صفحہ اول / ٹیکنالوجی / انٹرنیٹ / مولانا مودودی کا لٹریچر الیکٹرونک میڈیا میں نہ ہونے کے برابر!

مولانا مودودی کا لٹریچر الیکٹرونک میڈیا میں نہ ہونے کے برابر!

maulana-maududi-the-successful-preacher-of-islam-hamara-akhbarمولانا مودودی کا لٹریچر الیکٹرونک میڈیا میں نہ ہونے کے برابر,کتابیں پڑھنے کا رجحان کاغذ سے ٹیبلیٹ,اسکرین اور آئ پیڈ آڈیو بکس پر منتقل…مودودی کے وارث سب سے زیادہ محنت اس شعبے میں کر رہے ہیں جہاں سب سے زیادہ ناکامی کا سامنا ہے -جہاں سب سے زیادہ کامیابیاں ملیں وہاں سب سے کم توجہ…وقت کا اولین تقاضہ ہے کہ بدلتے زمانے میں مولانا کا عظیم لٹریچر جس نے دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک ایک نسل کو بیدار کیا تھا ذہنوں کو جھنجھوڑنے والی کتابیں,انکے مختصر خلاصے آڈیو, وڈیو,ای بکس پر نہ صرف موجود ہوں بلکہ اسکو پھیلانے میں تمام وسائل استعمال ہوں…ایک ایسے دور میں جب ایک معمولی تقریر ,ایک عام سی وڈیو کروڑوں اور اربوں کی تعداد میں لوگوں تک ‘وائرل’ ہوجاتی ہے تو ہم اس وائرس کو دینی تعلیمات پھیلانے کا کام ابھی تک شروع ہی نہیں کر سکے –

 

اگر مولانا حیات ہوتے تو سب سے زیادہ اہمیت دعوت کو الیکٹرونک میڈیم میں منتقلکرنے پر لگاتے …وہ ضرور ایک 30 سالہ پروجکٹ بناتے جہاں ٹاپ کےماہرین ایک ٹیم کی صورت میں دن رات یہ کام کر رہے ہوتے…کچھ لوگ کتابوں کا انتخاب اور اس میں ضروری تبدیلیاں کرتے,کچھ مختلف زبانوں میں تراجم پر,کچھ اسکو آڈیو بکس میں ڈھالتے , کچھ وڈیوز پر,کچھ دن رات یو ٹیوب کے کیڑے بنکر اس پر اس وائرس کو پھیلاتے,کچھ ویب سائٹس اور بلاگز پر – کچھ لوگ اینڈرائڈ پر تو کچھ ایپل کے آئ فون اور آئ پیڈ پر,کنڈل پر,ونڈوز فون پر ,vimeo پر,…اور کچھ لوگ سرچ انجن آپٹمائزیشن پر لگے رہتے ….

"نہریں بہہ بہہ کر دروازوں تک آگئی ہیں صرف دروازے تک جانے کی ضرورت ہے”

مودودی کے وارثین کے موجودہ ٹیم لیڈر کو انکے سکریٹری کو کوئ یہ سمجھائے کہ اصل اور بنیادی کام یہی ہے ..لوگ یہیں سے بنتے ہیں ..نہریں بہہ بہہ کر دروازوں تک آگئی ہیں صرف دروازے تک جانے کی ضرورت ہے …یہ کام کیئے بغیر باقی کاموں کا کوئ مستقبل نہیں بن سکتا – اب تو ان پڑھ لوگ بھی موبائل پر اندازے سے فیس بک اور یو ٹیوب چلا کر وڈیو انجوائے کرتے ہیں گانے سنتے ہیں ,تقاریر سنتے ہیں اپنی زبانوں میں …اب تو یہ رکاوٹ بھی نہیں کہ صرف تعلیم یافتہ لوگ ہی آپکی کتابیں پڑھ کر آپ کا پیغام سمجھ سکتے ہیں…اٹھیے اور اپنی اولین ذمہ داری ادا کرنے کے لیے اپنا تعلق,اپنا وزن استعمال کیجئے اور منصورہ کال کر کے انھیں سمجھائیے کہ اس طرف توجہ دیں….ہم سب پر برابر کی زمین داری ہے ..

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے