صفحہ اول / کالمز / شعبہ جاتی تجربہ اور تعلیم کے بغیر لوگوں کو ایڈجسٹ کرنا کرپشن ہے ؟

شعبہ جاتی تجربہ اور تعلیم کے بغیر لوگوں کو ایڈجسٹ کرنا کرپشن ہے ؟

ترقی پذیر ممالک میں مناصب خریدنے بیچنے کا عمل تبدیلی کیسے لائے ؟

 سید بابر شکیل -ٹورنٹو 


corruption articleشعبہ جو بھی ہو کسی کو اس شعبے کا کام دیتے وقت اسکی تعلیم یا انڈسٹری میں اسکا تجربہ ہونا ضروری ہے…دونوں چیزیں نہ ہوں اور بہت مجبوری ہو تو جن سے کام لینا ہو ان کی ٹریننگ پر انوسٹمنٹ کریں ,انڈسٹری سے ایکسپرٹ ھائیر کر کے یا افراد کو تربیتی اداروں میں بھیج کر –

اگر یہ بھی نہیں کر سکتے تو وہ شعبہ خود ان غیر تربیت یافتہ افراد سے کروانے کی بجائے کسی ادارے کو آوٹ سورس کر دیں- اور کوئ

Syed Babar Shakil
سید بابر شکیل
ٹورنٹو کے صحافتی اور
سماجی حلقوں میں ایک زمہ دار نام، اردو ریڈیو اسٹیشن میں بھی پروگرام کرتے ہیں اور پاکستانی کمیونٹی کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں

راستہ نہیں ہے … مگر ہم اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں کہ لوگ غیر تربیت یافتہ اور ناتجربہ کار یا دوسرے شعبے کے ماہر سے کام لیتے ہیں جو کہ اصل میں کام خراب کرنا تو ہو سکتا ہے کام نہیں ہوسکتا – اگر انفارمیشن ٹیکنالوجی,ڈیجیٹل میڈیا,صحافت اور میڈیکل کے شعبے میں یہ کیا جائے تو تباہی یقینی ہے ….


رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ لوگ مرض کی غلط تشخیص پر مرتے ہیں ..اسی طرح انٹر نیٹ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی دنیا میں کہا جاتا ہے کہ اگر آپ کا بندہ پیپر یا پرنٹ میڈیا میں کچھ غلطی کرتا ہے تو وہ غلطی ہزاروں کی نظروں میں آئے گی ,لیکن اگر انٹر نیٹ پر غلطی یا غلطیاں کرے تو وہ لاکھوں اور کروڑوں تک جاسکتی ہے …


جن لوگوں سے ڈیجیٹل مارکیٹنگ کا کام لینا ہو وہ کمپیوٹر کے یونیورسٹی گریجویٹ ہوں اور مضبوط بنیاد رکھتے ہوں تو خود سیکھ سکتے ہیں ,ورنہ جو آپکو میسر آئے ہیں ان کی ٹریننگ پر خرچ کیجئے اور پھر ان کو موقع دیجئے …..ورنہ …….اپنے ملک میں زندگی کے مختلف شعبوں میں ترقی معکوس کی سب سے بڑی وجہ میں یہی نوٹ کرتا ہوں کہ لوگ بڑی بے دردی سے غیر شعبے کے افراد سے شعبے چلوا
رہے ہوتے ہیں .. آپ ایسا ہوتے دیکھیں تو روکنے کی کوشش کریں..

میڈیکل کی تعلیم اور تجربے والے کو ٹورزم کا محکمہ دینا اور محکمہ پٹرولیم دینا اور ریٹائر جرنیل سے کوئی یونیورسٹی کالج چلوانا کیسے ثمر دے سکتا ہے ؟  – اگر حالات غیر معمولی ہوں ، جنگ کے بعد کے مسائل ہوں ، افراد ناپید ہوں تو پھر تو اس پر کوئی سوال نہیں کرے گا مگر عام حالات میں یہ چیزیں نہ ہضم ہوتی ہیں نہ سکون دیتی ہیں

تیسری دنیا کے بڑے مسائل یہی ہیں کہ وہاں غیر تربیت یافتہ اور غیر شعبہ کے لوگ مناصب خرید کر قابض ہوتے ہیں یا رشتہ داری اور دوستی کا انعام سمجھکر اپنا حق وصول کرتے ہیں ، پھر تبدیلی کی امید عوام کیوں رکھے ؟

ایک تبصرہ

  1. زبردست آرٹیکل.. بلکل ٹھیک کہا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے