صفحہ اول / کالمز / عدالت زدگان اسپتال

عدالت زدگان اسپتال

محمد فیصل ندیم

وہ ایک بے یار و مددگار اور لاچار ماں تھی، نہ وہ اس وقت ایک بیوہ تھی، نہ وہ کوئی بہن۔ وہ بس ایک ماں تھی، جس کی ۳ بیٹیاں جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکی تھی، جس کے شوہر کو گزرے اک عرصہ ہو چکا تھا۔ اس کی زندگی کی واحد امید ایک 16 سالہ بیٹا تھا۔ امیدوں کا محور زین ابھی اپنی تعلیمی مراحل طے کر رہا تھا۔ کہ ایک دن اس سے غلطی ہو گئی۔ کہ ایک شہزادے کے شوق کی بھینٹ چڑھ گیا۔ اس شہزادے کا یہ شوق ایک ہستے بستے گھر کو ماتم کدہ کر گیا۔ بھری سڑک پر زرا سا راستہ کیا رکا، شہزادے کا پارہ چڑھ گیا۔ اب کیا تھا، صرف گولی ہی تو ماری تھی۔ اب ایک ماں جس کا واحد سہارا اللہ رب العزت کی ذات تھی۔ اس نے اس عدالتی نظام کے سامنے خود کو بھیڑ بکری ثابت کیا اور اس نظام سے یہ کہہ کر اپنا کیس واپس لے لیا، کہ میں معاف نہیں کر رہی مگر مجھ میں لڑنے کی بھی سکت نہیں ہے۔ کیونکہ میں تو بھیڑ بکری ہوں اور مجھے تو ہر فیصلہ ماننا ہے۔ اور اپنے ہاتھ اس دن ضرور خالق کائینات کے آگے پھیلائیں ہونگے۔ اور کہا ہوگا کہ مولا تیری دھرتی کے خدا مجھے جینے نہیں دیتے۔ بس اسی دن ان دھرتی کے خداؤں کا زوال شروع ہوگیا تھا۔ جانے کیوں اسی دن انہوں نے اپنی تقدیر کا زوال کیوں نہ دیکھ لیا۔ اگر اس دن وہ ماں عدالت کے اند سے روتی ہوئی نہ نکلی ہوتی۔ تو حاکم وقت کو آج یوں در در کی خاک چھان کر نہ کہنا پڑتا کہ مجھے کیوں نکالا۔

اس ملک میں اعلان کروادیا جائے کہ یہاں کہیں کوئی شاہ زیب اپنی عزت کا رکھوالا بننے لگا تو گولیوں سے ابدی نیند سلا دیا جائے گا۔ یہاں اگر کسی ملک طاہر نے ہماری گاڑی کے پاس سے اپنی پھٹیچر بائیک گزاری تو ہمیشہ کے لئے یہ دنیا چھوڑ جائیگا۔ اگر کسی نے ہماری کرپشن پکڑنے کی کوشش کی تو اس کا حال نیب انسپکٹر کامران فیصل جیسا ہوگا۔ اگر کسی نے ہمارا پیسہ باہر لے جانے سے روکنے کی کوشش کی تو اس کی بیوہ ساری عمر روتی رہے گی۔ یہاں اگر کسی غریب کی بیٹی کا ریپ بھی ہوگیا تو کیا ہوا۔ لیکن ہماری بیٹی کو اگر کسی نے کیک دینے سے بھی انکار کیا تو عورت ذات کی بے حرمتی تصور کی جائیگی۔ یہاں اگر غریب کی بیٹی چوراہوں میں برہنہ گھسیٹی بھی جائے، تو پھر کیا ہوا، لیکن اگر ہماری بیٹی کو کرپشن کے الزام میں تحقیقات کے لئے بھی بلایا گیا تو آنا ہمارا بڑا پن جبکہ بلانا توہینِ دختر کے زمرے میں آئے گا۔ تم اگر سڑک پر بچہ پیدا کرو، پارک میں پیدا کرو، یا مٹی میں پڑے پڑے تم میں کیڑے پڑجائیں، تو ہم کو فرق نہیں پڑتا کہ تم خود کیڑے مکوڑے ہو۔ لیکن ہم اپنا معمولی چیک اپ بھی لندن سے کروائیں گے۔ ہم تمہارا پیسہ لوٹیں گے، تمہارے پیسوں سے اپنے گھر بنائیں گے، اپنی عیاشیاں کریں گےمگر تم ایک ایک نوالے کو ترسو گے۔ ہم تم کو اسی دھوئیں میں پھونک دیں گے۔

یہاں کسی شاہزیب، کسی ملک طاہر، کسی رانی بی بی، کسی کامران فیصل کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ کیونکہ یہ تو بھیڑ بکریاں ہیں۔ اور حکمران کوئی بھیڑ بکریاں تھوڑی نہ ہیں، جو فیصلے کو برداشت کریں۔ یہ ملک تو رابعہ شہباز کا ہے، یہ تو شارخ جتوئی کا ہے، یہ ملک تو مجید اچکزئی کا ہے۔ جو دن دہاڑے ایک سارجنٹ کو قتل کرتا ہے، اور آزاد گھومتا ہے۔ یہ ملک تو مریم و حمزہ اور ان کے ماں باپ کا ہے۔ یہ تو ہمارے سروں کے تاج ہیں۔ یہ تو ہمارے مائی باب ہیں اور ہم ان کے جدی پشتی غلام۔ کامران فیصل، چوہدری محمود، ملک طاہر، شاہ زیب، سارجنٹ عطاءاللہ اور زین یہ سب بھیڑ بکریاں ہیں۔ ان لوگوں کو اس ملک میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔ کاش حکمران ایک بار سوچ لیتے کہ ہم نے ان قاتلوں کو کیوں نکالا تو گلی گلی میں یہ نہ کہتے پھرتے کہ مجھے کیوں نکالا۔

اور حیرانگی کی بات تو یہ ہے کہ نواز شریف، آصف علی زرداری، ڈاکٹر عاصم، پرویز مشرف یہ تمام لوگ جیسے ہی اس عدالتی نظام کے چکر میں آتے ہیں، تو کسی کو دل کا دورہ پڑ جاتا ہے تو کسی کی کمر میں درد، کوئی بلڈ پریشر کا مریض بن جاتا ہے تو کوئی تو دل کا آپریشن ہی کروا آتا ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ یہ جاتے ہیں، جہاز کا کرایہ دیتے ہیں۔ پھر وہاں ان کا قیام بھی ہوتا ہے، ان کے کسی فیملی ممبر کو بھی ساتھ جانا پڑتا ہے، قومی اسمبلی میں ایک بل پاس ہونا چاہئے کہ ایک ایسا اسپتال بنائیں جودنیا کے بہترین اسپتال کا مقابلہ کرے- اس کی لوکیشن بلوچستان ہو، جو عدالت زدگان درخواست دے کہ مجھے علاج کے لئے باہر جانا ہے، تو اس کی بکنگ اسی اسپتال میں کریں، ان سے پیسے اتنے ہی وصول کریں جتنا ان کا خرچ بیرون ملک آنا تھا، اب اس سے جو بچت ہو وہ غریبوں کے مفت علاج پر لگا دیں۔ ان سے کچھ نہ کچھ تو وصول ہوگا اور اسپتال کا نام رکھیں
"عدالت زدگان اسپتال۔”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے