صفحہ اول / کالمز / پاکستان – جہاں ہر حکومت کے گرتے ہی انکشافات شروع ہو جاتے ہیں

پاکستان – جہاں ہر حکومت کے گرتے ہی انکشافات شروع ہو جاتے ہیں

محمد فیصل ندیم 


muhammad faisal javeed auther of hamara akhbar
محمد فیصل ندیم

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کو انکشافات کی جنت کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ یہاں ہر شخص کو انکشاف ہوا ہے۔ مگر حیران کن معاملہ یہ ہے کہ انکشافات تب ہوتے ہیں جب وہ خود اسی عمل سے گزرتے ہیں۔ بات یہی تک رہے تو ٹھیک مگر انکشاف ہونے کے بعد جیسے ہی دوبارہ اقتدار مل جاتا ہے۔ تو پھر انکشافات ہونا بند ہوجاتے ہیں۔ میاں محمد نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کو بھی ایسے ہی انکشافات ہوتے تھے۔ اور آج بھی ہوتے ہیں

NAWAZ SHARIF GT ROAD

۔۱۹۸۸ سے لے کر ۱۹۹۹ تک بے نظیر اور نواز شریف کی لڑائی سے کون واقف نہیں۔ ۱۹۹۸ میں جب بے نظیر کی حکومت آئی تب نواز شریف نے ہی جنرل اسلم بیگ اور حمید گل کے ساتھ مل کر صدر کے ذریعے ان کی حکومت کا پہلے تختہ گول کیا اور پھر خود حکومت میں آگئے۔ پھر جب بے نظیر نے اسی صدر کے ساتھ مل کر نواز شریف کی حکومت کو ختم کیا تو یہ جمہوریت پر ڈاکہ ہوا۔ اب وہی صدر برا ہوگیا۔ تب آپ نے بے نظیر کی حکومت کا خیال نہیں آیا۔ بحرحال ہم نے سوچا کہ شائد اب ان دونوں کو عقل اگئی ہوگی۔ اور بے نظیر دوسری بار مسندِ اقتدار پر براجمان ہوگئی۔ اب پھر نواز شریف کی سیاست تیز ہوگئی۔ اور عابدہ حسین، فخر امام کے ساتھ مل کر جو لغاری تک راہ ہموار کی، اس سے کون واقف نہیں۔ اور نواز شریف نے بی بی کی حکومت چلتی کروادی۔ اس وقت نواز شریف کو وہ صدر جمہوریت کا علمبردار لگا۔

بی بی کو بھی ابھی تک سمجھ نہیں آئی تھی۔ نواز شریف جو اب حکومت میں آیا تو اس کے اطوار ہی یکسر بدل چکے تھے۔ اب وہ مکمل طور پر پرانے بدلے لینے کے موڈ میں تھے۔ ان کی گردن کافی حد تک ۲ تہائی اکثریت نے سخت کر دی تھی۔ اور وہ کسی کو خاطر میں لانے کو تیار نہیں تھے۔ اور اس کا آغاز انہوں نے جنرل جہانگیر کرامت کی رخصتی سے کیا۔ اس کے علاوہ جب چیف جسٹس سجاد حسن شاہ نے ان کے خالا فیصلہ سنانا تھا، تو ان پر بھی حملہ کر دیا۔ اور فوری طور پر ان کے خلاف چارج شیٹ بھی تیار ہوگئی۔ اور اس کیس میں جن لوگوں نے ان کی مدد کی، وہ کیا کچھ نہیں پاگئے۔ اب نواز شریف کو لگا کہ اب مجھے کوئی نہیں پیچھے ہٹا سکتا۔ ان کا اعتماد کافی حد تک بحال ہو چکا تھا، سیاست کی پچ پر انہوں نے اعتماد کے ساتھ بیٹنگ اسٹارٹ کر دی تھی۔ ایمپائر بھی اپنی مرضی کے بٹھا دئیے تھے۔ چیف جسٹس، چیف آف آرمی اسٹاف اور صدر تمام اپنی مرضی اور چھان بین کر کے لگائے گئے تھے۔ پھر اس کے علاوہ ایٹمی دھماکے بھی انہی کے نام سے گونج رہے تھے۔ حالانکہ گوہر ایوب اس بات سے قطعی مطمئن نہیں۔ نواز شریف کو یہ لگنے لگ گیا تھا کہ اب ان کو آوّٹ کرنا ناممکنات میں سے ایک ہے۔ مگر ایک معاملے میں امریکہ نے ٹانگ اڑا دی۔

اب مسئلہ یہ تھا کہ امریکہ کے آشیرباد سے تو میاں صاحب آگے بڑھ رہے تھے۔ میاں صاحب نے اپنے ہی لگائے ہوئے چیف سے پنگا لے لیا۔ اور ان کو سری لنکا کے دورے پر ہی برخواست کر دیا۔ میری اطلاعات کے مطابق نواز شریف پانامہ فیصلہ آنے سے چند دن پہلے اچانک مالدیپ کے دورے پر چلے گئے تھے، تو فیصلہ ۳ دن کے لئے موّخر ہو گیا تھا کہ ابھی وہ پاکستانی وزیرِ اعظم کی حیثیت سے مالدیپ گئے ہیں۔ ان کو ابھی نا اہل کرنا ٹھیک نہیں۔ مگر اپنے وقت میں نواز شریف نے یہ بالکل نہیں سوچا تھا کہ ہاکستان کی آرمی کا چیف سرکاری دورے پر کسی دوسرے ملک میں گیا ہوا ہے۔ تو مجھے اس کے آنے کا انتظار کرنا چاہیئے۔ مگر نواز شریف پر تو بھوت سوار تھا۔ اور وہیں برخواست کر دیا گیا۔ جب آپ ہر طرف سے خود کو بچا کر رکھتے ہیں۔ اور سمجھتے ہیں کہ اب میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا تو پھر اللہ کا حکم ہوتا ہے۔ اور وہ اپنے ہی محل میں پلنے والے موسٰی سے فرعوں کا تختہ الٹا دیتے ہیں۔ غلاموں میں اسپارٹیکس پیدا کر دیتا ہے۔ اور نواز شریف کا اپنا چہیتا جنرل ہی ان کی قید کا پروانہ بن گیا۔ ۲۰۰۷ میں جب نواز شریف کی واپسی ہوئی تب بہت سے لوگوں کی طرح مجھے بھی لگا کہ شائد اب نواز شریف سدھر گیا ہوگا۔ مگر وہ نواز شریف ہی کیا جو سدھر جائے۔

NAWAZ SHARIF GT ROAD LAHORE
نواز شریف کے خلاف جو مقدمات تھے اس میں چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے ان کو بلایا تو میاں صاحب نے اصولی فیصلہ کرتے ہوئے نا جانے کا فیصلہ کیا۔ اور صاف انکار کردیا۔ افتخار چوہدری کی عدالت میں کورٹ میں پہلے میمو گیٹ اور پھر گیلانی کے خلاف مقدمہ لے کر پہنچے۔ آج کہتے ہیں کہ عمران خان کس کے اشارے پر عدالت گئے ہیں۔ تو میاں صاحب آپ بھی عوام کو یہ بتا دیں کہ آپ کس کے اشارے پر گئے تھے؟ پھر میاں صاحب نے گیلانی کو نااہل کروایا۔ اور خوشیاں منائی۔ اس وقت میاں صاحب کو نہ تو جمہوریت ڈی ریل ہوتی نظر آئی نہ ہی کوئی سازش نظر آئی۔

آج میاں صاحب کو لگتا ہے کہ جب بھی کسی وزیرِ اعظم کو نکالا جاتا ہے تو اس کے پیچھے سازش ہوتی ہے۔ ایک چور کو لگتا ہے کہ سب چور ہیں۔ اگر ایک آدمی کسی کے گھر جا کر دوسروں کی لڑکی پر نظر رکھتا ہے، تو اس کو لگتا ہے کہ ہر بندہ جو اس کے گھر آیا ہے، اس کی گھر کی لڑکیوں پر نظر رکھتا ہے۔ میاں صاحب نے ایک نجی محفل میں اس بات کا اعتراف بھی کیا، کہ ہمیں پتہ ہے کہ کیسے پیسے ملتے ہیں۔ اس بات کا اعتراف کروڑ پتی صحافی مجیب الرحٰمن شامی اپنے پرگرام میں کر بھی چکے ہیں۔ اس لئے ان کو اب لگتا ہے، کہ جو بھی ہماری کرپشن کی بات کرتا ہے، وہ کسی کے اشارے پر ہی کرتا ہوگا۔
میاں صاحب اور ان کے حواری اب یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ ہم یہ ریلا لے کر گجرانوالہ تک پہنچیں گے کہ آرمی اور چیف جسٹس اپنا فیصلہ واپس لے لیں گے۔ نیب کے تمام کیسز بند کردئے جائیں گے۔ اور دوبارہ میاں صاحب کو وزیراعظم کا عہدہ دے دیا جائیگا۔ بلی کو چھیچھڑوں کے خواب۔

https://www.youtube.com/watch?v=PLrY7ZLHMv4
میاں صاحب اور ان کا خاص ٹولہ سب کو یہ بتانے میں مصروف ہے، کہ ہمیں صرف اس بات پر نکالا گیا کہ بیٹے سے تنخواہ نہیں ملی۔ تو وہ واقعی اس بے وقوف عوام کو سمجھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ عوام میں سے ۷۰ فیصد عوام اور ان کے ووٹرز نے فیصلہ مکمل پڑھنا ہی نہیں ہے۔ اور جو ہم کہیں گے، اس پر یقین کر لیا جائے گا۔ مگر میاں صاحب اب پھر اللہ کی رحمت کو عوام پر شائد ترس آگیا ہے۔۔

ایک تبصرہ

  1. یہ سیاسی معملات تو چلتے رہے گے….

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے