صفحہ اول / کراچی / اورنگی ٹاؤن – جہاں مہینے میں ایک بار پانی آ تا ہے اور لوگ چاند رات کی طرح جاگ کر پانی بھرتے ہیں

اورنگی ٹاؤن – جہاں مہینے میں ایک بار پانی آ تا ہے اور لوگ چاند رات کی طرح جاگ کر پانی بھرتے ہیں

علاقے میں نئے اسکول کالج بھی نہیں اور جو پرانے تھے وہ بھی تباہ حالی کا شکار ہیں
ORANGI TWON
"اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پہ بجلیاں ” – ماضی میں تیز رفتاری سے ترقی کرتے اورنگی ٹاون کو کس کی نظر لگ گئی ؟ – مشرقی پاکستان سے ہجرت کر کے انے والوں کی ایک بڑی تعداد نے ایک نئے شہر کے طور پر اسے آباد کیا تھا، ڈاکٹرز، انجنیرز اور اساتذہ کی ایک بڑی تعداد نے شہر کے دیگر علاقوں سے ہجرت کر کے یھاں اچھے اسکولوں کی بنیاد رکھی – مئیر افغانی کے تعاون سے سڑکوں پر کام ہوا ، جامعہ کراچی اور این ای ڈی کے طلبہ کی ایک بڑی تعداد یہاں سے جاتی تھی – بفر زون اور نارتھ کراچی کا کوئی وجود ہی نہ تھا اور کسی نے بھی وہاں جاکر پلاٹ خریدنے کا سوچا تک نہ تھا –
پھر تعصب کی ہوا چلی، پٹھان مہاجر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوئے اور سب کچھ جل کر رہ گیا — اورنگی اور پٹھان کالونی بنارس، قصبہ سب جنگ زدہ علاقے بن کر رہ گئے- دونوں طرف سے خون ناحق بہایا گیا ، دونوں طرف نقصان ہی نقصان ، تباہی ہی تباہی ہوئی – شہر میں بعد میں آباد ہونے والے علاقے تیزی سے آباد ہوئے ، پورا نارتھ کراچی سرجانی تک پھیل گیا اور بفرزون تو اب شہر کا ایک اپر مڈل کلاس علاقہ بن گیا –
ORANGI TWON
اورنگی کے سارے پڑھے لکھے اور سنجیدہ لوگ اپنے ماں باپ کے بنائے ہوئے مکانات کو اونے پونے بیچ کر نکل لیئے اور یہاں بڑی تعداد میں شہر کے دیگر علاقوں سے ایسے مزدروں اورمحنت کشوں نے یہاں سستے کرائے کے مکان لے لئیے جو سائٹ کے کارخانوں میں ملازمت کرتے ہیں – ہمارے والدین نے شاہ فیصل میں کرائے کا مکان چھوڑ کر یہاں ایک پلاٹ خرید کر گھر بنایا اور ہم لوگ کافی عرصے یہاں بغیر بجلی اور پانی کے رہے مگر بہت ہنسی خوشی رہتے تھے –
جب امن اور سکون چھین لیا گیا تو والدین بہت دکھ اور افسوس کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے مکان کو چھوڑ کر اس امید پر دوبارہ شاہ فیصل میں واپس آئے کہ ایک دن اورنگی میں امن واپس آئے گا تو ہم بھی واپس جائیں گے … میرے بچپن کے دوست نظام ، رخشاب ، سعید اور حدیث بھائی اسی بغیر بجلی پانی کے علاقے سے پڑھ کر آج کوئی شکاگو میں فورڈ موٹرزمیں کوئی کینیڈا کے بڑے ادارے میں اور کوئی پی ٹی سی ایل کے بڑے آفیسر کے طور پر کام کر رہے ہیں ..اب ایسی کھیپ وہاں پیدا نہیں ہو رہی ..
ایم کیو ایم پاکستان، لندن ، مصطفی کمال، سپاہ صحابہ سمیت دنیا کی تمام پارٹیوں کو یہاں سے افرادی کھیپ مل رہی ہے – اسکول کالج تو مزید بنے ہی نہیں جو ماضی میں بنے تھے وہ بھی تباہ ہو گئے … پچیس سال پہلے بھی پانی نہیں تھا، واٹر بورڈ کی مہربانی سے آج بھی نہیں ہے ، نلکے ضرور لگے ہیں مگراورنگی جو آج مکمل طور پر غریبوں کی بستی بن چکی ہے وہاں پانی خرید کر ہی استعمال ہوتا ہے – مہینے میں ایک دفعہ جس دن نلکے کا پانی آئے وہاں چند رات کا سما ہوتا ہے، ساری رات جاگ کر لوگ پانی بھرتے ہیں اور اگلے دن ملازت سے بخوشی چھٹی کر کے ایک دن کی دہاڑی کٹواتے ہیں مگر خوش رہتے ہیں کہ آدھے ٹینکر کا پیسہ تو بچا –
ہم نے اورنگی سے اپنا رشتہ ہمیشہ قائم رکھنے کی کوشش کی اور اس دوران دو مرتبہ ہمیں راستے میں گن پوانٹ پر روک کر کار چھین لی گئی جو بہت بھاگ دوڑ کے بعد ایم کیو ایم کے بھائیوں کی مہربانی سے واپس ملی .. ایک دفعہ تو چاند رات کو انہوں نے یہ ظلم کیا اور اگلے
دن عید کا مزہ خراب کیا 🙂
یہاں ہمارے بہت سے رشتے دار اور دوست احباب اب بھی ایسے ہیں جن کے گھر والوں نے یہیں رہنا پسند کیا اور اپنی اس پسند کی وہ ایک قیمت ماہانہ طور پر ادا کرتے ہیں، کم از کم پانچ ہزار روپے کا پانی خرید کر اور انکے بچوں کو وہ تعلیمی ماحول بھی نہیں مل رہا جو شہر کے دیگر حصوں میں میسر ہے – میں نے ان لوگوں سے کہا کہ آپ کو سالوں سے پانی نہیں مل رہا مگر اپ لوگوں نے اس کو قسمت کا فیصلہ سمجھ کر خاموشی سے کیوں قبول کیا – کچھ مظاہرے ہی کر لیں تو انکا جواب تھا کہ ہمیں کون لیڈ کرے گا ؟ آپ لوگ تو چلے گئے یہاں سے ،ہم تو دہاڑی دار ورکر ہیں، ہم تو شہر کے اتنے اندر ہیں کہ یہاں کی ساری سڑکیں بھی بند کر دیں تو کسی کا کیا نقصان ؟ یہاں سے توسالوں
کسی کا گذر نہیں ہوتا –آپ تو آتے ہیں مگر آپکے دوست یار تو سالوں چکر بھی نہیں لگاتے- آپ لوگ یہاں آکر ہماری مدد کریں ..
انکی بات بلکل ٹھیک ہے مگر انہیں بھی اپنے حصے کا کام کرنا ہی ہو گا .. اپنے کھانے اور دعوتوں کی سیلفی لگاتے ہیں فیس بک پر تو پانی کے مسائل کی  ویڈیوز کیوں نہیں لگاتے؟ اپنے کالج اور اسکول کا دکھڑا کیوں نہیں بیان کرتے ؟ آج تو وہی میڈیا چلا تے ہیں .. خود ہی کیمرہ مین ، خود ہی رپورٹر اور اپنی ہی اخبار (وال) پر اگر وہ اپنے حق کے لئیے نہیں بولتے تو جو لوگ چلے گئے ہیں ان سے کیوں امید رکتھے ہیں ؟

ایک تبصرہ

  1. بہت عمدہ اور دلچسپ مضمون ….

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے