صفحہ اول / بھارت / یہ ہے ہندوستان (انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی) – قسط ٣

یہ ہے ہندوستان (انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی) – قسط ٣

آئ آئ ٹی کا تھوڑا اور ذکر ہو جائے ؟- سن ٢٠٠٥ میں امریکی کانگریس نے نے ایک قرارداد پاس کی جس میں امریکہ میں ریسرچ اور ٹیکنالوجی میں آئ آئ ٹی کے کردار کو سراہا گیا ..یہ دنیا کی واحد غیر ملکی یونیورسٹی ہے جس کے لیے کانگریس ایوان میں تعریفی قرارداد لائی ہو- اسے ہر سال اربوں روپے کی سرکاری گرانٹ ملتی ہے ….جو نہ صرف موجودہ طلبہ کی فیسوں میں استمال ہوتی ہے بلکہ فارغ ہونے والے المنائی اسٹوڈنٹس کو بھی امداد دیتی ہے

آئ آئ ٹی بمبئی یونیسکو اور روس کی مدد سے بنی، آئ آئ ٹی کانپور انڈو-امریکن پروگرام کے تحت بنا جس میں نو امریکی یونیورسٹیز کے کنسورشیم نے مدد کی اور آئ آئ ٹی مدراس مغربی جرمنی کے تعاون سے بنی –


آئ آئ ٹی مدراس کا کرکٹ گراؤنڈ اتنا شاندار ہے کہ آسٹریلین ٹیم نے چنائی ٹیسٹ کھیلنے سے پہلے یہاں دو دن نیٹ پریکٹس کی … تقریبا تمام ہی کیمپسز میںSAC (سٹوڈنٹ ایکٹیوٹی سنٹر) کے تحت اسپورٹس کورٹس، ٹیکنیکل رومز، فیسٹیول رومز،انڈور اسپورٹ کورٹس، یوگا رومز،جمناسٹک رومزاور دیگر ہالز ہیں جو ماہرین کی نگرانی میں ان ہی مقاصد کے تحت بنوائے گئے ہیں–
لائبرریوں میں ہزاروں نہیں لاکھوں کی تعداد میں کتابیں اور ہزاروں کی تعداد میں جرنلز موجود ہیں …


بس اسکا ذکر ختم … اس امید کے ساتھ پاکستانی قوم مطالبہ کرے اپنے منتخب نمائندوں سے کے انکے پاس ہمارے بچوں کے لیے کیا تعلیمی پلان ہے ؟ وہ بھارت سے تعلیمی میدان میں مقابلے کے لیے کیا ویزن رکھتے ہیں ؟ عام بھارتیوں کی طرح عام پاکستانیوں کے کے لیے کیسے تعلیمی ادارے موجود ہیں ؟ کیا صرف ایک ٹی ٹوٹنی میں انکو ہرا کر ہم ان سے آگے نکل سکتے ہیں ؟

سہیل_بلخی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے