صفحہ اول / بھارت / پہاڑوں کو ہلانا آسان لیکن چائنیز فوج کو ہلانا ناممکن

پہاڑوں کو ہلانا آسان لیکن چائنیز فوج کو ہلانا ناممکن

شکیل خان کراچی کی ایک جانی پہچانی ادبی اور سیاسی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں اور دیگر اخبارات میں بھی کالمز لکھتے ہیں – پاکستان کی اہم ادبی محافل میں اسٹیج پر نظامت ان ہی کے ہاتھوں میں دیکھی جاتی ہے، آرٹس کونسل کراچی کے ایک سرگرم ممبر اور مقامی ٹی وی پربھی اپنا وقت دیتے رہے ہیں – ہمارا اخبار میں بطور فیچر رائٹر کے مضامین لکھتے ہیں

 

نئی دہلی اور بیجینگ کے درمیان سرحدی تنازعہ ایک بہت بڑا عالمی مسلہ بننے جا رہا ہے، سفارتی جنگ تو جاری ہے ساتھ ساتھ دھمکیوں کا سلسلہ بھیچل رہا ہے- چین جو اپنے خارجہ امور کے سلسلے میں ہمیشہ بہت محتاط  رہتا ہے اور بحیثیت ایک بڑے ملک چین کے دفتر خارجہ کے ترجمان ہمیشہ بہت نپی تلی زبان استمعال کرتے ہیں لیکن جولائی کے وسط سے چینی دفترخارجہ کے ترجمان کے الفاظ میں  بھے سختی آگئی ہے –

چینی دفتر خارجہ نے ملکی اور غیرملکی صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کے  ” پہاڑوں کو ہلانا آسان ہے لیکن چائنیز فوج کو ہلانا ناممکن ہے ” !!!

 

سال کے گرم ترین مہینے کے اوائل میں چین نے کہا تھا کہ ہندوستان کے فوجیوں نے چینی سرحدوں کو عبور کیا ہے اور چینی صوبہ ڈونگ لانگ پر بنے والی سڑک کے بنانے میں مداخلت کی ہے. یہ سڑک جو انڈیا اور ہمالیائی ریاست بھوٹان کے درمیان بنے جارہی ہے اس علاقے میں ہے  جو ڈوکلام کے نام سے پہچانا جاتا ہے اسکا ایک اور ایک  دعویدار ہمالیائی اور ہر جانب زمیں سے گھری ریاست بھوٹان بھی ہے. اس طرح یہ ایک تین طرفہ تنازعہ ہے. جس کے دو بڑے فریق چین اور انڈیا جبکہ تیسرا مگر خوبی کے لحاظ سے انڈیا کا دست نگ بھوٹان بھی ہے

 طویل جارحانہ حکمت عملی کے بعد انڈیا کی وزیر خارجہ ششما سورآج جو اپنے جارحانہ انداز اور خوبصورت ساریوں کے لئے مشہور ہیں. اپنے تندوتیز لہجے سے نرموگداز انداز کی طرف آئیں اور یہ مو قف اختیار کیا کہ دونوں ممالک کے فوجیوں کو سب سے پہلے اپنی سابقہ پوزیشنز پر چلے جانا چاہیے تاکہ ماحول کی تلخی اور گرمی کو کم کیا جاسکے. ششما سوراج نے ساتھ  میں یہ کہا کہ تمام مہذب دنیا اس سرحدی مسلے پر انڈیا کے ساتھ کھڑی ہے اور چین بھوٹان کو مجبور نہ کرے کہ وہ اپنا کچھ علاقہ چین کے حوالے کر دے. ششما نے یہ بھی کہا کہ چین اس توازن کو خراب کرنے کی کوشش کرہا ہے جو ان تین ممالک کے درمیان سرحدوں پر موجود ہے. اس کے جواب میں چین کی دفاعی امور کے ترجمان نے سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا فوری طور پر اپنے فوجی پرانی جگہوں پر واپسی لے جاۓ اور وو اس گمان میں  نہ رہے کہ وہ  ہماری  زمین پر قبضہ کرسکتا ہے . چین نے یہ بھی کہا کہ ہم مزید فوجی اس علاقے میں  بھیج رہے ہیں اور اس سے دستبردار نھیں ہونگے

گذشتہ ایک ماہ سے دونوں  ممالک کی افواج ایک تنگ وادی میں ہے جس کا کنٹرول چین کے پاس ہے ، فوجیں آمنے سامنے حالت جنگ میں  ہیں.

اس وادی کی جنگی اہمیت بہت زدہ ہے، یہ ایک تنگ سی گلی جو مرغی کی گردن کہلاتی ہےچین کو بھوٹان سے ملاتی ہے ساتھ ساتھ یہ انڈیا  کی کے لئے بھی اسکی سات ریاستوں کو جانے والا راستہ ہے اور انتہائی اہمیت رکھتا ہے . تینوں ملکوں کے لئے اسکی جغرافیائی اہمیت بہت زیادہ ہے  کوئی اپنا مفاد چھوڑنے کو تیار نظر نہیں آتا  ہے

گزشتہ دنوں چین نے اس بات کا عندیہ دیا تھا  ہے کہ ان سرحدی تنازعات پر انڈیا سے سفارتی گفتگو جاری ہے اور اس کے نتیجے میں کامیابی  کی توقع ہے مگر ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا اور معاملات دن بہ دن بد سے بد تر کی طرف جا رہے ہیں

مبصرین کا کہنا ہے کہ  چین اور بھارت دونوں نے اس معاملے میں سخت موقف اختیار کیا ہوا ہے سفارتی تعلقات کے ساتھ دونوں ممالک  اپنی اپنی دفاعی صلاحیتوں کا بھی اظہارکر رہے ہیں  اور وہ بھی اس ذرا سی پٹی پر جو دفاعی لحاظ سے نہایت حساس  ہے . اس ایک سو پندرہ میٹر کی مختصر سی  پٹی پر دونوں ممالک کے ٣٠٠ سے زیادہ فوجی ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں

چین نےبار بار اپنے بیان میں بھارت  کو ١٩٦٢ء کی تاریخ یاد دلا رہا ہے اور اس تاریخ کو دھرانے کی دھمکی دیتا نظر اتا ہے  . ایک ذرا سی غلطی پورے خطّے کے لیے جنگ کا سامان جنگ ہوئی تویہ ایک روایتی جنگ نہی ہوگی اور اطراف کے ممالک بھی اسکی لپیٹ میں آسکتے ہیں

١٩٦٢ء میں تبت کے مسلہ پر ہونے والی یہ جنگ جو چین اور ہندوستان کے درمیان ہوئی ایک روایتی ہتھیاروں والی جنگ تھی. لیکن اب یہ جنگ دو ایٹمی ھتیار رکھنے والے ملکوں کے درمیان ہوگی

٢٠ اکتوبر ١٩٦٢ء کو شروع ہونے والی یہ جنگ جس میں دونوں طرف سے سینکڑوں فوجی  ہلاک هوئے، بھارت کا نقصان زیادہ ہوا تھا اور بھارت کچھ مقامات پر پیچھے ہٹا تھا جو آج بھی چین کے کنٹرول میں ہیں ، یہ بھارتی فوجیوں کے لیے آج بھی ایک  لیے ایک ڈراونا خواب ہے اور جنگی مبصرین نے لکھا تھا کہ چینی فوج نے بھارت کی فرنٹ لائن کو تہس نہس کر کے رکھ دیا تھا  بھارت کی  ٹیلی فون لائن کاٹ کر    -سپلائی لائن منقطع کرکے ماضی کی وہ لڑائی  مکمل طور پر چین کی فتح پر ختم ہوئی

چین کے تیور دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ وہ پیچھے نہیں ہٹے گا اور اگر کوئی جنگ ہوئی تو بھوٹان بھی چین کے زیر اثر ہی رہے گا اور بھارتی اثرات کے ختم ہونے کے امکانات  صاف نظر اتے ہیں – دنیا کسی بھی لحاظ سے ایک جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی ، پڑوسی ممالک کو اس تناؤ میں اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے جو ظاہر ہے پاکستان یا بنگلہ دیش نہیں ہو سکتا ایک کو چین کا دوست اور دوسرے کو بھارت کا حریف سمجھا جاتا ہے ایسے میں اقوام متحدہ ہی پر سارا بوجھ آتا ہے جو نہ معلوم وجوہات کی بنا پر خاموش ہے

2 تبصرے

  1. بہترین … انڈیا کو یاد رہینگی یہ چیزیں … پاک چین دوستی زندہ باد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے