صفحہ اول / کراچی / نعمان لاری کے چھت باغیچہ میں عوام کی دلچسپی – فیس بک پر پوسٹ لگنے کے بعد لاتعداد لوگ اپنی چھتوں پر باغ بنانے کا سوچ رہے ہیں

نعمان لاری کے چھت باغیچہ میں عوام کی دلچسپی – فیس بک پر پوسٹ لگنے کے بعد لاتعداد لوگ اپنی چھتوں پر باغ بنانے کا سوچ رہے ہیں

home garden picture
کراچی کے سینئر صحافی نعمان لاری اپنے چھت باغیچہ میں

سینئیر صحافی نعمان لاری کے چھت باغیچہ کی سیر کا موقعہ ملا…گملوں میں پھلدار اور پھولدار درخت دیکھکر خوشی ہوئ – انکا یہ شوق برساتی نہیں لڑکپن سے ہے …ایک گملے میں ایک انگلش پھول کا پودا جو اب درخت کی صورت میں مگر گملے ہی میں ہے, انہوں نے پہلی تنخواہ سے 1990 میں خریدا تھا -ہر پودے کے قریب جاکر اسکا شجرہ نسب اور اسکے اخلاق و کردار کے بارے میں بتایا – ہمیں آفر دی کہ جو گملہ چاہیں اٹھا کر لے جایئں مگر ہم نے بھی اچھے اخلاق و کردار کا مظاہر کرتے ہوئے دو ننھے منے گملے گود لیئے اور بتایا کہ ہم کوئ گھریلو زندگی نہیں بلکہ فلیٹو زندگی گذار رہے ہیں اور پہلے بالکونی میں انکی اچھی پرورش ہوجائےتومزید بھی لے جایئں گے-

نارتھ ناظم آباد پہلے کراچی کا سب سے پوش علاقہ تھا اور یہاں ہر شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات کا بسیرا تھا …لسانی فسادات اور لسانی و خود غرض سیاست نے اسکو ویران کر دیاتھا .. ایک مکان کے باہر مجھے بتایا گیا کہ یہ انسپکٹر بہارد علی کا گھر تھااور سامنے والی اس چھت پر مورچہ لگا کر اسکو کس ایڈوینچر سے قتل کیا گیا….. نعمان لاری کراچی کے اس اخبار میں تھے جو لسانی تنظیموں کے خلاف کھل کر اور ڈٹ کر لکھتا تھا , پتہ نہیں یہاں کیسے رہے کیسے مشکل وقت گذارا ہوگا ؟ مگر جو انکا بیک گراونڈ اور جس حلقے سے انکا تعلق ہے وہاں تو ہر دوسرے فرد نے اس شہر میں لسانیت اور تعصب کے خلاف آواز اٹھانے کی قیمت ادا کی ہے .-

لاری بھائ کو درختوں اور پودوں سے اور ھریالی سے عشق ہے اور پکے اور سچے کراچی والے ہیں انکواس بات پر بہت دکھ ہے کہ کراچی میں میئر عبدالستار افغانی نے جو درخت لگانے اور ھریالی کے لیئے کام کیا اگر ان درختوں کونہ کاٹا جاتا تو آج کراچی اور خاص کر ضلع وسطی اسلام آباد سے زیادہ ھریالی والا شہر ہوتا ….آجکل بلدیہ نے ایک بار پھر سائن بورڈ دوبارہ لگانے کے لیئے درخت کاٹنے کا کام پھر شروع کردیا حالنکہ ایسی ٹیکنالوجی ہے کہ اسی درخت کو وہاں سے جڑوں سمیت اٹھا کر کسی قریبی جگہ پر لگا دیا جائے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے