صفحہ اول / پاکستان / ایک پاکستانی سینئر منسٹر جسے سب سے زیادہ اپنا حلقہ اور وہاں کے لوگ عزیز ہیں- عنایات الله کا دل اپر دیر میں ہی اٹکا رہتا ہے

ایک پاکستانی سینئر منسٹر جسے سب سے زیادہ اپنا حلقہ اور وہاں کے لوگ عزیز ہیں- عنایات الله کا دل اپر دیر میں ہی اٹکا رہتا ہے

سہیل بلخی – اپر دیرkpk minister

نہ ٹی وی اسکرین پر آنے کا گلیمر، نہ کوئی پارٹی اور فنکشن اسکوہر ہفتے اپنا ویک اینڈ اپنے حلقے میں گذارنےسے روک سکتی ہے … مزدورکی طرح ہفتہ بھرصبح سے شام لگ اپنی
منسٹری چلاتا ہے،روزانہ دو تین سو لوگوں سے ملتا اور انکی فائلوں پر کام کرتا ہے دن کے آخرمیں تھکن سے چور ہوکر رات نو بجے اپنا فون اگلی صبح پانچ بجے تک کے لیے  بند کر دیتا،  ——-تاکہ ایک بھر پور نیند کے بعدوہ  پھر اپنی جاب پر تر و تازہ وقت پر موجود ہو
جمعہ، ہفتہ اور اتوار اسکو دیر میں اپنے حلقے میں ہی گذارنا ہے جہاں اسکی پارٹی کے ورکر سارے ہفتے لوگوں سے ملکر ویک اینڈ کا پروگرام پہلے سے سیٹ کر لیتے ہیں کہ کس کس علاقے میں منسٹر عنایت الله کس وقت آئیں گے-اسے اپنا حلقہ سب سے پہلے ،اپر دیر کے لوگ سے سب پر  مقدم ، کہ انہوں نے ہی تو اسے دوبار منسٹر بنوانے کے لیے ایوان میں بھیجا – جب وہ منسٹر نہیں رہے گا تب بھی اسے رہنا وہیں ہے ، لندن اور دبئی میں نہیں آباد ہونا
عنایت الله کے ساتھ انکے حلقے اپر دیر میں رہکرمیں نےدیکھا کہ انکے سارے پروگرامات وقت کی پابندی اور پشتون کلچر کے رکھ رکھاؤ کا خیال کرتے ہوئے منقعد ہوتے ہیں، ٹینٹ شامیانے اور لاؤڈ اسپیکر کے بغیر بہت اپنائیت اور ہیومن ٹچ کے ساتھاپر دیر کے ایک گاؤں کے لوگ شمولیتی جلسےکی طرف روانہ
کبھی وہ اپنے کسی اسکول کے استاد کے گھر لوگوں کو جمع کرتے ہیں اور کبھی کسی اور علاقے کے معزز کے گھر- اس علاقے کے لوگوں کے لیئے وہ اور کیا کریں یہ جاننا کیا مشکل ہے اس فرد کے لیے جو ان ہی کے درمیان رہتا ہے ؟ہر بات  توجہ سے سنتے اور انکے پرسنل سکریٹری نوٹس لیتے ہیں،پروگرامات میں لوگ انکی پارٹی میں شمولیت کا اعلان بھی کرتے ہیں، ان کے سامنے اپنے مسائل بیان کرتے ہیں منسٹر صاحب ہنسی خوشی جواب دیتے ہیں اور ہر معاملے پر اپنے لوگوں کو اعتماد میں لیتے ہیں – ہر زمین کے الگ مسائل اور الگ اشوز ہوتے ہیں اور وہاں کا عوامی رہنما ان ہی میں پل کر جوان ہوا تو اسے خوب اندازہ ہے ان چیزوں کا  اور یہ بھی معلوم ہے کہ کیا چیزیں حل ہو سکتی ہیں اور کیا نہیں – جو کام نہیں ہو سکتے اس پر لٹکانا نہیں ہے اور صاف صاف بتا دینا ہے کہ یہ اسکے بس کا کام نہیں اور جہاں سے حل ہو سکتا ہے اسکا راستہ دیکھا دیا جاتا ہے ، پروگرام کے آخر میں سب خوشی خوشی ایک ساتھ کھانا کھاتے ہیں  –
ایسے پروگرامات عوام اور عوامی رہنما کے درمیان رشتے مظبوط کرتے ہیں- سب توجہ سے ایک دوسرے کو سن رہے ہوتے ہیں کسی کا فون نہیں بجتا اور کوئی حاضرین سے توجہ ہٹا کر اپنے "ضروری” وہاٹس ایپ کے گروپس کی سیرنہیں کر رہا ہوتا – ماں کے پیار کی طرح خالص اور پائیدار، جبھی تو دیر میں امن ہے اوریہ ڈسٹرکٹ  تیز رفتاری سے ترقی کر رہا ہے- عنایت الله کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے کہ میں کچھ نہ کروں تو آسانی سے جیت جاؤں گا مگر مزہ تو پہلے سے زیادہ ووٹ اور زیادہ اعتماد لینے میں ہے نا
 
کاش کہ کراچی اور لاہورمیں بھی ہر حلقے کا کوئی والی وارث ہو، پانچ سال پہلے لوگوں کو اور رہنما کو پتہ ہو کہ یہ میرا حلقہ ہے اور یہاں کے ایک ایک گھر میں رہنے والوں کی خبر گیری ہی میری اصل جاب ہے … ہم اپنے دودھ والے، صفائی کرنے والے جمعدار، اخبار ڈالنے والے ہاکرز کو تو جانتے ہیں مگر ہمارا کوئی عوامی رہنما نہیں ہوتا
ٹی وی پر شہر کے لیڈرزہونے کے دعویدار ٹاک شو پر منہ سے دھواں نکالتے ہوئے تو نظر آتے ہیں مگر حلقہ جات لا وارث ہی رہتے ہیں

الیکشن سے چند ہفتوں پہلےہمیں  بتایا جاتا ہے کہ فلاں پارٹی نے فلاں "لیڈر” کے ہاتھوں ہمارے علاقے کی عوام کا زبردستی نکاح کردیا ہے ،لوگوں سے رضامندی لیئے  بغیر- یہ کوئی امریکہ تو نہیں کہ کہ امیدوار ٹکٹ حاصل کرنے سے پہلے اس علاقے میں اپنی پارٹی کے ووٹوں سے پہلے جیتے گا ، یہ سب چونچلے تو یہود و نصاریٰ کے ہیں نا ؟ ہماری عوام ایک مشرقی دلہن کی طرح سر جھکائے پولنگ والے دن  ایک نشان پر ووٹ ڈال آتی ہے،ایسا کلچر بن گیا ہے کہ نام تک نہیں پوچھا جاتا اور بعد میں بھی احتراما یا خوف سے اصل نام نہیں لیا جاتا …….اگرسرکار الیکشن میں جیت گئے یا جتوالئیے گئے، دونوں صورتوں میں اسے ” منے کے ابا ” کی طرح بغیر اصل نام کے صرف ایم این اے اور ایم پی اے پکارا جاتا ہے پانچ سالوں تک اور دلہن نئے الیکشن کا بے تابی سے انتظار کرتی ہے کہ کب اس کل موئے سے جان چھوٹےجس نے کبھی نہ کوئی وعدہ پورا کیا ، نہ خیال رکھا اور مہینوں مہینوں گھر سے دور رہا

ارے یہ جینا بھی کوئی جینا ہے للو ؟ – دیر کے عوام کی طرح اپنا حق جان کر اور لے کر جیو

 
 کے پی کے کے سینئر منسٹر عنایات الله کے ساتھ انکے ایک عظیم منصوبے کی تفصیلات جانتے ہوئے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے