکہ بھی ہیں مگر یہ دو پلیٹ فارم  دو مختلف طریقوں سے آپکی مارکیٹنگ کی ضروریات کو پوا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں

دنیا کے ہر خطے میں انکے صارفین  بھی الگ الگ ہیں مثال کے طور پر امریکہ میں ٹویٹر افریقی امریکن اور اسپینش مارکیٹ میں اور خاص کر اٹھارہ سے ٢٩ سال کے لوگوں میں زیادہ صارفین رکھنے والا ٹویٹر ہے تو اسی خطے میں فیس بک سینئر اور خواتین میں مارکیٹنگ کے لیے زیادہ بہتر ہے

ٹویٹر کسی چیز کا وائرل ٹرینڈ بنانے میں بہتر ہے ، یہ ٹرینڈ بعض اوقات کسی باقاعدہ مارکیٹنگ حکمت عملی سے بھی بہتر نتائج دیتےہیں ، مگر فیس بک کسی برانڈ کے صارفین سے گہرے تعلقات، کمیونکیشن  کے لئیے ٹویٹر سے بہتر ہے

فیس بک کے صارفین اپنے خاندان اور دوستوں سے قریبی تعلق رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں اور  ساتھ ہی یہ اپنے پسندیدہ برانڈز، من پسند اہم شخصیات، پسند کی  کتابوں اورپسند کی تنظیموں  سے بھی انکے صفحات کو لائک کر کے جڑے رہتے ہیں ، جبکہ یہ وفاداری اور تعلق ہمیں ٹویٹر پر نظر نہیں آتا

سوشل نیٹ ورک پر اب صرف ٹین ایجرز اور جوان نہیں بلکہ سینیرز بھی بڑی تعداد میں ہیں، ڈیٹا دیکھ کر پتہ لگتا ہے کہ سینیرز ہی سوشل میڈیا کے صارفین کا  سب سے تیز رفتار سیگمنٹ ہے

اگرچہ ٹویٹر اور فیس بک استعمال کرنے والوں کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہی ہو رہا ہے مگر آپکو اپنے پروڈکٹ اور اپنی مارکیٹ کے لحاظ سے پہلے دیکھنا ہو گا کہ ٹارگٹ مارکیٹ کہاں ہے  تاکہ آپ درست سمت میں پیسے خرچ کریں اور بہتر نتائج حاصل کریں ، یہ ڈیٹا وقت کے لحاظ سے اور علاقے کے لحاظ سے بدلتا ہی رہتا ہے

فیس بک سے تو بہت کچھ کیا جا سکتا ہے پھر کیا وجہ ہے ٹویٹر کی مقبولیت کی ؟

اگر آپ کسی غار میں زندگی نہیں گذار رہے تو چاہے آپ ٹویٹر نہ بھی استعمال کر رہے ہوں آپ نے اسکا ذکر تو بہت سنا ہوگا –  ابھی گیارہ سال کی عمر میں پہنچا ہے اور ہر سال اسکے صارفین کی تعداد بڑھ ہی رہی ہے – مشھور براڈ کاسٹر اوپرا ونفرے نے جب سن ٢٠٠٩ میں اپنا پہلا ٹویٹ کیا تھا تو اس نے پہلے ہی گھنٹے میں  ایک لاکھ لوگوں کی توجہ حاصل کر لی تھی ، یہ ہے ٹویٹ کی طاقت ، جو لمحوں میں لاکھوں کروڑوں تک کسی بھی کمیونٹی میں کوئی بات پہنچا سکتی ہے

سوشل نیٹ ورک بن گیا تھا –
ٹویٹر کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ اسکا سادہ استعمال ہے ، فیس بک کے طرح اس میں بہت سارے جھمیلے نہیں ہیں ..ایک ایک کرکے بہت سارے افراد  کی آپکے دوست بننے کی درخواست کی منظوری نہیں دینی ہوتی آپکو  …. کون کیا کمنٹ کر رہا ہے ؟ کس تصویر پر کس نے کس کو ٹیگ کیا ؟ اور دسیوں چیزیں جو ، کسی اہم شخصیت اور سلیبرٹی یا بزنس مین کے لیے تقریبا نامکن ہے، یہی وجہ ہے مصروف افراد کے لئیے فیس بک کو میںج کرنا تقریبا ناممکن ہے اور وہاں اپ انکا صفحه تو دیکھیں گے جو کوئی شوشل میڈیا مینجر چلا رہا ہوگا مگر وہ خود نہیں ہونگے
اگرچہ ٹویٹر زیادہ تر نوجوان ہی استمال کرتے ہیں مگر اسکے سادہ اور آسان ہونے کی وجہ سے اسکے چار فیصد صارفین  ٦٥ سال سے زیادہ کی عمر کے ہیں

مائکرو بلاگنگ کے لیے کسی ویب سائٹ کے بغیر دنیا سے اپنی بات کرنا کہ ہزاروں لاکھوں لوگ مفت میں اپکا مختصر پیغام پڑھیں ، اور کیا چاہیے کسی لیڈر کو ؟ ، کسی خاص چیز کے سیکھنے کی کوئی ضرورت  بھی نہیں اور کسی منیجر کی بھی کوئی ضرورت نہیں پڑتی

ٹویٹر میں   فیس بک کے مقابلے کچھ زیادہ نہیں پھر بھی لوگ کیوں پسند کرتے ہیں ؟

ٹویٹر آپ پر فیس بک کی طرح اپنی ہدایات اور پالیسی کی بمباری نہیں کرتا, فیس بک پر اچھی پروفائل امیج اور کور تصور نہ ہو تو بہت سست اور غیر دلچسپت لگتا ہے مگر  ٹویٹر بغیر کسی کاسمیٹکس کے بھی شروع ہی سے اچھا لگتا ہے ، ہزاروں لاکھوں لوگ ایسے ہی استعمال کرتے ہیں مگر ٹھیک لگتا ہے ، ویسے تو ٹویٹر FACEBOOK VS TWITTER URDU

نے بہت سارے ٹولز فراہم کیئے ہیں جنہں استعمال کر کے آپ کچھ کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں

مقبولیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آپ ٹویٹر کے ایک سے زیادہ  اکاؤنٹس بنا سکتے ہیں مختلف حلقے یا مختلف دلچسپی کے لئیے ، لیکن یہی کام اگر آپ فیس بک پر کرینگے تو  شائد اکاونٹ معطل ہو جائے یا لاک ہو جائے ، یہ ایک حقیقت ہے کہ فیس بک پر بہت سے صارفین کو اس بات کی شکایت ہے کہ انکا اکاؤنٹ عجیب و غریب وجوہات پر بند کر دیا جاتا ہے –

ایک بزنس مین نے بتایا کہ انکا اکاؤنٹ فیس بک نے ڈیلیٹ کر دیا اور نتیجتا اسکے ساتھ ہی انکا بزنس پیج بھی ڈیلیٹ ہو گیا ، جب انہوں نے فیس بک سے رابطہ کیا تو پتہ چلا کہ انہیں اس وجہ سے ڈیلیٹ کر دیا گیا کہ انہوں نے اپنے ہائی اسکول کا نام غلط بیان کیا تھا ، اور انہوں نے جھوٹ بولا تھا اس بارے میں حالانکہ اصل بات صرف اتنی سی تھی کہ انہوں نے مذاق کے طور پر ایک مزاحیہ نام لکھا تھا کہ میں اس اسکول سے پڑھا ہوں ..اتنی سی بات پر

FACEBOOK VS TWITTER COMPARISON

اکاؤنٹ ڈیلیٹ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے

ایک اور فرد نے جو  ایک خاص شعبے میں مشھور ہونے کی وجہ سے کافی بڑا حلقہ رکھتے ہیں اور انہیں دھڑا دھڑ لوگ دوست بننے کی درخوست بھیجتے ہیں اور انکی پوسٹ پر کمنٹس لکھتے تھے ، فیس بک نے "مشتبہ ” سرگرمی کہکر اکاؤنٹ لاک کر دیا ..

ٹویٹر کے بارے میں ایک عام شکایت یہ ہے کہ انکے ٹویٹس اکثر و بیشتر ہر جگہ نہیں پہنچتے –  مختصر ٹویٹس بھی بات پہچانے میں ایک رکاوٹ ہیں  ایک سو چالیس حروف میں ایک مکمل بات اکثر و بیشتر نہیں پہنچ پاتی – بہت سے لوگوں کو یہاسپیس ناکافی  لگتا ہے – باکثر صارفین کو دماغ پر  زور لگانا ہوتا ہے کہ اصل پیغام کیا ہے  بعض لوگوں کے نزدیک ٹویٹربزنس میں  ایک الیوشن پچ کے طور پر ہی لیا جانا چاہئیے

 فیس بک بھی آپکے کاروبار کے لیے ایک زبردست پلیٹ فارم ہے ، آپکے برانڈ پیج کے لئیے لائک حاصل کرنا اتنا آسان نہیں جتنا ٹویٹر پر فالو ورز حاصل کرنا – فیس بک پر لائک حاصل کرنا ہی کافی نہیں بلکہ آئے دن کچھ نہ کچھ ایسا سوچنا اور کرنا ہوتا ہے جس میں آپ اپنے قارئین کو اس بات پر مصروف رکھیں کہ وہ آپکے بارے میں سوچیں یا کچھ ڈسکس کریں ، یہ کوئی بچوں کا کام نہیں اور سچ بات تو یہ ہے کہ کسی بزنس اور تنظیم کے لیے  سوشل میڈیا مینجمنٹ کوئی عام فرد کے بس کی بات نہیں – ایک اچھا کونٹینٹ لکھنے والا، نئے خیالات کے ساتھ اور اس بات پر نظر رکھنے والا محنتی فرد ہر ادارے کو درکار ہے جو  انٹرنیٹ پر ہر وقت نظریں جمائے رکھتا ہے، لوگوں کو جوابات  دیتا ہے .، جو لوگ اسکے ادارے کو مینشن کرتے ہیں انکا شکریہ ادا کرتا ہے، اپنے حریف اداروں کی سرگرمیوں پر FACEBOOK VS TWITTER

اسکی گہری نظریں ہوتی ہیں اور یہ سب کام وہ اکیلے نہیں کر سکتا بلکہ مطلوبہ ٹولز اور ہنر سے لیس ایک ٹیم کی مدد سے کرتا ہے

یہ درست ہے کہ فیس بک آپکو ٹویٹر کے مقابلے میں زیادہ معلومات اور ٹولز فراہم کرتا ہے اور آپکو بے شمار آپشن دیتا ہے کہ اپ جیسے چاہیں اپنی معلومات فیس بک کی مدد سے آگے پھیلائیں – آپ اپنی تصاویراور ویڈیوز کو کوڈ میں تبدیل کریں اور اپنی ویب سائٹ اور دیگر جگہوں پر استمال کریں، فیس بک ایونٹس، آفرز، ڈسکاونٹ،اور بہت سارے آپشن خاص کر کاروباری برادری کے لیے بنائے گے ہیں جو ہر لحاظ سے کسی بھی کاروبار کی کامیابی کے لیے استمال کیے جاسکتے ہیں

مختصر یہ کہ، جب بھی ہم دو پلیٹ فارم کا موازنہ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے ہے کہ انکا کوئی  موازنہ ہو ہی نہیں سکتا ، اسکے علاوہ   بھی جو دیگر سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم جیسے گوگل پلس، انسٹاگرام، اسنیپ چاٹ ، پنٹرسٹ  اور وہاٹس ایپ ہیں سب کے الگ الگ فیچر ہیں اور مختلف ضرورتوں میں مختلف پلیٹ فارم زیادہ کارگر ثابت

ہوتے ہیں ، پہلے آپکو اپنی ضرورت ، اپنی دلچسپی اور اپنا ٹارگٹ حلقہ تلاش کرنا ہے کہ وہ کہاں ہے  اور اسکے بعد آپ اپنی سوشل میڈیا حکمت عملی ترتیب دیتے ہیں ہر پلیٹ فارم کے لئیے الگ الگ ، اسکی نوعیت کے اعتبار سے کونٹینٹ تیار کرتے ہیں اور ایک ہی وقت میں تمام جگہوں پر آپکی موجودگی جب لوگوں کو نظر آتی ہے تو انکے لیے آپکو نظر انداز کرنا مشکل ہو جاتا ہے

میرے خیال میں سوشل میڈیا نیٹ ورک کے بہترین فوائد حاصل کرنے کا راستہ  یہی ہے کہ  فیس  بک اور ٹویٹر دونوں ہی استمال کریں ، یہ ذہن میں رکھتے ہوئے کہ دونوں کا حلقہ صارفین مختلف شہروں اور ممالک میں مختلف ہوگا اور دونوں کے اصول و ضوابط بھی الگ ہونگے اور دونوں پر صارفین کی اکثریت بھی الگ الگ اوقات میں موجود ہوتی ہو گی ..

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے