صفحہ اول / بلاگ / سیکولرزم ایک حقیقت یا افسانہ

سیکولرزم ایک حقیقت یا افسانہ

سیکولر طبقہ ایک حقیقت ہے یا افسانہ اس بات کا تعین کرنا مشکل ہے لیکن نا ممکن نہیں تعجب اس امر پر ہے کہ پانچ فیصد لوگوں کا ذریعہ معاش اس سے وابستہ ہے ۔جبکہ اس میں بھی دو رائے نہیں کہ یہ پانچ فیصد ہی ہمارے ملک کی معیشت قابز ہیں ان میں چینلز مالکان،اعلی عہدیداران،کاروباری اور کچھ دوسرے لوگ اس فرسودہ ریل گاڑی کا حصہ ہیں ۔


…آئیے سیکولرزم کو دیکھے یہ ہے کیا "انگریز مفکر ہولی اوک کہتا ہے”

"خدا کا متبادل سائنس ہے ” یعنی وہ کہتا ہے کہ سب کچھ سائنس کی پیدا وار ہے۔ہمیں اس با ت کو سمجھنا ہوگا کہ یہ مٹھی بھر لوگ کیسے ہماری صفوں کو توڑ رہے ہیں اور استغراق کرنا ہوگا کہ ان کے خطرناک عزائم کو کیسے روکا جا سکتا ہے ۔اب دیکھے یہ لوگ غالب کیسے آئے پیسے کو ستعمال کرتے ہوئے مخصوص ٹولیاں تشکیل دی گئی جن میں پڑھا لکھا طبقہ سر فہرست ہے جنہوں نے اسلام کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کی کوئی کثر نہیں چھوڑی ۔

 

مجھے بڑے افسوس سے یہ کہنا پڑ رھا ہے کہ گزشتہ دنوں ایک بھانڈ حکومتی چینل پر بیٹھ کر اپنے گھٹیا اور بازاری الفاظ سے کچھ یوں گویہ تھا کہ (معاذاللہ)اگر نبیﷺ کمزور نا ہوتے تو صلح حدیبیہ کیوں کرتے ارے جاہل !تونے معاہدہ حدیبیہ کے مثبت ثمرات کو کیوں سٹڈی نہیں کیا بات یہاں تک ہی محدود نہیں سیکولرزم سے نا صرف اسلام بلکہ عیسائیت کو بھی خطرہ لا حق ہے جن کو نیچے بیان کیا جا رہا ہے۔ سیکولر کلاس اگرچہ تعداد میں نا ہونے کے برابر ہے لیکن ان کی لابی اس قدر طاقتور ہے کہ وہ خوش اسلوبی سے اپنے مقصد کا پرچار کر رہے ہیں ۔سیکولرزم نے انگریز قوم کو بھی گروہوں میں باانٹ دیا جو پروٹسٹنٹ اور کیتھولک کی شکل میں سامنے آئے۔

کچھ فرنگیوں  نے اس کے حق میں جبکہ متعدد نے حریف کا کردار ادا کیا تخریب کاری کرنا اور انسانی دماغ کو سوچنے کی صلاحیت سے عاجز کرنا ہے ۔اسی تناظر میں امریکی مفکر "رابرٹ” سسیکولرزم کی عکاسی کرتے ہوئے سیکولرزم کو انسانیت کا مذہب قرار دیتا ہے یعنی انسان کو گم گشتہ کر کے ایک دائمی حقیقت سے رو گردانی کرواتا ہے۔فرنگی دانشور "اوک” کہتا ہے کہ سیکولرزم اس دنیا جبکہ مذہب دوسری دنیا کے لئے ہے ” پیٹر گلاسز” سیکولرزم کے منشور کو مذہب کا زوال کہتا ہے۔ اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے "رابرٹ بیلہ” اس طرح گویہ ہے کہ سیکولرزم ایک افسانہ ہے کینڈین ارباب دانش "ران گرے” سیکولرزم کو مذہب کے لئے خطرہ قرار دیتا ہے ۔ امریکی عدالت عظمی نے 1961 میں ایک فیصلہ میں سیکولرزم کو خدا کے وجود کا حریف قرار دیا ہے۔کیلی فورنیا یونیورسٹی کے پروفیسر "کرسچین سمتھ” اپنی کتاب (دی سیکولر ریوولوشن)میں اسے سازش کا عمل قرار دیتا ہے

 

یہ تو تھی گروؤں کی کہانی اب دیکھتےہیں چیلوں کے احوال۔

مشرف دور کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے آبی قلت کو دور کرنے کے لئے عوام الناس سے دعا اور نماز استسقا کی اپیل کی تو جواب میں ایک موصوف "ڈاکٹر پرویز ہودے "نے ڈیلی ڈان میں اپنے پھبتی اندازکو اختیار کرتے ہوئے کہا کہ نمازوں سے بارشیں نہیں ہوا کرتی بادل کا بننا تو قدرتی عمل ہے۔اس احمقانہ روش پر میرا سوال ہے کہ فطری قانون کس کی ایجاد ہے۔


اس رو با انحطاط معاشرےمیں ضرورت  اس امر کی ہے کہ اس موذی بیماری کی تابکاری شعاعوں سے کیسے نجات حاصل کی جائے۔اس خطرے کو ٹالنے کے لئے ہمارے جید قسم کے علما کو اس کا بیڑا اٹھانا ہوگا ۔ہمیں اپنے عقائد کو پختہ کرنا ہوگا، ہمیں ان کے اندر رہ کر انکی صفوں کو کمزور کرنا ہوگا۔مندرجہ بالا حوالاجات سے سیکولر طبقے کو کھلی چنوتی ہے کہ وہ سنبھل جائے نہیں تو منہ کی کھانی پڑے گی۔

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے