صفحہ اول / بھارت / یہ ہے ہندوستان ( ذکر کچھ ارب پتی ہندوستانیوں کا) – قسط ٤

یہ ہے ہندوستان ( ذکر کچھ ارب پتی ہندوستانیوں کا) – قسط ٤

ویپرو کے چیرمین عظیم پریمجی کو کون نہیں جانتا ؟ انکی ایک بڑی وجہ شہرت صرف دولت کمانے کی لحاظ سے نہیں بلکہ غریبوں پر دولت لٹانے کے حوالے سے بھی ہے- چین کے ایک ریسرچ سینٹر نے انہیں ” سب سے زیادہ خیرات دینے والا ہندستانی”کا ایوارڈ لگاتار دو سال تک دیا – بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی تمام دولت کا ٢٥ فیصد خیراتی کاموں میں دیدیا اور وہ پہلے ہندوستانی ہیں جنہوں نے ” Giving Pledge کلب جوائن کیا جو مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس نے دنیا کے امیر ترین فرد Warren Buffet کے ساتھ ملکر بنایا ہے جس کا مقصد دنیا کے امیر ترین لوگوں کو انسانیت کے لیے زیادہ سے زیادہ خیرات دینے پر آمادہ کرنا ہے

ویدانتا گروپ کے چئیرمین انیل اگروال نے اپنی کل دولت کا 75 فیصد خیراتی کاموں میں وقف کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے,اپنے فلسفہ زندگی اور دیہی ترقی میں اپنے پرجوش رویہ کے لحاظ سے مشھور ہیں. گزشتہ سال اٹھارہ سو کروڑ روپے خیراتی کاموں میں دے چکے ہیں-
شیو نادرجوHCL کےچیرمین ہیں انہوں نے1136 کروڑ خیرات میں دیئے اور ہندستان میں تعلیم اور دیہی ترقی میں اور زیادہ کام کرنا چاہتے ہیں

رتن ٹاٹا کھلے عام کہتے ہیں کہ ہم لوگوں سے ہی کماتے ہیں اور اور یہ دولت لوگوں کی ترقی کے لیے ہی استعمال ہونی چاہہے … بتایا جاتا ہے کہ انکا ادارہ 60-65% فیصد کمائی ہوئی دولت لوگوں پر تعلیم ، صحت اور دیہی ترقی پر خرچ کر دیتا ہے –


مکیش امبانی اگر چہ اپنے دیگر کاروباری حریفوں کا خیرات میں مقابلہ نہیں کر سکتے مگر ریلائنس کے چیرمین نے گزشتہ سال چھ سو تین کروڑ روپے خیراتی کاموں میں لگائے – انکی بیگم نیتا امبانی بھی بہت دلچسپی اور سرگرمی سے خیراتی اور امدادی کاموں میں حصہ لیتی ہیں …

یہ فہرست ختم نہیں ہوتی .. ایک کے بعد ایک سے بڑھکر ایک کاروباری ہندستانی کا ذکر آتا ہے کہ وہ ہندوستان بھر میں کہاں کہاں کون کون سے ادارے چلا رہا ہے ..ہر سال فہرست چھپتی ہے اور سارا ہندوستان دیکھتا اور جانتا ہے کہ یہ کاورباری حضرات چوری اور سیاست سے اور کک بیک سے نہ امیر بنے ہیں اور نہ انکی اخلاقی پستی اور اور لوٹ مار کے فسانے اخبارات میں چھپتے ہیں — بلکہ سارے ہندوستان میں یہ اہم اور بڑے کاروباری اسی احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں جیسے بل گیٹس اور وارن بفیٹ کو امریکہ میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے …
فلوریڈا میں ایک بھارتی کنسلٹنگ کمپنی میں کام کے دوران میرے بھارتی باس نے بتایا کہ وہ ویپرو میں کام کر چکا ہے اور عظیم پریمجی کو قریب سے جانتا ہے اور انکے اچھے اخلاق و کردار کے قصے بھی سناتا رہا .. بتایا کہ ایک نئی جگہ، نئے پروجکٹ پر عظیم پریمجی کو بتایا گیا کہ وہاں بجلی کی لائن نہیں ہے …. دو سال اور لگیں گے ..لیکن اگر ویپرو اتنے لاکھ ادا کر دے تو افسران لائن ڈال دینگے .. عظیم پریمجی نے صاف انکار کیا اور بہت بڑی رقم خرچ کر کے اپنا پاور پلانٹ لگانا پسند کیا ..
یہ وہ امیر نہیں ہے جو بیوی کے وزیر اعظم بننے سے یا ضیا الحق کی حکومت میں شامل ہونے سے امیر بنے ….نہ ہی یہ وہ امیر ہیں جو پہلے چھوٹے چھوٹے ٹھیکوں کے انتظار میں جی ایچ کیو کے باہر بیٹھے ہوتے تھے اور پھر ” لائن” بننے کے بعد چند سالوں میں اتنے "بڑے” بلڈر بن گئے کہ اپنے پرائیویٹ جہاز رکھتے ہیں ، ٹی وی چینلزپر کنٹرول لیتے ہیں اور بڑے فخر سے ٹی وی انٹرویو میں کہتے ہیں کہ "میں تو فائلوں کو پہیئے لگا دیتا ہوں ” .. میرا کام ہر جگہ سب سے فاسٹ ہوتا ہے — ایسے لوگ کیسے احترام حاصل کر سکتے ہیں ؟.. صرف خیرات بانٹنے سے نہیں .. آپکے معاملات اور آپکے کردار سے لوگ آپکو احترام دیتے ہیں …

#سہیل_بلخی #یہ_ہے_ہندوستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے