صفحہ اول / پاکستان / کارڈیو ہسپتال نمایاں بہتری اور ترقی کے راستے پر

کارڈیو ہسپتال نمایاں بہتری اور ترقی کے راستے پر

دل سے گواہی دیتا ہوں کہ آج پاکستان کے سب سے بڑے دل کے ہسپتال میں اچھے انتظامات دیکھے اور نمایاں بہتری صاف نظر اتی ہے اگر آپ کوئی تعصبی چشمہ پہنے بغیر دیکھیں اور آپ کا دل اتنا مظبوط ہے کہ آپ مخالف سیاسی پارٹی کے اچھے کاموں کی بھی تعریف کرسکتے ہیں تو آپ بھی یہی کہیں گے کہ صحت کے معاملے میں پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت شہباز شریف سے آگے ہے – جنرل وارڈ میں سب کچھ فری ہے، صاف شفاف فرش اور بیڈز، خوش اخلاق اور مستعد عملہ اور بے شمار سہولیات اور کیا چاہیئے آپکو ؟ قومی ادارہ برائے امراض قلب ہسپتال کراچی کے سب سے بڑے ہسپتال جناح ہسپتال کے عین مقابل واقع ہے. حکومت پاکستان کے زیرنگرانی اس ہسپتال کا نام نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کارڈویسکولر ڈیپارٹمنٹ ہے۔ تاہم عرف عام میں اس کو کارڈیو کہاجاتا ہے.امراض قلب کے علاج کے حوالے سے یہ پاکستان کا سب سے بڑا ہسپتال مانا جاتا ہےجسے نا صرف کراچی بلکہ پورے پاکستان سے لوگ استعفادہ کرتے ہیں.- جنرل وارڈ میں عام لوگوں نے بتایا کہ ہاں پہلے سے بہت بتہر انتظامات ہیں اور ہم نے کسی بھی قسم کی کوئی ادائیگی نہیں کی، کارڈیو بھی بہت اچھا جا رہا ہے اور بڑا ہسپتال (جناح) اس سے بھی اچھا ہے –


ہسپتال کے ترجمان کے مطابق این آئی سی وی ڈی میں اب سالانہ 5000 بنیادی انجیوپلاسٹی ہوں گی۔ گزشتہ تیس ماہ میں 9ہزار58انجیوپلاسٹی ہوئی ہیں اور ڈھائی سال میں84 فیصد ایمرجنسی کیسزمیں اضافہ ہوا ہے۔یھاں 200کارڈیک سرجریز ہر ماہ ہوتی ہیں۔اس سال تقریباً3000سرجریزکرنے کا پلان ہے – سرجیکل آئی سی یو 20بستر سے بڑھا کر 34 بستروں پر کیا گیا ہے۔ایکو کی 11نئی مشینیں خریدیں گئی ہیں روزانہ ایکو 70سے بڑھ کر اب 350فی دن تک پہنچ گئی ہے۔


این آئی سی وی ڈی نے مفت پیس میکر لگانے کا کام بھی شروع کیا ہے جو نجی اسپتالوں میں پیس میکر کا خرچہ 4000اور 8000سے لیکرایک لاکھ 35ہزار تک ہوتا ہے۔ این آئی سی وی ڈی میں پوسٹ گریجویشن کے پروگرام سے 2015سے17تک 37ایف سی پی ایس اور 37 نے کارڈیو میں ڈپلومہ کیا ہے- ہسپتال کی عمارت 50سال پرانی ہے نئی تین منزلہ او پی ڈی عمارت اگلے 6 ماہ میں مکمل ہو جائے گی۔ ہسپتال اس بات کے لئیے بھی عملی کوششیں کر رہا ہے کہ سندھ کے مختلف مقامات پر ایمرجنسی سینٹر قائم کرے تاکہ دل کے مریضوں کو بروقت طبی امداد مل سکے-

مراد علی شاہ کی حکومت کو مبارکباد کہ مرکز سے صوبوں کو منتقل ہونے کے بعد انہوں نے اس میں بہتری کے لیے کام کیا اور اسکی گنجایش میں اضافہ کر رہے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے