صفحہ اول / بھارت / نوید پٹھان ہندو مسلم تعصب کا شکار بنا کہ گینگ وار کا ؟

نوید پٹھان ہندو مسلم تعصب کا شکار بنا کہ گینگ وار کا ؟

بھارت کے پسماندہ علاقے گینگ وار کے کنٹرول میں

Muslim body builder naveed pathan

دنیا بھر میں دیکھی جانے والی وائرل ویڈیو جس میں ایک نوجوان مسلمان باڈی بلڈر کو ہندو بنیاد پرست نوجوانوں کا جتھہ بے رحمی  لاٹھیوں اور سریوں سے مار مار کر بازار میں قتل کر دیا گیا پر دنیا بھر میں بھارت کے سیکولر
اس قتل نے بھارت میں اقلیت میں رہنے والوں مسلمانوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے کہ کیا کسی بھی وقت اس قسم کے ہندو بنیاد

– پرستوں کے جتھے ان پر حملہ اور ہوسکتے ہیں جہاں وہ پیدا ہوئے اور نسلوں سے رہ رہے ہیں ..
سوشل میڈیا میں سی سی ٹی وی سے ریکارڈ ہونے والی ویڈیو ناقابل یقین ہے اور کمزرو دل والے افراد اسے دیکھ بھی نہیں سکتے – بچوں کے سامنے اس ویڈیو کو دیکھنے سے منع کیا گیا ہے- نوید پٹھان کا اصل نام رفیق الدین بتایا جاتا ہے جنھیں گیارہ افراد کے جتھے نے جن کے

 -چہرے کیمرے میں آسانی سے پہچانے جاتے ہیں بغیر کسی خوف کے اس وقت تک  مارتے رہے جب انکی جان نہیں نکلی
دنیا بھر میں لوگوں نے اس قتل کو وزیر اعظم نریندر مودی کی اسلام دشمن پالیسیوں کا تسلسل قرار دیا ہے بھارت میں مقیم مسلمانوں میں اس واقعے کے بعد سے ڈر اور خوف کی فضا پائی جاتی ہے اور انہیں یقین ہے کہ اس واقعہ کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے ، یہی وجہ ہے قاتل افراد بہت آرام سے موٹر سائکل کے جلوس میں آئے اور چلے گئے اور انہیں کسی بھی لحاظ سے پولس یا قانون نافذ کرنے اداروں کا کوئی خوف نہیں تھا .. واقعہ کو تین روز گذر گئے اور اب تک پولس نے صرف ایک فرد کو شبے میں حراست میں لیا

دوسری طرف یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ ایک گینگ وار کا نتیجہ ہے اور مرنے والا بھی ایک گینگ کو لیڈ کرتا تھا اور حال ہی میں ضمانت پر رہا ہو کر آیا تھا

یہ افسوسناک قتل اگر کسی مقابلے میں ہوتا یا رات کی تاریکی میں کوئی خاموشی سے ایسی کاروائی ہوتی تو شائد اتنا افسوسناک اور ہیبت ناک معاملہ نہ ہوتا مگر دن کی روشنی میں سر عام بازار میں ایک ایسا قتل ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ بھارت کے مسلمان کتنے محفوظ ہیں

رپورٹ کے مطابق نوید پٹھان کو انکی دکان کے اندر پہلے گولی ماری گئی اور پھر انکے زخمی جسم کو قاتل گھسیٹتے ہوئے باہر لائے اور
-اس وقت تک انھیں مارتے رہے جب تک انکی روح اور جسم کا رشتہ ختم نہیں ہوا

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے