صفحہ اول / پاکستان / سیاست نے ہم کو نکما کر دیا ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

سیاست نے ہم کو نکما کر دیا ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

"بھائی آپ نے اسکو کیوں جاب کا موقعہ نہیں دیا اپنے ادارے میں ” ؟ وہ تو پارٹی کا ہی تھا.. ہاں اسی لیئے نہیں رکھا – ڈگری تو تھی مگر سیاسی پارٹی کا رنگ چڑھا ہوا تھا اورہمارے رنگ میں رنگنے میں دیر لگتی اور پتہ نہیں ہم کامیاب بھی ہوتے کہ نہیں – کسی اور کو بھیجو جو کسی سیاسی جماعت سے نہ ہو ..فریش مائنڈ اور سیدھا سادہ، بقراط نہیں چلے گا – ——-میں نے پھر پوچھا کہ مگر وہ تو ہم خیال ہے، زیادہ آسانی ہوتی آپکو سمجھنے میں –
نہیں – سیاسی جماعتیں کیا تربیت کرتی ہیں لڑکوں کی ؟ الٹا انکو کنویں کا مینڈک بناتی ہیں کہ بس ہم ہی سب سے بہترین لوگ ہیں، ہم ہی سے تبدیلی ممکن ہے ، باقی ساری دنیا غلط – کاروبار میں یہ سوچ زہر قاتل ہے ..ہم دوسروں سے آئے دن سیکھتے ہیں اور بار بار خود کو چیک کرتے ہیں کہ کونسی چیز ہمارے ہاں غلط ہے اور کس جگہ سے کونسی اچھی چیز سیکھ کر اپنے ہاں اسکو ٹیسٹ کریں اور اپنائیں کہ ہم بھی انکی طرح ترقی کریں – سیاسی جماعت میں یہ کلچر ہی نہیں – ان کے ہاں کٹیگری ہے بس چند لوگ ہی سوچیں گے اورباقی سب کو آوے ہی آوے کا نعرہ لگانا ہے – سیاسی جماعت والا پہلے ہی دن سے ذہن پکا بنا کر آتا ہے کہ بس وہی بہترین، اسی کا لیڈر سب سے اعلی اور ان ہی کا منشور دنیا کا بہترین مشور ہے .


سیاسی جماعت سوچنے اور سوال کرنے کو ناپسنیده عمل سمجھتی ہے اور انہیں بہترین وہی لگتا ہے جو فوجی رنگروٹ کی طرح لیفٹ رائٹ لیفٹ چلتا ہو اور کنویں میں گرنے کو تیار ہو ..اگر ورکرز نہ ہوکسی لیول پر یونٹ انچارج، ناظم رہ چکا ہوتا ہے تو وہ مزید ان فٹ ہوتا ہے کاروباری دنیا کے لیے ، اسکے نیچے ہر وقت تین چار لوگ "بھائی، بھائی” کر رہے ہوتے ہیں ، ہاں میں ہاں سننے کا عادی ہو چکا ہوتا ہے او رٹی رٹائی تقریریں کر کے بقراط بن چکا ہوتا ہے ایسے لوگ نہیں درکار- ہمیں کاروبارمیں ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو سوچنے والا دماغ اور سوالات اٹھانے کا عادی ہو، دوسروں کو سنتا ہو ، بحث پسند کرتا ہو اور ساتھیوں کی سنتا ہو، ان سے فائدہ اٹھاتا ہو.. خود بھی ٹریننگ پیسے خرچ کر کے لیتا ہو اور ساتھیوں کو بھی ٹریننگ لیتے رہنے کا کہتا ہو، وقت پر کام نمٹانے یا پھرباس سے جھاڑ کھانے کو تیار ہو- کیا وجہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوں میں ایسے لوگ نہیں چل پاتے جو سوچتے ہوں، جو سوال اٹھاتے ہوں، اپنی غلطیوں سے سیکھنے کا مطالبہ کرتے ہو، ہر ناکامی کا روٹ کاز پوچھتے ہوں ؟ ایسے لوگ وہاں نہیں چلتے اور کاروباری دنیا میں ہاتھوں ہاتھ لیئے جاتے ہیں …

کیا وجہ ہے کہ عام لوگ سیاسی جماعتوں کو ناپسند کرتے ہوں اور لفظ ” سیاست” اس ملک میں نیگیٹو معنوں ہی میں لیا جاتا ہے، ایسے لوگوں کو لوگ رشتے دینے میں گھبراتے ہیں تو جاب دیکر اپنے ادارے کا حصہ کیسے بنایا جا سکتاہے ؟ … ملک بدلنے والے اور ملک کو بہتری کی طرف لے جانے والی سیاسی جماعتیں خود کو بدلیں پہلے کہ ملک کا بہترین ٹیلینٹ سیاسی جماعت میں آنے کو لائن لگا کر کھڑا ہونا پسند کرے – کوئی کم کوئی زیادہ مگر اکثر جماعتیں نوجوانوں کو برباد کرتی ہیں اورکراچی میں تو والدین نے آدمجی اور ڈی جے سائنس کالج تک بچوں کو بھیجنا بند کر دیا کہ وہاں سیاسی جماعتیں انکو اپنی طرف بلاتی ہیں .. پیسے دیکر پرائیویٹ کالج میں بھیجتے ہیں یا گھر بیٹھا کر کوچنگ سنٹر کی مدد سے تعلیم عام ہے ، کراچی کے سارے سرکاری کالجز میں سناٹا ہے اور طویل عرصے سے سیاسی جماعتوں میں ریکرٹنگ بند ہو چکی ہے … سب ہی کو افرادی قوت کے مسائل ہیں …
سیاست نے ہم کو نکما کر دیا ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے