صفحہ اول / کالمز / مجھے عشق اپنے ہی صیاد سے ہے

مجھے عشق اپنے ہی صیاد سے ہے

Lahore-pakistan-hamaraakhbar

ہر بار ایک ہی وعدہ کرتا ہے میرا صیاد
اس کو بھی میرے عشق پر پورا یقین ہے

واہ ری پاکستانی قوم، تیری قسمت میں کیا لکھا ہے۔ کبھی کبھی اس عوام پر بہت ترس آتا ہے، اور کبھی کبھار شدید غصہ۔ ان کے دکھ دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے، مگر دماغ کہتا ہے، کہ یہ ایسے ہی حالات کے مستحق ہیں۔ اور ان کو مرنے دیں۔ کہ نہ تو یہ سمجھنا چاہتے ہیں اور نہ ہی ان کو اپنے حالات بدلنے کا شوق ہے۔ اور ایسے لوگوں کے لئے تو اللہ نے بھی کہہ دیا ہے کہ میں ایسے لوگوں کے حالات نہیں بدلتا، جو خود اپنے حالات بدلنا نہ چاہتے ہوں۔

لیہ میں 22 بندے ایک ہی دن میں ایک ہی برادری کے لوگ دائِمی سفر کی طرف روانہ ہوگئے۔ ان کو اپنے پیاروں کو نشتر اسپتال لانا پڑا جو کہ لیہ سے ۱۲۵ کلو میٹر کے لگ بھگ دور ہے، بیسیوں لوگ احمد پور شرقیہ میں آگ میں جھلس گئے۔ اور ان کے پاس کوئی ایسا اسپتال موجود نہیں تھا جہاں برن یونٹ موجود ہوتا، اور ان کے مریض "تخت لاہور” میں لانے پڑے۔ مگر پھر بھی ان کو سمجھ نہیں آتی۔ کتنے سال گزر گئے، جنوبی پنجاب پس رہا ہے،وہاں آج بھی انڈس یونیورسٹی کے طلباء احتاج کر رہے ہیں۔ مگر وہاں کی عوام ہر بار پرانے لوگوں کے جھانسے میں ہر بار آجاتے ہیں۔ ان کو اپنے صیاد سے عشق ہے۔ اسی کے ارد گرد ہم پھر رہے ہیں۔ ہماری عقل پر پردہ ہر بار پڑ جاتا ہے۔ سب کچھ صاف نظر آرہا ہوتا ہے۔ مگرہم دام میں رہنے پر ہی اکتفا کرنا چاہتے ہیں۔

پاکستان میں موجود ہر ادارہ سیاست زدہ ہوچکا ہے۔ آپ نیب سے لے کر ایف آئی اے تک، نادرہ سے لے کر پی سی بی تک، الیکشن کمیشن سے لے کر عدالتوں تک۔ کونسا ایسا ادارہ ہے جو آزادانہ کام کر رہا ہے؟ آج غلطی سے این اے ۱۲۰ کا دورہ کیا، مقصد ذرا ذاتی نوعیت کا تھا، مگر وہاں غیر قانونی کام ہو رہا تھا، الیکشن کمیشن ہر طرح سے اس کوشش میں ہے کہ کلثوم نواز کو جتوا کر اپنی اگلی نوکری پکی کریں۔ کیونکہ جس انسان نے ان کو اپنے سرکاری اثر و رسوخ کا استعمال ان کے فائدے کے لئے کیا، ان کو انہوں نے کبھی نہیں بھلایا، چاہے وہ ممنون ہو یہ شجاعت عظیم، وہ رحمان ملک ہو، یا پھر جسٹس رفیق تارڑ، وہ جسٹس سیدالزماں صدیقی ہو۔ یا پھر عرفان صدیقی۔ جسٹس صاحب کو خاص طور پر ان دنوں میں لگانے کا مقصد صرف ایک ہی تھا، کہ بھائی جان خیال رکھو گے تو ہم آپ کے آخری دنوں میں بھی آپ کو نہیں بھولیں گے۔ بہرحال بات ہو رہی تھی، این اے ۱۲۰ کی، الیکشن کی تاریخ وہاں آچکی ہے، اور اس کے بعد ڈیولیپمنٹ کا کام پر پابندی لگ جاتی ہے، مگر آج بھی وہاں ایک ٹوٹی ہوئی سڑک بن رہی تھی، میاں محمد نواز شریف وہاں قانونی طور پر کمپئن نہیں چلا سکتے، مگر وہ بیٹھ گئے ہیں۔ اب چونکہ وہ وہاں پارٹی جلسہ نہیں کر سکتے، تو الیکشن کمیشن نے پارٹی صدر پر ہی پابندی لگا دی، کہ اگر نواز شریف نہیں کر سکتے، تو ہم اس پر پابندی لگا دیتے ہیں۔ اور ن لیگ کا صدر ایک بے ضرر شخص ہے، تو شہباز کو اسی لئے نہیں بناتے۔ اس طرح عمران خان یہاں کمپئین نہیں چلا سکتا۔

مگر کس کس کو یاد ہے، کہ این اے ۱۲۲ میں میاں نواز شریف کہاں موجود تھے؟ خواجہ سعد رفیق کی ریلوے کالونی پیکج کس کس کو یاد ہے؟ ماروی میمن وہاں بیٹھ کر بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام کے پیسے سے کیا کر رہی تھی؟ این اے ۱۵۴ میں ۲ ارب کا پیکج وزیراعظم نے ایک جلسے میں دیا تھا؟ یہ پابندی تب یاد آئی کہ اگر میں صاحب جھوٹ بولنے پر نااہل ہوئے، تو اب ہم سب پابندی لگا دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہاں بہت سے کیسز ایسے سامنے آرہے ہیں جن کے ووٹ بلا وجہ دوسرے علاقے میں شفٹ کئے جارہے ہیں۔ معروف صحافی منیر بلوچ کے مطابق ۱۵،۰۰۰ سے ۲۰،۰۰۰ لوگوں کے ووٹ توڑے گئے ہیں، اور یہ وہاں کے کونسلر کی رپورٹ پر کئے گئے ہیں، کہ جو نہ تو بک سکتے ہیں، اور نہ ہی اپنا ووٹ چینج کریں گے۔ کچھ کیسز تو میرے سامنے بھی آئے ہیں۔ یہ الیکشن کمیشن آف پاکستان ہے یا پھر سیلکشن کمیشن آف آلِ شریف ہے۔ ان کو یہ چیزیں کیوں نظر نہیں آرہی؟ ٹی ایم اے کی ۱۴ اگست کی جتنی تقریبات ہوئی، وہاں سراکری خزانے سے جو پوسٹرز چھاپے گئے، ان سب میں نواز شریف کی تصویریں پاکستان کے اس قانونی نظام کا منہ چڑا رہی ہے۔

یہ تمام چیزیں اگر ان اداروں کی آنکھوں سے اوجھل ہیں، تو عوام کو اتنی عقل تو ہونی چاہئے کہ وہ سمجھ سکے کہ آخر ایسی کیا مجبوری تھی کہ نادرہ کے چئیرمین کو رات کے ۲ بجے برخواست کر دیا گیا؟ آخر ایسا کیا ہوا کہ یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کے کیس کی تفتیش کرنے والا مارا کیسے گیا؟ وہ کون انسان ہے، جس نے ائرپورٹ پر ایان علی کو پکڑنے والے کو راتوں رات مروادیا۔ آخر وہ کونسا وزیر ہے جو وزیر داخلہ کی نظر میں معاشی اور اخلاقی کرپٹ ہے مگر وہ اس کا نام نہیں لیتے کہ پارٹی کو نقصان ہوگا۔ کیا ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں کہ آپ پارٹی کے وزیر ہو یا پھر ملک کے۔ اور ڈان لیکس کی رپورٹ کیوں پبلک نہیں کی گئی، کیا وجہ ہے کہ باقر نجفی کی رپورٹ پر اسٹے آرڈر کیوں لیا گیا، اور دیا کیوں گیا۔ یہ عوام اندھی ہے؟ کونسی وجہ ہے کہ میاں صاحب نیب میں پیش نہیں ہو رہے، چلو انہوں نے تو نظرِ ثانی کی درخواست دی ہے، مگر بچوں نے تو ابھی نہیں کی۔ کیا یہ سہولت مجھے بھی حاصل ہے؟ اگر میں بھی نیب میں پیش نہ ہوں، اور میرے لئے بھی اسلام آباد سے لاہور آیا جاسکتا ہے؟ اخر کیا وجہ ہے کہ ن لیگ اس بات پر تو احتجاج کر رہی ہے، کہ مجھے کیوں نکالا، یا جے آئی ٹی نے ساٹھ دنوں میں کئی مہینوں کا کام کیا، فلاں کمپنی کو یہ کاغذ حاصل کرنے کے لئے اتنےپاوّنڈ خرچ کئے، حتٰی کے بحث یہ ہونی چاہئیے تھی کہ جو معلومات انہوں نے شئیر کی، وہ سچ ہے یا جھوٹ؟ کیا ہی عجیب و غریب منطق ہے۔

آخر میں ڈینگی کا پشاور میں وار پر گفتگو، مجھے افسوس ہوا کے پی حکومت کے ردِ عمل پر، وہ ڈاکٹرز سے فائدہ لے سکتے تھے، مگر انہوں نے اس کو سیاست کی نظر کردیا۔ لیکن شائد اس میں کچھ سوال میرے بھی ہیں۔ کہ پنجاب وہاں مدد کے لئے پہنچی، اگر کے پی پولیس راجن پور مدد کے لئے پہنچ جائے تو؟ ویسے کیا پنجاب کے پاس اتنی طبی سہویات ہیں، تو شریف خاندان کو بھی یہ سہولت دے دیں، وہ بیچارے اتنا پیسہ خرچ کر کے لندن جاتے ہیں۔ وہاں علاج کروانے جانا پڑتا ہے۔ اور اتنا تیز ردعمل تو ان کا ماڈل ٹاون واقعے پر کیوں نہیں آیا جہاں سات گھنٹوں تک خون کی ہولی کھیلی جاتی رہی۔ اخر کیا وجہ کہ میں صاحب نے فی الفور ٹیم روانہ کر دی، جیسے وہ تیار بیٹھے ہوں۔ کہ اب ڈینگی ہو اور ہم پہنچ جائیں۔
اگر یہ سب چیزیں عوام کو نظر نہیں آتی تو مجھے یقین ہے کہ ان کو اپنے صیاد سے ہی عشق ہے، اور یہ خود جال میں رہنا چاہتے ہیں۔ کہ ایک شخص سے پوچھا کہ اتنا پیسہ اخر کہاں سے آیا ان کے پاس، تو وہ کہتا کہ میاں صاحب ملک کے ۳ بار بادشاہ بنے، اتنا تو ہونا چاہئے تھا۔ اللہ اس عوام کا بھلا کرے،

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے