صفحہ اول / کراچی / ہماری سیاست کا سیاہ چہرہ

ہماری سیاست کا سیاہ چہرہ

پاکستان کی سیاست بھٹو کی سیاست کے ساتھ ہی ایک نیا رخ اختیار کر گئی۔ نہ جانے اس بات میں کتنی سچائی ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح کی انتخابی مہم کا جس طرح زلالت کے ساتھ مقابلہ کیا گیا وہ زبان زدِ عام ہے۔ اس کے بعد ۱۹۸۸ میں نواز شریف کی بے نظیر اور ان کی ماں کے بارے میں جو کلمات اس دور میں ادا کئے تھے وہ پچھلی نسل کو لازمی یاد ہوگی۔ مگر بھٹو کی سیاست نے ہمیں ایک تحفہ اور دیا۔ اور اس سیاست کا نام ہے موروثی سیاست۔ اسی طرح نواز شریف نے بھی موروثی سیاست کو آگے بڑھایا۔

نواز شریف اور شہباز شریف دیکھنے میں تو ایک ہی خاندان مگر دو مختلف خاندان ہیں۔ نواز شریف کی نا اہلی کے بعد پاکستان میں سیاست ایک عجیب طرز پر سامنے آگئی ہے۔ نواز شریف نے شہباز شریف کو وفاق میں لانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ ان کی پارٹی نے بھی اس کی فوری تائید کر دی۔ مگر یہاں ایک کے بعد ایک مسئلہ پیدا ہوگیا۔ ایک مسئلہ یہ تھا کہ شہباز شریف کو الیکشن لڑنے کے لئے میدان ملا این اے ۱۲۰۔ یہ مسلم لیگ کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ سابقہ انتخابات میں نواز شریف یا ان کی پارٹی بہت بڑی لیڈ سے یہ مقابلے جیتتے رہے ہیں۔ مگر ۲۰۱۳ میں ڈاکٹر یاسمین نے نواز شریف کے مقابلے میں ۵۳۰۰۰ کے لگ بھگ ووٹ لئے۔ اور اب اس بات کو ۴ سال بھی گزر چکے ہیں۔ اس وقت یہاں کی حالت بھی کافی دگرگوں ہیں۔ یہاں نواز شریف نے جو ترقی دی ہے وہ نوکریوں کی شکل میں تھی۔ یہاں کے لوگوں کی بڑی تعداد پولیس، پٹوار خانہ، ریلوے اور دوسرے سرکاری ملازم ہے۔

اس کے علاوہ یہاں ترقی ناپید ہے۔ جس کی وجہ سے لوگ نواز شریف کو ذیادہ مانتے ہیں٫ اور میاں صاحب کو یہی لگتا رہا کہ اگر میں نے یہاں کام نہ بھی کیا تب بھی مجھے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ مگر اب شہباز شریف کے الیکشن لڑنے کی باری تھی۔ ہو سکتا ہے کہ شہباز شریف یہ الیکشن جیت بھی جاتے۔ لیکن اگر فرق چند ہزار ہوا تو ۲۰۱۸ کا الیکشن اس کی وجہ سے کافی حد تک متاثر ہو سکتا ہے۔ اور یہی ڈر نواز شریف کو کھائے جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ اگر شہباز شریف کو الیکشن لڑوانے کے لئے شہباز شریف کو پنجاب کی وزارتِ اعلٰی کی قربانی دینی پڑی تو وہ کوئی نیا پراجیکٹ تو سٹارٹ کر نہیں سکتے۔ اور نہ ہی وہ وزیر اعلی ہوتے ہوئے الیکشن کمپئین میں حصہ لے سکتے تو الیکشن کی کمپئین میں جانے سے پہلے ان کو اپنی یہ سیٹ چھوڑنی پڑتی ہے۔ اور اب تو سننے میں آیا ہے کہ اس الیکشن میں پہلی بار الیکٹرانک ووٹنگ ہو گی۔ جس سے دھاندلی میں کافی حد تک کمی آجائیگی۔ اس کے تدارک کے لئے این اے ۱۴۴ کی سیٹ کا بھی آپشن زیر غور آیا۔ کیونکہ وہ نسبتاَ ایک مضبوط نشست نظر آتی ہے۔ شاید اس کی وجہ وہاں کا تعلیمی معیار یا پھر دیہاتی علاقہ ہو سکتا ہے۔ مگر یہ بھی مزید بدنامی کا باعث بن رہی ہے اور ان کا ڈر عوام پر واضح ہوجاتا ہے۔

اس کے علاوہ کلثوم نواز کا گروپ کسی صورت نہیں چاہتا کہ نواز فیملی کے ہاتھ سے وفاق بھی نکل جائے۔ کہ اگر وفاق نکلا تو پنجاب ویسے ہی حمزہ شہباز کے پاس ہوگا۔ اس طرح نواز فیملی کی سیاست کا بوریا بستر بالکل گول ہو جائیگا۔ اسی لئے میڈیا میں شہباز شریف کے خلاف خبریں بھی چلوائی گئی۔ اور شہباز شریف فیملی مکمل طور پر سیاست میں حاوی ہوجائیگا۔ اسی لئے اس بات کے چانسز کافی حد تک کم ہیں کہ شہباز شریف وفاق کی طرف آئے۔

اور کچھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو نواز شریف سے تو دور ہیں۔ مگر شہباز شریف کے دل کے نزدیک ہیں۔ اور ان دال بھی صرف اسی لئے گلتی ہے۔ ان کو بھی یہی لگتا ہے، کہ اگر شہباز شریف وفاق کی طرف جاتے ہیں تو وہ لوگ بے آسرا ہو جاتے ہیں، اسی لئے وہ لوگ چاہتے ہیں کہ شہباز شریف وفاق کی طرف نہ جائیں۔ اسی لئے اب یہ خریں پھیلائی جارہی ہیں کہ شہباز شریف اگر وفاق میں آتے ہیں تو مسلم لیگ پنجاب میں کافی حد تک متاثر ہو سکتی ہے۔ اور یہ خبریں کس طرف سے لگائی جارہی ہے۔ شہباز شریف کو یہ بھی باور کروایا جا رہا ہے کہ شاید وہ نیشنل اسمبلی کی نشست ہار جائیں اور اس صورت میں وہ وزارتِ اعلٰی کا اخلاقی جواز بھی کھو دیں گے۔ اور ان کو وفاق بھی نہیں ملے گا۔

اور آخر میں بات کریں گے، جو الزامات عائشہ گلالئی نے لگائے ہیں۔ میں ان الزامات پر تو بات نہیں کر سکتا۔ مگر مجھے اس لڑکی پر ترس آرہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کی تحقیقات صاف اور شفاف کروئی جائیں۔ اور جو بھی قصور وار ہو، اس کو نشان عبرت بنا دیں۔ تاکہ جو بھی سچا ہو۔ اسی کو کلین چٹ ملے۔ ایسا نہ ہو کہ دونوں کامیاب ہوں یا دونوں ناکام ہوں۔ مجھے دیکھنے میں یہ ایک معصوم لڑکی لگ رہی ہے۔ مگر دلوں کے بھید اللہ جانتا ہے۔ مگر یہ اتنا بڑا الزام ہے کہ اس الزام سے دھرتی ہل جائے گی۔ اور کچھ دیر پہلے خبر آئی کہ محترمہ پریس کانفرنس کرنے سے پہلے این اے ۱ کا ٹکٹ بھی مانگ چکی ہیں۔ اور گورنر ہاوس میں بھی ایک چکر لگا چکی ہیں۔ بس میری استدعا تو یہی ہے کہ مجرم کو سزا ملنی چاہیے۔ باقی جو اللہ کو منظور

2 تبصرے

  1. آپکی باتیں بلکل درست ہیں … نواز شریف کا بوریا بسٹر گول ہونے والا ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے