صفحہ اول / کاروبار / کسٹمر سروس اور سیلز مین شپ

کسٹمر سروس اور سیلز مین شپ

’’یہ لیجیے جناب! یہ ڈیٹرجنٹ کا ڈبہ آپ کے لیے ہے۔‘‘ ہاکر مؤدب کھڑے ہوکر روایتی جاپانی لہجے میں جھک ک بات کررہا تھا اور میری ہر شکایت کو مسکراتے ہوئے سن رہا تھا۔ میں نے اخبار کا بل دے کر ڈیٹرجنٹ کا ڈبہ وصول کرتے ہوئے اس سے پوچھا ’’ڈیٹرجنٹ کا اتنا بڑا ڈبہ صرف مجھے دے رہے ہو یا ہر کسٹمر کو دیتے ہو؟‘‘ اس نے بتایا کہ یہ ’’سروس‘‘ کے طور پر پیش کیا جارہا ہے اور ہر مہینے وہ کوئی نہ کوئی چیز اپنے تمام کسٹمرز کو بطور ’’سروس‘‘ پیش کرتا ہے۔ ساتھ ہی ہاکر نے کاغذ کا ایک خوب صورت بیگ بھی دیا کہ پرانے اخبارات ضائع کرنے کے لیے اسے استعمال کیجیے۔


جاپان میں قیام کے دوران اپنے گھر کے لیٹر بکس کو ہمیشہ مختلف پمفلٹ‘ پوسٹر‘ لفافوں اور ٹشو پیپر کے پیکٹوں سے بھرا پایا۔ نئے سال کے موقع پر ان کی تعداد نمایاںں طور پر بڑھ جاتی اور اکثر ایسا ہوتا تھا کہ چیزیں لیٹر بکس سے باہر ابلنے لگتی تھیں۔ سارا سال مختلف تجارتی اداروں میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنی جانب راغب کرنے کا مقابلہ جاری رہتا ہے۔ اسکولوں کے طلبہ اور ادھیڑ عمر کی خواتین پارٹ ٹائم جاب کے طور پر رہائشی علاقوں میں جاکر لیٹر بکسوں میں پمفلٹ اور ٹشو پیپر رکھنے کا کام کرتے ہیں۔ ان پمفلٹ پر اکثر ایسی تحریریں ہوتیں کہ اس کوپن کو لے کر فلاں بیکری یا ریسٹورنٹ میں آئیں اور 50 فیصد ڈسکائونٹ حاصل کریں۔ یا ہماری نئی دکان پر تشریف لائیں اور رعایتی داموں پر ایئر کنڈیشنر خریدیں۔

ٹوکیو کے جس علاقے میں میری رہائش تھی‘ اس کی گلی کے ایک رائس شاپ سے میں ہر ہفتے چاول کے پیکٹ خریدتا تھا۔ دو کلو کے چاول کا پیکٹ خریدوں یا پانچ کلو کا‘ دکاندار ہمیشہ توجہ اور مسکراہٹ سے میرا استقبال کرتا۔ ماں‘ باپ اور بیٹے پر مشتمل تین افراد اس دکان کو چلاتے تھے۔ جاپان کی عام روایت کے مطابق چاول والے کا گھر بھی دکان کے ساتھ تھا۔ جاپان کے رہائشی علاقوں میں گھروں کے ساتھ دکانیں ہوتی ہیں تاکہ امورِ خانہ اور کاروبار دونوں پر برابر توجہ رہے۔ رائس شاپ میں ایک گاہک کو سروس دینے کے لیے تین افراد موجود ہوتے تھے۔ باپ اگر چاول تول کر پیک کر رہا ہے تو بیٹا تھیلی لے کر کھڑا ہے اور ماں پیسے وصول کرکے رسید دے رہی ہے۔ ہر جگہ گاہک کو کم سے کم انتتظار کرایاجاتا ہے چاہے اس کے بدلے دکاندار کتنا ہی بے آرام کیوں نہ ہوجائے۔ رائس شاپ سے چاول خریدتے وقت رسیدوں کے ہمراہ مجھے چند ٹوکن بھی ضرور دیے جاتے تھے جس پر 100, 50 اور 500 تحریر ہوتا۔ پوچھنے پر پتا چلا کہ یہ ڈسکائونٹ کوپن ہے اور اگلی خریداری پر ہر ٹوکن پر درج عدد کے برابر رقم بل سے منہا کرلی جائے گی اس طرح کی اسکیم کامطلب یہی ہوتا ہے کہ گاہک ایک ہی دکان سے بار بار خریداری کرتا رہے۔


کسی بھی اسٹور میں داخل ہوتے ہی ’’ای راشائی… ای راشائی‘‘ (خوش آمدید) کی بلند آواز سنائی دے گی۔ اسٹور میں داخل ہو کر آپ کچھ خریدیں یا یونہی بغیر خریداری کے باہر نکلیں۔ نکلتے وقت ’’آری گاتو گوزائماشتا‘‘ (بہت بہت شکریہ) کے الفاظ سنائی دیں گے۔ خوش آمدید اور شکریہ کہنے کے لیے کوئی الگ اسٹاف نہیں رکھا جاتا بلکہ تمام سیلز مین اور سیلز گرل کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ مل کر یا جس کی نظر پہلے گاہک پر پڑے یہ کلمات با آواز بلند مسکر اکر ادا کریں۔

جاپان کے تمام چین اسٹور چاہے وہ فیملی مارٹ ہوں یا سیون الیون‘ عام لوگوں کی ضروریات زندگی کی پوری رینج رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ روز مرہ کے استعمال کی اشیاء کے ساتھ ساتھ تمام اخبارات‘ رسائل‘ فون‘ فیکس اور فوٹو اسٹیٹ مشین بھی صارفین کی خدمت میں رکھے جاتے ہیں۔ بعض چیزیں ایسی بھی ہوتی ہیںجن پر اسٹور کو کوئی منافع حاصل نہیں ہوتا مگر کسٹمر کو سہولت پہنچانے کی غرض سے رکھی جاتی ہیں۔ جاپانی بزنس کلچر کے مطابق اگر آپ گاہک سے سینکڑوں چیزوں میں منافع کما رہے ہیں تو چند چیزیں صرف اس کی سہولت کے لیے بھی رکھیں خواہ ان پر کوئی منافع حاصل نہ ہو۔

پورے جاپان میں ہوم ڈلیوری کی سہولتیں ہر شعبے میں موجود ہیں صرف فون کیجیے اور کتابیں آپ کے گھر پر حاضر۔ چاول کے پیکٹ فون کرکے گھر پر منگوایئے‘ فریج‘ ٹی وی‘ گوشت‘ مشروبات‘ کرائے کے کپڑے‘ لنچ‘ ڈنر‘ پیزا سب کچھ گھر بیٹھے منگوایا جاسکتا ہے۔


فیکٹری میں کام کے دوران کہیں سے فون آیا ساچو کے کسی عزیز کے انتقال کی خبر تھی۔ ساچو نے ایک جگہ فون ملایا اور اپنے ناپ کے کپڑوں کا سائز بتایا۔ تھوڑی دیر میں سیاہ کوٹ پینٹ ہینگر میں لٹکائے ایک آدمی موٹر سائیکل پر حاضر ہوگیا۔ یہ کرائے پر کپڑا مہیا کرنے والی کمپنی کا نمائندہ تھا۔ فون کرکے ٹیکسی منگوائی گئی اور تھوڑی دیر میں ساچو تعزیت کے لیے روانہ ہوگئے۔

محلے میں کسی جاپانی کے انتقال کے بعد فوراً اسپتال فون کرکے موت کی اطلاع دی جاتی ہے۔ سرکاری کاغذات میں کوائف درج ہونے کے بعد لاش اسپتال کے برف خانے میں ہی رکھی جاتی ہے۔ دوسری طرف مرنے والے کے عزیز کسی بھی ’’فیونرل سروسز‘‘ کی ادارے کو فون کرکے انتظامات کرنے کو کہتے ہیں اور بتا دیتے ہیں کہ لاش فلاں اسپتال سے اٹھا لو۔ اب کسی فکر کی ضرورت نہیں‘ فیونرل سروس کمپنی تمام انتظامات کرے گی۔ مرنے والے کے تمام رشتہ دار اور ملنے جلنے والے تعزیت کے لیے فیونرل سروس کے آفس میں جمع ہوں گے جہاں مرحوم کی بڑی تصویر فریم میں لگا کر اور اسے ہار پہنا کر مخصوص جگہ پر رکھی جائے گی۔ فیونرل سروس کمپنی کے آفس کے باہر لوگ قطار بنائے کھڑے ہوں گے اور باری باری اندر جا کر مرحوم کے لواحقین کو تسلی دینے کے ساتھ ساتھ کیش رقم والے لفافے پیش کریں گے جو مرحوم کی میت کو دفن کرنے کے مہنگے اخراجات میں ان کی طرف سے حصہ ہوگا۔


کسی بھی کاروبار کو چلانے میں سیلزمین کا رویہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ مسکرا کر بات کرنے کے ساتھ ساتھ گاہک یہ بھی چاہتا ہے کہ دکان پر اس کا کم سے کم وقت صرف ہو اور اسے بھرپور توجہ ملے۔ جاپانی اسٹوروں پر عام طور پر کم عمر لڑکے لڑکیاں کام کرتی ہیں یہ لوگ تعلیم کے ساتھ ساتھ پارٹ ٹائم کام کرتے ہیں۔ انہیں سیلزمین شپ کی تربیت دے کر اسٹوروں کے کائونٹر پر رکھا جاتا ہے۔ دوڑ دوڑ کر کام کرنا‘ گاہک کی مطلوبہ چیزوں کی نشاندہی کرنا‘ تیز رفتاری سے تمام سامان کو تھیلیوں میں بند کرکے ان کی قیمت کیش رجسٹر میں درج کرتے جانا اور کیش رجسٹر مشین میں جو ٹوٹل آئے اسے باآواز بلندد دہرانا‘ یہ سب باتیں تمام اسٹوروں کے سیلزمینوں کی مشترکہ خاصیت کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ریلوے اسٹیشنوں کے باہر بینک‘ شاپنگ سینٹر اور دیگر اداروں کے نمائندے لوگوں کو ٹشو پیپر تقسیم کرتے ہوئے عام طور پر نظر آتے ہیں۔

کاروبا رمیں حسن اخلاق کا یہ مظاہرہ جاپانیوں کی قومی مزاج و کردار کا حصہ ہے جس سے نہ صرف مقامی طور پر کاروبار ترقی کرتا ہے بلکہ جاپان اور جاپانیوں کو پوری دنیا میں عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور لوگ آنکھیں بند کرکے جاپانی اشیاء پر اعتماد کرتے ہیں۔

2 تبصرے

  1. great articles! keep it up!

  2. You are beautifully writing your adventures in Japan

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے