صفحہ اول / کالمز / خون پھر خون ہے

خون پھر خون ہے

خون پھر خون ہے

محمد فیصل ندیم

دنیا میں ایک ایسی بے حس اور نام کی غیرت مند قوم رہتی ہے، جو شہزادے کی ایک تصویر لیک ہوجانے پر واویلا مچا دیتی ہے، وہ قوم کسی بھی ملک کا مسئلہ ہو تو اپنے ملک کی سڑک بلاک کردیتی ہے، اور یہاں تک کے اپنی املاک بھی جلا دیتی ہے۔ پوری دنیا میں اس قوم کو بڑی غیرت مند سمجھا جاتا ہوگا، اور لوگ رشک کرتے ہونگے کہ کیسی ملی یکجہتی کا زندہ و جاوید نمونہ ہے یہ قوم۔ کتنی انسان کے لئے لڑنے والی قوم ہے۔

وہ سوچتے ہونگے کہ جو قوم دوسروں کے لئے اتنا کچھ کرنا جانتی ہے، وہ اپنوں کے لئے کیا کچھ کرتی ہوگی- وہ نہیں جانتے اس کے قوم نے دیکھا کہ یہاں بچے کبھی شاہی قافلوں کی وجہ سے رکشوں میں پیدا ہوتے ہیں، تو کبھی پارکوں میں، کبھی انگریزوں کے بنائے اسپتالوں کی سیڑھیوں پر، یہاں تک کہ کبھی تو اسپتال کے دروازے پر جہاں ظلِ سبحانی کی سوچ و بچار کرتی تصویر کے سامنے سڑک پر پیدا ہونا تب کہیں جا کر ظلِ سبحانی کی انگلی ہلی۔ یہاں دن دیہاڑے بچیاں اٹھائی جاتی ہیں، تو کبھی بزرگ عورتوں کو سرعام برہنہ گھمایا جاتا ہے، یہاں بچیاں انصاف کی بھیک میں خود کو آگ لگا لیتی ہیں تو کبھی زندہ درگور ہوجاتی ہیں۔ کبھی 14،14 بندوں کو سرعام گولیاں ماری جاتی ہیں، تو کبھی اندھوں پر ڈنڈے برسائے جاتے ہیں۔

کبھی معصوم بچوں کو ویکسین کے نام جعلی ادویات دی جاتی ہے، تو کبھی کھانسی کا سیرپ زہر میں بدل دیا جاتا ہے، کبھی شہزادے رعایا کو اس لئے مار دیتے ہیں کہ اس نے اپنی بہن کو ہمیں تنگ کیوں نہیں کرنے دیا تو کبھی اس لئے کہ اس کی کھٹارا نے ہماری شاہی سواری کے پاس سے گزرنے کی کوشش کیوں کی۔ یہاں شہزادوں کے لئے بچوں نے بھی قربانیاں دی کہ اس کی آمد کے لئے اگر ایک بچہ مر بھی گیا تو۔ یہاں تو تب آسمان نہ پھٹا جب ایک بیوہ ماں نے اپنے اکلوتے بیٹے کے قتل کا کیس بھری عدالت میں یہ کہہ کر واپس لے لیا کہ میرا اس دنیا میں کوئی نہیں، میں معاف نہیں کر رہی مگر مجھ میں مقابلہ کرنے کی بھی سکت نہیں، کہ میری بیٹیاں جوان ہیں اور دشمن بہت طاقتور ہے۔

یہاں شہزادیاں بیکری میں کام کرنے والوں کو صرف اس لئے پٹواتی ہیں کہ اس نے مجھے کیک دینے سے انکار کیوں کیا۔ اسی قوم نے دیکھا کہ شاہی سواری کے راستے میں بچہ کچلا جاتا ہے، اور 4،4 اعلی نسل کی شاہی ایمبولینس ساتھ ساتھ چل رہی ہیں، مگر بچہ کو رکشہ میں لے جایا جاتا ہے۔ یہاں غیروں کے سامنے اپنی عزتیں لٹتی ہیں، یہاں مائیں بد دعائیں دیتی ہیں۔ یہاں باپ نے بچوں کے لاشے اٹھاتے ہیں، تو حاملہ ماوَں کے پیٹ میں گولیاں ماری جاتی ہیں۔ یہاں کے حکمران محلوں میں رہتے ہیں، اور عوام ۲ وقت کی روٹی کے لئے ترستی ہے، یہاں جب وقت آتا ہے تو ساتھ بیٹھ کر 72 کھانے کھائے جاتے ہیں، اور پھر وقت آنے پر ایک دوسرے کو وقتی آنکھیں دکھائِی جاتی ہیں۔ یہاں خطوط کے بدلے قوم کی عزتوں کے سودے ہوتے ہیں مزدوروں کی مزدوری کے سودے ہوتے ہیں، غریبوں کی عزت کے سودے ہوتے ہیں۔ مگر اس قوم کی احساس نہ جاگا، یہاں سب سوئے ہوئے ہیں۔

لگا کر آگ شہر کو یہ بادشاہ نے کہا
اٹھا ہے دل میں تماشے کا آج شوق بہت
جھکا کر سر کو سبھی شاہ پرست بول اٹھے
حضور کا شوق سلامت رہے، شہر اور بہت۔

مگر اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ اور بادشاہ سلامت جو ہزاروں کے قافلے کو ساتھ لے کر چلتے تھے، وہ شائد کرنل قذافی کا انجام بھول گئے کہ جو شاہانہ زندگی کا سمبل تھا، کہ مرتے وقت وہ بھی یہی کہہ رہا تھا، کہ مجھے کیوں مار رہے ہو۔

بادشاہ سلامت آپ کا زوال تو اس ماں کی بددعا کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا جس کا اکلوتا بیٹا مارا گیا تھا۔ اور وہ رو رہی تھی۔ کہ میرا کوئی نہیں۔ اور جس کا کوئی نہیں ہوتا۔ اس کا اللہ ہوتا ہے،آج بادشاہ کا خاندان رلتا پھر رہا ہے، مگر حیرت ہے، کہ ابھی تکبر نہیں گیا۔ ابھی رعونت وہی ہے، شہزادی صاحبہ کہتی ہیں کہ عدالت میں کاروائی میں عدالتی کاروائی شروع ہانے سے پہلے گئی تھی۔ ہم نے تو یہی سنا تھا کہ عدالت کہ ملزم کو پہلے پہنچنا ہوتا ہے۔ جب بھائیوں کے بارے میں پوچھا تو وہ تو پاکستانی شہری نہیں۔ تو یہاں کا قانون ہی اپلائی نہیں ہوتا۔ تو یہ دونوں بچے انڈیا اور دوسرے ممالک کے سرکاری دوروں پر کس حیثیت سے جاتے تھے۔ تب ان پر پاکستانی پیسہ اپلائی نہیں ہوتا تھا۔

پھر آفرین ہے بادشاہ سلامت کی سادگی پر کہ مجھے کیوں نکالا۔ آپ کو بزرگوں کی آہوں نے نکالا۔ آپ کو غریبوں کی بے بسی نے نکالا۔ اور آپ کو ماوَں کی سسکیوں نے نکالا۔ آپ کو شہیدوں کے لہو نے نکالا۔ اور ابھی تو صرف آپ کو نکا لا ہے، وقت آئے گا کہ پورا خاندان نکلے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے