صفحہ اول / کالمز / اسلام اور تحقیق

اسلام اور تحقیق

محمد فیصل ندیم

ہمارا وقت بدلنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ میں اللہ کی رحمت سے تو مایوس نہیں ہوں۔ مگر میں ان لوگوں سے مایوس ہو گیا ہوں۔ میں پچھلے کئی دنوں سے اس بارے میں دیکھ رہا ہوں۔ اور سوچ و بچار کر رہا ہوں۔

نبی اکرم صل اللہ علیہ والہِ وسلم پہلی وحی نازل ہونے سے پہلے غارِ حرا میں کیا کرنے جاتے تھے؟ غور و فکر۔ مگر ہماری آج کی نسل اور پچھلی نسل اس چیز سے بالکل نابلد ہے۔ یہاں سوچنا سمجھنا ختم ہو چکا ہے۔ اور اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگ سوچتے بھی نہیں مگر خود کو عقلِ کُل بھی سمجھ لیتے ہیں۔ نئی چیز سیکھنا گوارا نہیں۔ ہر طرف ایک دوڑ لگی ہوئی ہے۔ میٹرک سے لے کر ایم اے تک ہر بچہ کی ترجیح صرف اچھے گریڈز لینے ہیں۔ اور ہمیں زعم یہ ہے کہ ہم نمبر ۱ ہیں۔ ہاں ہم نمبر ۱ ہیں۔ ہم تو ۲ نمبر میں بھی ۱ نمبر نہیں۔ ہم تو دوائیوں میں بھی ۲ نمبری کی بجائے شائد ۵۰ نمبری کر رہے ہیں۔

آپ پورا لاہور پھر لیں، آپ خالص پانی ملا دودھ نہیں ڈھونڈ سکتے۔ آپ گوشت لینے جاو تو وہ بھی آپ کو آخری وقت تک شبہ ہی رہتا ہے کہ پتہ نہیں خالص ہے کہ نہیں۔ باقی چیزوں کا تو پوچھو مت، ہم یہاں خالص آسمان نہیں دیکھ سکتے۔ ہمیں یہاں پر صاف ستھری ہوا تک میسر نہیں۔ اور بات ہے کہ ہم پیرس بنا رہے ہیں۔ ہمیں ہمارے مولوی اس بات پر یقین دلا رہے ہیں۔ کہ موت کا دن معین ہے، جبکہ جاپان میں اوسط عمر ۵ سال بڑھ گئی ہے۔ ہمیں یہی بتایا جاتا ہے کہ اگر ایک آدمی جعلی دوائی کی وجہ سے مر گیا تو یہ قسمت میں لکھا تھا، اگر آپ اللہ کی مرضی کو نہیں مانتے تو آپ کے ایمان کو خطرہ ہے۔
امیرِ شہر لوٹ لیتا ہے غریبوں کو
کبھی بحیلہ وطن تو کبھی بحیلہ مذہب
میرے ایک دوست کا کزن جو اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا جو شادی کے کئی سال بعد کئی منتوں مرادوں سے پیدا ہوا تھا، ابھی جوانی میں قدم رکھا بھی نہ تھا کہ اسکا ایکسیڈینٹ ہوا۔ اور وہ لوگ بھکر سے لے کر نکلے، اوران کی منزل ۴ گھنٹے کی مسافت پر ملتان تھا۔ اس ورا کوئی اسپتال ان کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔ مگر شومئی قسمت کہ اس بچے نے ملتان کے اس اسپتال کے دروازے سے پہلے اپنی جان ملک الموت کو سپرد کر دی۔ اور ڈاکٹر صاحب نے نوید سنائی کہ کاش آپ کچھ دیر پہلے لے آتے تو بچایا جا سکتا ہے، کتنا بے ایمان آدمی تھا، اس کو یہی نہیں پتا کہ موت کا دن مقرر تھا، پھر پہلے لے بھی آتے تو کیا ہونا تھا۔ بھٹو نے تو ہر حال مں مرنا تھا، تو یہ آج تک روتے کیوں ہیں۔ جب موت کا دن مقرر ہے تو پھر جاپان والوں نے اپنی اوسط عمر کیسے بڑھا لی؟ ہمیں یہ سوچنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا کہ موت برحق ہے، اس نے ایک دن آنا ضرور ہے، مگر اس کے لئے کچھ لوازمات ضروری ہیں۔

نبی پاک صل اللہ علیہ والہ وسلم سے ایک صحابی نے پوچھا کہ قیامت کب آئے گی، تو انہوں نے فرمایا کہ جب لوگ نیکی کی دعوت نہیں دیں گے، اور برائی سے نہیں روکیں گے۔ اس کامطلب یہ ہوا کہ اگر ہم یہ کرتے رہیں گے تو قیامت نہیں آئے گی۔ مگر حالات آہستہ خود ہی اس طرف جارہے ہیں۔ کبھی کوئی بندہ بلا وجہ نہیں مرا، اگر اللہ نے دن مقرر کیا ہوا ہے تو پھر حادثات کرنے کی کیا ضرورت، اللہ نے اس میں بھی نشانی رکھی ہے، کہ حادثہ سے بچو، اب وہ کیسے بچتے ہو، وہ آپ پر چھوڑا ہوا ہے۔ اللہ نے ایک سسٹم بنایا ہوا ہے، اور اس سسٹم میں تبدیلی صرف دعا اور اللہ کی رحمت بدل سکتی ہے۔ جیسا کہ ایک آدمی کی قسمت میں لکھا ہے، کہ اگر وہ بناء دیکھے سڑک کراس کرے گا تو کسی گاڑی سے ٹکرائے گا۔ اگر دیکھ کر کرے گا، تو بچ جائیگا۔ اور زندہ رہ جائیگا۔

اور آخر بوڑھا ہو جائیگا۔ پھر کمزوری ہو گی، اور آخر۔۔۔ مگر میری بات حرف آخر نہیں، ابھی اس میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مگر ہمیں کم سے کم یوں برباد نہ کریں، دنیا بھر میں صاف ستھری فضا، صحت مند خوراک، اچھے اسپتال، قابل ڈاکٹر، خالص ادویات، احتساب کا نظام، اور لوگوں کی جان کی فکر کرنے والی انتظامیہ نے لوگوں کی زندگی دن بڑھا دئیے ہیں۔ سمجھنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔

ہمارے ایمان کو قیامت میں تولا جانا تھا مگر کچھ لوگ اسی دنیا میں تول رہےہیں۔ میں کسی مولوی کے خلاف نہیں۔ کہ جو کام وہ کرتے ہیں، وہ واقعی قابلِ تحسین ہے مگر میں تو ان ٹھیکیداروں کے بارے میں بات کرتا ہوں جو اسلام کی آڑ لے کر صرف اپنی تشریح لے کر آتے ہیں۔ اور مذہب کی ہر شرح ان کی بنائی ہوئی ہوتی ہے۔ اور ان سے سوال کرنے کا مطلب وہ نعوذباللہ اللہ ٰسے سوال کرنا سمجھتے ہیں۔مسلمان ہونے کے کچھ بنیادی اصول ہیں۔ کہ اس کا ایمان اللہ کی وحدانیت پر کامل ہو، نبی اخرالزمان پر ایمان لاتا ہو۔ قران اور قیامت کو حق مانتا ہو۔ بس۔۔۔۔ ان تمام چیزوں کے علاوہ ہر چیز پر بحث کی گنجائش موجود ہے۔ مگر بحث کرنے کے لئے آپ کے پاس علم کا ہونا ضروری ہے۔ بناء علم کے آپ پھر علم حاصل کیجئے نہ کہ بحث۔ ہمارے علماء کرام اور سیاست دان بس علم کو اتنا ہی ہم تک آنے دے رہے ہیں جتنا ان کو ضرورت ہے۔ اور ہم بھی اتنے ڈھیٹ اور فرمانبردار ہیں، پچھلے ۷۰ سال سے بس اسی چیز پر اکتفا کئے بیٹھے ہیں۔ نہ اگے بڑھنے کا سوچتے ہیں، اور نہ ہی گزشتہ غلطیوں پر پشیمان ہونا آتا ہے۔

بحرحال سب کے لئے لازم ہے کہ وہ پہلے قرآن کو پڑھو، سمجھو، اور اس کی کھوج لگاو، اللہ نے فرمایا ہے غور و فکر کرو۔ اگر یہ غور و فکر نہ کیا جاتا، تو حضرت ابراہیم علیہ السلام سورج چاند اور ستاروں کو خدا نا مانتے، اگر ایسا نہ ہوتا تو حضرت سلیمان فارسی اصفہان سے ۳ مذاہب تبدیل کر کے مکہ نہ پہنچتے۔ اسلام کی اصل روح یہی ہے کہ اس دنیا کو کھوجو، ہمارے آباو اجداد کی تو یہی روایت رہی ہے، حضرت ابراہیم، پیارے نبی، اور ان کے صحابہ۔ اپنا ایمان سلامت رکھو، اس کے علاوہ اپ اللہ کی نشانیوں کو ڈھونڈو، جو ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے