صفحہ اول / بھارت / یہ ہے ہندوستان (گجرات کے دیہاتی ترقی نہیں چاہتے ؟ (قسط ٥)

یہ ہے ہندوستان (گجرات کے دیہاتی ترقی نہیں چاہتے ؟ (قسط ٥)

ہندوستان میں سب سے تیزرفتاری سے ترقی کرنے والی اسٹیٹ گجرات میں ایسا لگتا ہے کہ عوام کو تیز رفتار ترقی نہیں چاہیئے، ریاست جبریہ دیہاتوں کوجدید شہروں میں بدلنا چاہتی ہے –
آجکل اگر آپ احمد آباد شہر کے گنجان شہر سے جیسے ہی مغرب کی طرف بڑھیں آپ کو چوڑی شاندار سڑکیں، اونچی عمارتیں اوربہت ساری بی ایم ڈبلیوکاریں مختلف اسٹریٹس پر نظر آئیں گی – جو لوگ پہلےیہاں آچکے ہیں ہیں وہ حیران ہو جاتے ہیں کہ یہ یہ دولتمند اور جدید علاقہ کتنے ہرے بھرے کھیتوں اور گیہوں اور مکئی کے گھنے کھیتوں کی دور تک پھیلی ہریالی کھا چکا ہے –

"یہاں سے دفعہ ہو جاؤ اور ہمیں اپنی مرضی کی زندگی گذارنے دو ” – پندرہ میل دوربھاؤن پور سے اس مظاہرے میں شریک ہونے کے لیے انے والے لال جی بھائی ٹھاکر نے مزید کہا کہ ” ہم اپنے کھیتی باڑی سے بہت خوش ہیں اور ہمیں اپنے کھیتوں اور گھروں کی قربانی کے بدلے جدید شہر کی تعمیر منظور نہیں "

انکی نہیں سنی جائے گی کیونکہ ماڈرن انڈیا کی کہانی میں یہی لکھا ہے کہ اب ہریالی اور کھیتی باڑی نہیں انڈسٹری اور ماڈرن ٹیکنالوجی کا دور ہو گا …حکومت کا کہنا ہے کہ کھیتی باڑی نے اتنے روزگار نہیں پیدا کیئے جتنے انڈسٹری کر رہی ہے .. نریندر مودی کی حکومت نے گجرات میں بارہ شہروں کو بڑا کرنے میں سن دو ہزار بارہ ٢٠١٢ سے اب تک آٹھ سو دیہاتوں کونگل لیا ہے

 

 

ترقیاتی کام بھی زوروں پر اور مظاہرے بھی زوروں پر ….حکومت کہتی ہے کہ ہم صرف چالیس فیصد رقبے پرانڈسٹری بنائیں گے جس کے سبب سڑکیں، ہسپتال، اسکول اور ہاؤسنگ کولونیز بھی بنیں گی … اسکی وجہ سے باقی ساٹھ فیصد علاقوں کی قیمت میں اضافہ ہو گا .. اور یہ اضافہ انکے چالیس فیصد نقصان کو پورا کرے گا …

ایک لاکھ کسان مختلف دیہاتوں سے جمع ہوئے ہیں کہ دیہاتوں کو شہروں میں بدلنے کے اس عمل کو کیسے روکا جائے- کچھ لوگوں نے گجرات ہائی کورٹ میں اسکو چیلنج کیا ہے –
"ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری زمینوں کا یہ زبردستی کا خریدا جانا ایک دھوکہ ہے، انکو اس قدر زمینیں کیوں درکار ہیں ؟ سڑکوں کو چوڑا کرنے کو تھوڑی زمین بھی کافی ہے ” .. ایک دیہاتی نے اپنا دکھ مغربی صحافی سے شئیر کرتے ہوتے کہا

بہت سارے کسانوں کو اپنی آبائی زمینیں چھوڑنی پڑ رہی ہیں اور وہ غصے میں ہیں – کہتے ہیں چھوٹی ٹریک پر اچھی فصل نہیں اگتی …اور فصل اچھی نہ ہونے سے ہم بھوکے مریں گے –

گجرات کی سرکار کا دعوی ہے کہ ریاست سب سے تیز رفتاری سے ترقی کر رہی ہے بے روزگاری کی شرح ایک فیصد سے بھی کم ہے جبکہ ملک بھر میں یہ شرح پانچ فیصد ہے اوربڑھتی ہوئی انڈسٹری روزگار دینے کا سبب ہے – ان اعداد و شمار کو عام لوگ نہیں مانتے وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ہنر اور تعلیم کی کمی ہے اور مقامی آبادی کو جدید شہروں سے کچھ نہ ملے گا …..
نئے شہر بن رہے ہیں اور دیہاتوں سے لوگ ان شہروں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں .. ہر سو میں سے بیالیس خاندان دیہات سے شہر کی طرف جا رہے ہیں- یہ لوگ مجبوری میں جانوروں کی طرح اپنے آبائی علاقے چھوڑ چھوڑ کر نئے شہری علاقوں کی طرف جانے کو مجبور ہیں —


مبصرین کہتے ہیں کہ یہ کیسی ریاست ہے جو اپنے لوگوں کو جہاں وہ خوشی سے رہ رہے ہیں مزید سہولیات دینے کی بجائے انکے گاؤں اور گھروں کو تباہ و برباد کر کے غلاموں اور جانوروں کی طرح شہروں کی طرف جانے پر مجبور کر رہےہیں جہاں کا معیار زندگی انکی موجودہ زندگی سے کافی پیچھے ہے ؟ …

کہاں گیا گلوبل وارمنگ اور خوراک کی پیداوار کا مسلہ ؟ مودی حکومت کی دانش مندی اور جلد بازی صرف اس ایک ریاست کی تصور دیکھ کر نظر آتی ہے کہ انہیں پیسے کی چمک،انویسٹمنٹ اور اعداد و شمار کی بنیاد پر اگلا الیکشن ہر حال میں جیتنا ہے –
(گارجین، برطانیہ،ٹائمز آف انڈیا اورانٹر نیٹ )

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے