صفحہ اول / صحت / جناح کے نام پر بنا جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سنٹر سالانہ دس لاکھ لوگوں کا علاج کر رہا ہے

جناح کے نام پر بنا جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سنٹر سالانہ دس لاکھ لوگوں کا علاج کر رہا ہے

قائد اعظم نے اپنا نام اس شرط پر استعمال کرنے کی اجازت دی تھی کہ یہ پبلک ہسپتال ہی رہے گا

اس عظیم ہسپتال کو مظبوط اور توانا بنانے کے لئیے سماج کو آگے آنا ضروری ہے

بچپن سے جناح ہسپتال کے بارے میں میڈیا میں ہمیشہ منفی خبریں اور واقعات ہی پڑھنے کو ملیں،  ایسا لگتا تھا کہ بس یہ ایک سرکاری ہسپتال ہے جہاں صرف لوٹ مار اور بربادی ہے، علاج اور صحت یہاں کہاں میسر ؟-
جب ڈاکٹر فیاض عالم نے بتایا تھا کہ این جی اوز کے تحت چلنے والے چھوٹے بڑے سو ہسپتالوں کو بھی ملا لیا جائےتب بھی  وہ ایک جناح یا سول کا مقابلہ نہیں کرسکتے تو بات اسوقت زیادہ سمجھ میں نہیں آئ تھی – ایک ہفتے سے جناح ہسپتال کراچی باربار جانے کا اتفاق ہو رہا ہے تو وہاں مریضوں کا رش دیکھکر بات سمجھ میں آئ کہ بڑا ہسپتال کسے کہتے ہیں – اور بڑے ہسپتال ہی بڑے شہروں کی اولین ضرورت ہیں 
ایمرجنسی میں بہترین خدمات اور وارڈز کی حالت دیکھ کر خوشی ہوئی کہ چاہے ٹپ ٹاپ پرائویٹ ہسپتالوں کی طرح نہیں اور کسٹمر سروس زیرو ہے مگرعلاج اور دیکھ بھال بہت خوبی سے جاری ہے ، ایک سسٹم چل رہا ہے اور بہت بڑے بڑے نامی گرامی سرجن اور فزیشن باقائدگی سے نہ صرف اپنے مریضوں کا علاج کر رہے ہیں بلکہ پیرا میڈیکل عملہ بھی اسی سسٹم کے تحت اپنے فرائض اچھے انداز میں انجام دے رہا ہے – بلڈ بنک، لیبز، الٹرا ساؤنڈ ، سٹی اسکین، ایم ای آر اور ایمرجنسی میں دن رات کام ہو رہا ہے اورعام شہریوں کو اس سے مطمئن پایا  –

یہ وہ جناح ہسپتال نہیں ہے جو میڈیا ہمیں دیکھاتا ہے – پارکنگ سے لے کر کچن تک ہر جگہ ایک سسٹم ہے اور سسٹم چل رہا ہے ، خوب سے خوب تر کی گنجایش تو آغا خان میں بھی ہے – بہت سارے شعبے مقامی این جی اوز اور مخیر حضرات کے تعاون سے بنے ہیں اور چل بھی رہے ہیں اور مزید این جی اوز کو بھی اس ہسپتال کو توانا اور بہترین بنانے میں اپنا حصہ ادا کرنا چاہہے – تختی اور فوٹو سیشن کے لیے الگ ڈیڑھ اینٹ کا چھوٹا ہسپتال بنانے سے کہیں بہتر ہے کہ اس جناح اور سول ہسپتال کے کسی شعبے کو اپ گریڈ کریں اور یہاں آکر ہی تختی لگوا لیں – نظام کی مضبوطی وقت کی ایک اہم ضرورت ہے،جہاں نئے ہسپتال بننا رک گئے ہوں وہاں پہلے سے بنائے گئے عظیم منصوبے کو مضبوط کرنے میں اپنے وسائل لگانا ہی عقلمندی ہے –  ایسے ہسپتال کوئی این جی او نہ بنا سکتی ہے نہ چلا سکتی ہے –
مجھ سے اگر کوئی این جی او یا کارپوریٹ ورلڈ سے کوئی پوچھے کہ اسے مزید مظبوط اور توانا بنانے کے لیے ہم کوئی ایک کام کرنا چاہیں بطور ایک کمیونٹی خدمت کے تو کیا کریں ؟ وہاں کی فوری ضرورت کیا ہے؟  تو میں یہی جواب دونگا کہ اصل ضرورت تو طب کے شعبے کے وہ افراد بتا سکتے ہیں جو وہاں خدمات انجام دے رہے ہیں اور مکمل تصویر دیکھ سکتے ہیں-وہیں عرصے سے لگے ہیں اور  اس ہسپتال کے چپے چپے اور ایک ایک مسلے سے بخوبی واقف ہیں، مگر  میں بطور ایک عام شہری کے یہ بتا سکتا ہوں کہ بہت تھوڑے فنڈز سے ہم وہ کام فوری طور پر شروع کر سکتے ہیں جو شائد پہلے سے ہی ہو رہاہو، مگر اتنا کم ہو رہا ہے کہ ہمیں  نظر ہی نہیں آیا –
……… یہ کام ہے ” مریضوں اور انکے عزیزوں کی رہنمائی کا شعبہ ” ، ایک چھوٹا سا مگر بہترین استعداد رکھنے ,والا کسٹمر سروس کی تربیت رکھنے والے افراد کا شعبہ – ہر بلڈنگ میں ایک چھوٹا سا بوتھ  ہو جہاں سندھی، اردو میں لکھا ہو کہ ” آئیے ہم سے مدد لیجیئے " – بہت بڑی تعداد میں لوگ سندھ اور بلوچستان کے چھوٹے شہروں اور کراچی کی کچی آبادیوں سے اتے ہیں اور علاج کے بعد دوبارہ بار بار اپنی فائلیں ہاتھ میں لیے ادھر سے ادھر گھوم رہے ہوتے ہیں ، تین چار لوگوں نے مجھ سے کچھ مدد چاہی کہ انکے پپرز پڑھکر بتا سکوں کہ یہ شعبہ کہاں ہے اور یہ ڈاکٹر کہاں ہوتے ہیں ، میں کچھ نہ بتا سکا ، اچھا ہوتا کہ کچھ پڑھے لکھے لڑکے "مدد گار ” کے بیجز لگائے ادھر
ادھر گھوم رہے ہوتے اور پوچھتے کہ ” کوئی مدد تو نہیں چاہیئے آپکو ” ، اسی طرح جیسے بنک میں اور دیگر جگہوں پر ہوتے ہیں –
jinah hospital
بہبود مریضاں ” کا یہ شعبہ ، ہسپتال سے گھر جاتے لوگوں کو اس بیماری کے متعلق مزید لٹریچر، ویڈیو اور آڈیو فراہم کرے اور بعد میں بھی کسی مدد کے لیے کوئی ٹول فری نمبر/وہاٹس ایپ اور فیس بک پیج پر رابطے میں رکھے ، اس سے بڑی خدمت اور کیا ہو سکتی ہے ، ان پڑھ اور کم تعلیم رکھنے والے معاشرے کے لیے … ایک ایسے معاشرے میں جہاں تعلیم بہت کم ہے قدم قدم پر مریض اور اسکے عزیزوں کو آگاہی اور معلومات کی اشد ضرورت ہوتی ہے – ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل پہلے ہی اس قدر اوور لوڈڈ ہیں کہ وہ یہ کام اپنی گنجایش کے مطابق پہلے ہی کر رہے ہیں 

میں نام نہیں لینا چاہتا مگر وہاں بہت سے ایسے خوف خدا رکھنے والے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو دیکھا جو اپنی معمول کی جاب بھی کر رہے ہیں اور مریضوں اور انکے عزیزوں کو بھر پر مشاورت ، رہنمائی فراہم کر رہے ہیں صرف خدا کی خوشنودی کے لیے –
طبی خدمت تو ہے ہی  نیکی کام ، اپنی جاب کرتے ہوئے ساتھ ساتھ لوگوں کے دکھ اور پریشانی کی کہانیوں کو توجہ سے سننا اور اپنی بساط کے مطابق انکی مدد کرنا تو بہت ہی عظیم کام ہے – میں نے ایک صحافی کی نظر سے خود بھی ماحول کو دیکھا اور لوگوں سے بات چیت کر کے بھی ٹٹولنے –
کی کوشش کی کہ "چائے پانی ” اور ” بخشش ”  کے بغیر سرکاری ہسپتال میں کام ہو رہے ہیں کہ نہیں مگر کسی نے اسکی شکایت نہیں کی
یقینا بہت ساری خرابیاں بھی ہونگی ، چونکہ وہ ہمارے علم میں نہیں آئیں تو ہم سنی سنائی باتوں پر اسکا ذکر اس مضمون میں نہیں کر سکتے

 

عام لوگ اسے جناح ہسپتال کہتے ہیں مگر اسکا اصل نام جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سنٹر ہے ، رفیقی شہید روڈ پر ، کراچی کینٹ کے پر امن علاقے می ںواقع ہے  – سن٢٠١٥ کے اعداد و شمار کے مطابق ایک سال میں دس لاکھ لوگوں نے یہاں سے علاج کروایا ، اس لحاظ سے بلاشبہ یہ کراچی کا سب سے بڑا سرکاری ہسپتال ہے -بہت  کم لوگوں کو اسکی تاریخ کے بارے میں پتہ ہوگا
ہسپتال کی تاریخ ١٩٣٠ سے شروع ہوتی ہے جب میڈیکل کورپس ہوسپٹل کے نام سے یہ اس جگہ موجود تھا ، اس وقت یہ صرف برٹش آرمی کے لئیے ہی مختص تھا –  ١٩٤٢ میں اسکا نام بدل کر برٹش جنرل ہسپتال رکھا گیا ، یہاں تک کہ پاکستان آزاد ہوا
١٩٤٧ میں آزادی کے فورا بعد قائد اعظم محمد الی جناح سے اس بات کی اجازت مانگی گئی کہ اس ہسپتال کو انکے نام سے منسوب کر دیا جائے ؟ – جناح صاحب نے اس شرط پر اسکی اجازت دی کہ  کہ یہ عام پبلک کے لیے ہو اور یہاں سب کو برابر کی مراعات حاصل ہوں – شروع میں اسکا نام جناح میڈیکل سینٹرل ہسپتال رکھا گیا تھا
١٩٥٢ میں ڈاؤمیڈیکل کالج کا اس ہسپتال سے الحا ق کیا گیا ، جس کے بعد اس علاقے میں موجود بہت سارے شعبہ جات ، لیبارٹریز اور طبی سہولیات  دینے والے اداروں کو ملا کر ایک اپ ڈیٹڈ ادارے کے طور پر جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کا نام دیا گیا – اس نئے ادارے کی تقریب رونمائی کا اہتمام ہوا ، اس بڑی تقریب سے ١١ اپریل ١٩٥٩ کو اس وقت کے صدر ایوب خان نے خصوصی خطاب کیا تھا –
٢٠٠٧ میں میں وزیر اعظم شوکت عزیز نے ایک اور منصوبے کی بھی بنیاد رکھی جس کے تحت جے پی ایم سی ٹاور اور ایک فائیو اسٹار ہوٹل بھی قائم کیا جانا تھا – اسکی تفصیل کے لیے ہمیں کسی دن جناح ہسپتال کے پبلک ریلیشن ڈیپارٹمنٹ سے رابطہ کرنا ہوگا
جناح ہسپتال کی بات ہو اور جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کا ذکر نہ ہو یہ کیسے ممکن ہے ؟
– اسکا پرانا نام سندھ میڈیکل کالج تھا جو ٧ اپریل ١٩٧٣ کو قائم کیا گیا – پہلے سال ٢٠٠ طلبہ کو داخلہ دیا گیا تھا – خواجہ معین  احمد کو کالج کا پہلا پرنسپل بنایا گیا – شروع میں کالج کا آغاز جناح ہسپتال کے پیڈیا ٹریک وارڈ میں کیا گیا جو کہ ١٨٦٥ سے آرمی بیریکس تھیں اور ١٩٥٩ میں جناح ہسپتال کو دیدی گئی تھی –
سندھ میڈیکل کالج کا آغاز صرف تین شعبہ جات سے کیا گیا ، ایناٹومی، فزیالوجی اور بائیو کیمسٹری، مگر اگلے تین سالوں میں ایک نیا اکڈمک  بلاک قائم کیا گیا جس میں پیتھالوجی،فارماکولوجی، فورنزک میڈیسن اور کمیونٹی میڈیسن شامل تھے – اسی بلاک میں میوزیم، لیبارٹریز اور ایڈمنسٹریشن کے شعبے بھی ہیں –
یونیورسٹی ہائر ایجوکیشن اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن سے تسلیم شدہ ہے اور یہ جناح ہسپتال ، قومی امراض قلب اور قومی ادارہ برائے صحت اطفال   سے بھی الحاق رکھتی ہے
جناح ہوسپٹل ٢٠٠٣ میں سندھ میڈیکل کالج ، ڈاو یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کا حصہ بن گیا ، نصاب ، فیکلٹی،اور دیگر ریسورز بھی جس میں ڈاؤ میڈیکل کالج، ڈاؤ انٹرنیشنل میڈیکل کالج وغیرہ شامل ہیں وہ بھی اپس میں شئیر ہونے لگے
بعد ازاں سن ٢٠١٠ میں یہ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سنٹر میں ضم ہو گیا
سندھ میڈیکل کالج کو یونیورسٹی کا اسٹیٹس ٢ جون، سن ٢٠١٢ گورنر سندھ عشرت العباد کے دستخط سے بلاول ہاؤس کی ایک تقریب میں ملا
سندھ میڈیکل کالج اور جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سنٹر کی تاریخ جان کر اندازہ ہوتا  ہے کہ مختلف ادواراس ادارے نے اپنا سفر کیسے جاری رکھا ،برسوں پہلے لگایا ہوا ایک پودا آج ایک تناور درخت کی صورت میں سندھ بھر کے لاکھوں لوگوں کے لیے صحت اور علاج کی ایک بہت بڑی امید کے طور پر موجود ہے – اگر سندھ میں صحت و علاج کی بہتری پر کام کرنا ہے تو اسکا آغاز ہمیشہ اس عظیم ہسپتال کی بہتری سے ہی ہو گا اور یہ ذمہ داری مرکزی و صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ کارپوریٹ ورلڈ، مقامی اور عالمی این جی اوز کی بھی ہے  جو یہاں کے عام لوگوں کی زندگیوں کو بہتر  بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں
(ریفرنس: JPMC ویب سائٹ، وکی پیڈیا )

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے