صفحہ اول / پاکستان / سوشل میڈیا پر سیاسی جماعتوں کی لڑائیاں حد پار کرتی جا رہی ہیں

سوشل میڈیا پر سیاسی جماعتوں کی لڑائیاں حد پار کرتی جا رہی ہیں

سہیل بلخی – کراچی 
عمران خان اور سراج الحق ایک دوسرے کے خلاف نہیں بات کرتے، نہ کوستے ہیں نہ الزام لگاتے ہیں- دونوں نے کے پی کے اسمبلی میں اپنے نمبرز دیکھ کر اپنی
ضرورت کے لحاظ سے اتحاد کیا نہ ضم ہوئے نہ ایک دوسرے کو گرانے یا ختم کرنے کی کوئی کوشش کی نہ ایم کیو ایم اور پی پی پی کی طرح استعفی اور واپسی کے کھیل کھیلے- یہ اتحاد صرف ایک ٹرم کے لئیے اور صرف اسمبلی میں تھا ،پانچ سال پورے ہونے والے ہیں اور دونوں جماعتیں زمینی حقایق دیکھتے ہوئے اپنے پارٹی کو آگے لے جانے کے لیے اپنا اپنا راستہ چن رہی ہیں –
مگر یہ ایک پروقار رخصتی بھی ہو سکتی ہے، اسمبلی میں دونوں پارٹیاں اپنے بے مثال ورکنگ ریلیشن شاندار کارناموں کو ایک ساتھ بیٹھ کر عوام کے سامنے گنواسکتی ہیں – دیگر جماعتیں اسی انتظار میں رہیں کہ جماعت اور پی ٹی کی مشترکہ حکومت کب انجام کو پہنچتی ہیں، بلا شبہ نچلی سطح پر اونچ نیچ چلتی رہی مگر سراج الحق اور عمران خان صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اسکو بہترین ہنڈل کیا اور معاملات کو مثبت انداز میں آگے چلنے دیا ..
آج کا پشاور اور آج کا کے پی کے اسی اتحاد کی بدولت پہلے سے کافی آگے نکل گیا ورنہ اسکا نمبر پنجاب کے بعد دوسرا نہیں سندھ کے بعد تیسرا ہوتا –
 
کیا ہی اچھا ہو کہ جس طرح دونوں جماعتوں نے مشترکہ حکومت کا ٹرم تقریبا پورا کر لیا وہ ایک اچھے انداز میں الگ ہوں ؟ یہ زمہ داری بھی سراج الحق اور عمران خان کی ہی ہے کہ اگر پی ٹی ای نے جماعت سے مزید اتحاد نہ کرنے کا اور جماعت نے دینی جماعتوں کے اتحاد کی طرف جانے کا فیصلہ کیا تو وہ اسکو خوش دلی کے ساتھ اپنے اپنے کارکنان اور عوام کے سامنے پیش کریں، اعتماد میں لیں اور وجوہات بیان کریں تاکہ وکرز میں یکسوئی ہواور ہر کوئی اسکی کوئی انوکھی توجیہ نہ پیش کرے –
ہنسی خوشی سے بچھڑجا، اگر بچھڑنا ہے—–اپنے اپنے راستے پر چلنے کے لیے ہاتھ ملا کر گڈ بائی کرنے میں کیا برائی ہے ؟ پانچ سالہ کنٹرکٹ پورا ہو گیا اب اگر دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت نہیں رہی تو اس کنٹریکٹ کی تجدید کی ضروروت نہیں ہے –
آج اگر ایم ایم ائے دوبارہ بحال ہو رہی ہے، ایک نیا کنٹریکٹ بننے جا رہا ہے تو کل کی کسے خبر کہ کب دوبارہ کس کو کس سے اتحاد اور شراکت کا کوئی معاہدہ دوبارہ بنانا پڑے –
امریکہ میں میں نے زیادہ تر فل ٹائم ملازمت کی بجائے بطور آئ ٹی پروفیشنل اور آزاد کنسلٹنٹ کے مختلف اداروں میں شارٹ ٹرم اور لونگ ٹرم کنٹریکٹ پر کام کیا ہے- جہاں جہاں کنٹریکٹ ختم ہونے پر اچھے انداز میں الگ ہوئے، فیئر ویل لنچ کیااور ایک دوسرے کو ہنسی خوشی رخصت کیا ، وہاں میں بھی دوبارہ جانے کو تیار رہتا تھا اور وہ بھی بلانے کو تیاررہتے تھے، ایک دو جگہ ضرورت بھی پڑی اور پرانی جگہ دوبارہ جا کرنیا کنٹریکٹ کر کے کام کرنا پڑا –
 
اگرملازمت میں ہم واپس جاتے ہوئے پلوں کو نہیں جلاتے تو سیاست میں یہ عمل کیسے سہہ سکتے ہیں ؟ – ہم تو یہی سنتے ہیں آپ سیاست دانوں سے کہ
” سیاست میں کوئی چیز حتمی نہیں ہوتی ” —-
” سیاست میں ہمیشہ نہ کسی سے جھگڑا نہ ہمیشہ محبت رہتی ہے، وقتی اور ضرورت کے لحاظ سے تعلقات بنتے اور ختم ہوتے ہیں ” –
اگر ایسا ہی ہے تو براہ کرم اپنی نچلی سطح کا بھی جایزہ لیں، سوشل میڈیا پر دونوں پارٹیوں کے کچھ وورکز ایک دوسرے کے خلاف بہت گندی زبان استعمال کر رہے ہیں ، ایک دوسرے کی قیادت کی ذاتی زندگیوں پر کیچڑ اچھال رہے ہیں اور حد سے گذرتے جا رہے ہیں –
کل کو اگرعمران خان اورسراج الحق کی پارٹیوں کا دوبارہ اتحاد ہوا، جیسے فضل الرحمن سے جماعت اسلامی کا اتحاد دوبارہ ہورہا ہے تو اس وقت جماعت کے وہ ورکرز کیا کہیں گے جو عمران خان پرذاتی حملے کر رہے ہیں ؟ اور اگر عمران خان کومستقبل میں کسی جگہ جماعت اسلامی کی ضرورت پڑی تو پی ٹی آئ کے وہ ورکرز کیا کریں گے جو آج انکے خلاف غلط زبان استعمال کر رہے ہیں ؟
 
سوشل میڈیا پر ایک دوسروں پر رکیک حملے اور غلط زبان کا استعمال ورکرز سے زیادہ قیادت کی کوتاہی اورعدم توجہی کی طرف اشارہ کرتی ہے – قیادت کو اپنے ورکرز کو ساتھ لے کر ایک پیج پر رکھنا بھی ضروری ہے اور انکی تربیت بھی ان ہی کی ذمہ داری ہے – سیاسی وکرز کی سوچ گالیوں بھری نہیں ہوتی ، وہ تو پالیسی پر، اپنی جماعت کے موقف اور اپنے قائدین کے بیانات کی وضاحت کرتے ہیں، بہتر سے بہتر لفظوں میں کہ سننے والا یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ جس جماعت کے ورکرز کی زبان اتنی نفیس، اتنی شائستہ اور گفتگو اتنی مدلل ہو اسکے رہنما کیسے ہونگے ؟ –
سوشل میڈیا پر لوگ آپکے الفاظ ہی تو پڑھتے ہیں؟ اپکا انداز تخاطب ہی تو دیکھتے ہیں ؟ آپ اختلافی نوٹ کیسے پیش کرتے ہیں اسی پر تو انکی نظریں ہوتی ہیں – ایک ایک ورکر ہی اپنی زبان و بیان سے اپنے پارٹی کی چاول کی بوری کا پتہ دیتا ہے –
اگر آپکو کہیں کوئی ایسا نظر آئے جو حد سے گذر رہا ہے تو فیس بک نے آپکو آپشن دیا ہے نا ان فرینڈ اور بلاک کا ؟ جوابی گالی اور جوابی حملے کا آپشن نہیں ہے آپکے پاس وہ بھی خراب زبان میں-
 
میں امید کرتا ہوں کہ قیادت اپنی پالیسیوں سے ورکرز اورعوام کو سوشل میڈیا پرویڈیو اورلائیو پیغامات کے ذریعہ اعتماد میں بھی لے اور بار بار توجہ بھی دلائے کہ پاکستان کی تمام پارٹیاں ہمارے لیے یکساں احترام رکھتی ہیں، ان میں سے کوئی بھی دشمن نہیں، پالیسی اور حکمت عملی کا فرق ہے اوراس میں بھی بات چیت اور مکالمے سے قریب آیا جا سکتا ہے – عمران خان اور سراج الحق ایک دوسرے کی پارٹیوں کے لئیے اچھے کلمات کہیں گے اور عزت و احترام کی تلقین کریں گے تو وہی نچلی سطح پر بھی نظر آئے گا –
 
اگر امریکہ، فرانس اور ترکی کے مصروف ترین صدور سوشل میڈیا زیادہ اور الیکٹرونک میڈیا کم سے کم استمال کر رہے ہیں تو ہم نے کیا قسم کھا رکھی ہے کہ ہر چیز میں چار سال پیچھے ہی رہیں گے ؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے