صفحہ اول / بنگلہ دیش / ​روہنگیا کیمپ میں کیا دیکھا ؟- (چوتھی اور آخری قسط)

​روہنگیا کیمپ میں کیا دیکھا ؟- (چوتھی اور آخری قسط)

کاکسز بازار کی میرین ڈرائیو کا سحر اپنی، ملحقہ آبادیوں کے دلفریب اور کتابی مناظر سے کوئی کافر بھی نہیں انکار نہیں کر سکتا مگر ہماری وین میں کوئی اس پر بات نہیں کر رہا تھا … جو فرسٹریش ہمارے مسلم دنیا کے حکمرانوں کے روئیے نے پیدا کی ہے اسکا ذکر ختم ہی نہیں ہوکے دے رہا تھا .. اور بار بار سامنے آنے والے پوسٹرز محترمہ وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کےذکر کے ساتھ ، خدمت اور انسانیت کا درس دینے والی عبارت کے ساتھ ہمارے ذہنوں کو ان مناظر کے لیے تیار کر رہا تھا –

ابھی ہم کیمپ بہت دور ہی تھے مگر آہستہ آہستہ اکا دکا ایسے منظر سامنے آنے لگے جس میں گروپس کی شکل میں خاندان کسی سواری کے یا مدد کے انتظار میں بیٹھے نظر انے لگے –
rohingya-myanmarاب ہم اس علاقے میں پہنچ گئے جہاں برمی مہاجرین کی بستیاں شروع ہو رہی تھیں- شروع میں ہی ترکی کے پرچم کے ساتھ انکی سرکاری این جی او کا خیمہ آفس نظر آیا ، پھر کچھ بنگلہ دیش کی حکومت اور حکمران جماعت کے خیمہ آفسز جس پر پوسٹروں اور بینروں کی بارش تھی … شروع کے علاقے میں چونکہ آنا جانا آسان ہوتا ہے اس لیے اکثریت وہیں کام کرتی ہے یا وہیں مدد بانٹ کے آجاتی ہے – دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ان ہی لوگوں نے یہ کام شروع کیا ہو اور کام اصل میں اسی علاقے سے شروع ہو کر اندر پھیلا ہو گا اور مزید پھیل رہا ہے –

ایک جگہ کیمپوں کے بیچ میں اچانک گاڑی رش میں پھنس گئی…مگر پھر لوگ وین سے اترنا شروع ہوئے تو میں گھبرا گیا کہ یار یہ لوگ کہیں دھکا نہ لگوائیں :

مگر پتہ چلا کہ اب چونکہ منزل قریب ہی ہے اس لیے اپنا اپنا سامان اٹھاؤ اور پیدل چل پڑو –

ایک سپاہی کی طرح کپتان کے حکم پر ہم لوگ لیفٹ رائیٹ لیفٹ کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگے، مگر کیمپ کی آبادی بھی ڈھاکہ کی آبادی سے کچھ ہی کم ہوگی ، تھوڑی دیر میں سب ادھر ادھر رش میں گم ہوگئے، میں نے ایک یو کے والے بھائی کی جیکٹ کو اپنی نگاہوں کے ریڈار میں رکھا اور انکا پیچھا کیا ، ڈر سے کہ کہیں گم ہو گیا تو کہاں اعلان کرواؤں گا … 

bangladeshسارے لوگ ایک کیمپ میں جمع ہوئے جہاں بانس اور پلاسٹک کی بنی ہوئی بہت بڑے ہال نما شیلٹر کے اندر لوگ اس طرح بانس سے بنی قطاروں کے اندر کھڑے اور بیٹھے تھے امداد کے انتظارمیں جیسے ہمارے ہاں ماضی میں سنیما کے ٹکٹ کے انتظار میں یا بنکوں کےباہر بلوں کی ادائیگی کے لیے کھڑے ہوتے تھے … پاکستان میں پبلک مقامات پر قطار بنانے کی کوئی اور مثال ہے ہی نہیں جو دی جائے … 

rohingya-1یہ کیمپ وہاں کے انتظامات کرنے والی فوجی کمپنی نے بنایا ہو گا اور وہی اسکے انتظامات بھی دیکھ رہی تھی اور نظم و ضبط بھی قائم کیے ہوئے تھی .. جس مقامی شراکت دار تنظیم کے ساتھ ہم لوگ وہاں کام کر رہے ہیں انکے لوگوں نے اپنے فوجی بھائیوں سے پوچھ لیا ہو گا کہ آج ہمارے پاساس طرح کے سامان کے ٹرک ہیں کونسے کیمپ پر تقسیم کرنا ٹھیک رہے گا ؟ اور انکی مشاورت سے ہی یہاں پہنچے ہونگے – فوج نے وہاں شاندار نظم و ضبط قائم کر رکھا ہے اور پوری کوشش کر رہی ہے کہ جو لوگ امداد لے کر پہنچیں انکی بھر پور مدد ہو تاکہ ضرورت مندوں تک کم سے کم وقت میں مدد پہنچ سکے –

ہمارے ساتھ پہنچنے والے ٹرکوں پر راشن کے تھیلے ، بچوں اور ماؤں کے لیے الگ پیکٹ اور کچھ دیگر سامان تھا .. ایک ٹرک پر ہماری ٹیم پکائے ہوئے چاول اورگوشت پلاسٹک کے ڈبوں میں بند کر کے لائی تھی جو پانی کی بوتل کے ساتھ چلتے پھرتے لوگوں میں تقسیم کیا جا رہا تھا ..

alkhidmatمیں باقاعدہ کسی این جی او کا” تسلیم شدہ” اور تمغہ یافتہ ورکر نہیں ہوں، بلکہ اپنی خواہش پر، خود بھاگ دوڑ کر کے اور خود رابطے کر کے یہاں تک پہنچا تھا ، لیکن آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ میں کن لوگوں کے ساتھ ہوں ، یہ ایک کھلی کتاب ہے  …. میرے میزبانوں کو بھی میرے بارے میں معلوم تھا اور انہوں نے مجھ سے پوچھا تھا کہ آپ اکنا ریلیف کینیڈا کا سامان تقسیم کرینگے یا پاکستان کی این جی او کا ؟ چونکہ میں پاکستانی ہوں اور پاکستان میں رہتا ہوں اور ایک مقصد کے تحت آیا تھا کہ یہاں سے واپس جا کر انکو سوشل میڈیا پر کور کرونگا تاکہ وہاں انکے لیے خوب فنڈز اکھٹے ہوں- اس لیے ضروری تھا کہ میں پاکستانی این جی او ہی کی نمائندگی کروں تاکہ انکے عطیات جمع کرنے کے کام میں تیزی ہو جو بالاخر ہمارے روہنگیا بھائیوں کو پہنچے گی – میں نے پاکستان فون کر کے پاکستان کی این جی او سے پہلے اجازت حاصل کی اور پھر رات کو انے سے قبل انکا بینر تیّار کروایا اور کیمپ میں کھل کر اور ڈٹ کر انکا والنٹیر بن گیا 🙂

کیمپ میں جو لوگ ادھر ادھر مارے مارے پھر رہے تھے انکی عکاسی لفظوں میں ممکن نہیں جب الجزیرہ کے رپورٹر نے یہ لکھا دیا کہ کوئی جملہ ، کوئی لفظ اسکو بیان ہی نہیں کر سکتا تو آپ سمجھ لیں کیا صورتحال ہو گی …

اس طرح کے کسی کچے علاقے میں جہاں بارش کے بعد چکنی مٹی نے ہر طرف کیچڑ ہی کیچڑپھیلا رکھا تھا پیدل کیسے چلا جا سکتا ہے یہ بھی لفظوں میں نہیں لکھا جا سکتا – اپنا سامان تو بانٹا ہی مگر جہاں جہاں کسی دیگر تنظیموں کے بھائیوں کو تھکا ہوا اور کہیں اورمصروف دیکھا تو انکے سامان پر بھی قبضہ کر کے اپنی پاکستانی این جی او کے بینر کے ساتھ تقسیم کیا اور اسکی بھی تصاویر بنوائیں .. ان کاموں میں تو ہم لوگ بہت ماہر ہیں ، اس میں ہم پاکستانیوں کا کوئی کیا مقابلہ کر سکتا ہے؟ 

campخوب شوق سے ، اچھل کود کر کے راشن تو تقسیم ہوا اور میں پسینے میں نہانے کے بعد سامان ختم دیکھ کر تھوڑا خوش ہوا کہ اب واپسی ہو گی اور ایئر کنڈیشنڈ وین میں کچھ راحت اٹھاؤں گا – اپنی ٹیم کے ساتھ واپسی کی طرف پیدل چلنا شروع ہی کیا تھا کہ لگا کہ یہ لوگ غلط سمت میں جا رہے ہیں، انکو توجہ دلائی کی ہماری وین تو وہاں کھڑی ہے تو بولے کہ ہاں معلوم ہے مگر ہم لوگ تو اپنے دیگر رہائشی کیمپوں میں جائیں گے ابھی اور اسکے بعد ایک دو زیر تعمیر مساجد دیکھیں گے اور کچھ لوگوں سے ملنا بھی ہے – میں بھی خوشی خوشی انکے ساتھ ہو لیا .. اب معاملہ یہ تھا کہ ننگے پاؤں چلنا ہی ممکن تھا سو ایسا ہی کیا اور جوگرز ہاتھوں میں اٹھا لیے ….

راستے میں کیچڑ ختم ہونے کے بعد چھوٹے چھوٹے تالاب نما بارش کے پانی کے جوہڑسے گذر کر جانا تھا – اوپر سے گذرنے کے لیے لوگوں نے بانس جوڑ کر کچھ پل نما راستے بنا رکھے تھے -ان پر دبلے پتلے لوگ تو آرام سے گذر رہے تھے مگر زیادہ وزن والوں کو ان نازک بانسوں پر بھروسہ نہیں تھا اس لیے وہ رک رک کر بھر پور احتیاط سے چل رہے تھے –

rohingyaپل کےپار پہنچ کر گرمی اور پیاس کی شدت سے سے سب لوگ بے چینی محسوس کر رہے تھے – سب سے زیادہ آسانی سے ڈاکٹر شاہد منصور پیدل چل رہے تھے کیونکہ وہ تو روز سولہ ہزار اسٹیپ کے فرمولے پر عمل کرتے ہیں – میرے جیسے آرام طلب اور کاہل لوگوں کو آج بھر پور سزا ملنی تھی سو ملی –

مسجد اور جھگیاں مٹی کی پہاڑیوں پر بنائی گئی ہیں، مقامی لوگوں کو پریکٹس ہے گیلی چکنی مٹی پر اوپر چڑھنے کی مگر مجھے وقت زیادہ لگ رہا تھا تو میں نے اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا کہ آپ لوگ چلتے رہیں میں اوپر چڑھ کر ڈھونڈ نکالوں گا آپ لوگوں کو اور وہ چلدئیے –

جھگیوں کے اس پاس ہینڈز پمپ اور واشروم بنے تھے، ایک واشروم دس ہزار ٹکہ میں بن جاتا ہے اور ہینڈز پمپ پندرہ ہزار ٹکہ میں – اگر آپ لوگ اسپانسر کرنا چاہیں تو میں کسی سے رابطہ کرا سکتا ہوں –

refugeeبھائیوں ان جھگیوں میں رہنے والوں کی زندگی اب ہم جیسے لوگوں کی مدد پر گذ ر رہی ہے .. یہ لوگ روز اپنے ملحقہ امدادی کیمپ پر جمع ہوتے ہیں جہاں دنیا بھر کی تنظیمیں ایمرجنسی امداد بھیجتی ہیں اور یہ کیمپ کا رجسٹریشن کارڈ لیکر وہاں آرمی کے ٹیبل پر دیکھا کر کوپن حاصل کرتے ہیں وہی کوپن دیکر امدادی پیکج انکو دیئے جاتے ہیں – کہیں کہیں میڈیکل کیمپ بھی نظر اتے ہیں – ہر کیمپ کے مختلف بلاکس ہیں اور درمیان میں ایک چھوٹا سا بازار ، جو مہاجر کچھ بیچنا خریدنا چاہیں تو وہاں یہ سکتا ہے-

کیمپ اتنا پھیلا ہوا تھا کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا تھا ، ہم بہت تھکے ہوئے تھے مگر انسانی ہمدردی اور مدد کے جذبے نے ہم سب کے اندر ایک توانائی پیدا کردی – میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں ایک ایسی جگہ پر پانی اور کیچڑ اور پہاڑیوں پر گھنٹوں میلوں چل سکتا ہوں مگر خدا چاہے تو کسی کے اندر بھی ایسی توانائی بھر دیتا ہے کہ اسکے بعد ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے –

میں بار بار اپنے قافلے سے پیچھے رہ جات تھا ا مگر جھگیوں کے دروازوں پر کھڑی خواتین اور انکے بچے اشارے سے بغیر پوچھے گائیڈ کرتے رہے کہ ” اس طرف گئے ہیں وہ لوگ ” …

ایک وقت آیا کہ ہماری آدھی ٹیم نے فیصلہ کیا کہ وہ مزید اوپر جائیں گے جہاں انکی کچھ ملاقاتیں ہیں لوگوں سے ، کچھ تعمیرات ہو رہی ہیں اسکا لین دین اور معاملات ہیں مگر سب کو جانے کو ضرروت نہیں باقی لوگ نیچے چلے جائیں اور انتظار کریں –

bangladesh-alkhidmatکیمپ میں ایک برمی بچہ قرانی تلاوت سنا کر ہماری پذیرای پر خوش تھا اور ہم لوگوں کے ساتھ ساتھ گھوم رہا تھا .. میں نے سوچا کہ اسکو کچھ کیش انعام میں دوں ، ابھی بٹوہ ہی کھولا تھا کہ رش لگ گیا .. میں بچنے کو وین کے اندر جا کر بیٹھ گیا ، تب بھی ہجوم وین کے باہر ہی جمع رہا اور آرمی کے کچھ جوانوں نے قریب آکر سب کو بھگایا – ہمارے بنگلہ دیشی ساتھیوں کو فوجی نے کچھ تنبیہ کی .. بتایا گیا کہ اس طرح کیش بانٹنا منع ہے –

شام کا سورج غروب ہونے سے پہلے ہی ہماری وین کاکسز بازار کی طرف جا رہی تھی – مزید کیمپوں میں دوسرے دن جانے کا پروگرام تھا

ہوٹل پہنچ کر دیکھا کہ دیگر تنظیموں کے لوگ اپنے اپنے ملکوں میں اپنی تنظیموں کے زمہ داران سے گفتگو کر رہے تھے ، انہیں رپورٹس دے رہے تھے ، ان سے معلوم کر رہے تھے کہ اب آگے اور کیا کرنا ہے –

میں مسلسل کیمپ ہی سے سوشل میڈیا پر سرگرمیوں کو کور کر رہا تھا، کافی لوگوں کو پتہ چل چکا تھا کہ میں یہاں اس وقت واحد پاکستانی کے طور پرموجود ہوں اور خوشی سے کوئی بھی خدمت انجام دینے کو تیار ہوں .. ہمارے "تحریکی ” اخبار اور سوشل میڈیا اور ویب ٹی وی سب جان چکے تھے کہ میں ایک اینٹری لیول لکھاری بھی ہوں اور اگر وہ کچھ جاننا چاہیں گے تو میں آڈیو یا ویڈیو میں انکو کچھ میٹریل بھیج سکتا ہوں …مگر …………….. کسی بھی طرف سے نہ کوئی خواہش نہ کوئی اپنائیت ..نہ کوئی جذبہ .. سخت سرد مہری کا مظاھرہ دیکھا – جب آگے بڑھکر ایک تجربہ کار تحریکی ترجمان سے رابطہ کیا کہ آپ کو کچھ وائیس ریکارڈ کر کے بھیج رہا ہوں اسکو نیوز ایٹم بنا کر میڈیا میں لگوانے کی کوشش کریں تو انہوں نے پہلے تو منع کیا جیسے میں روہنگیا میں نہیں شام میں کسی فوجی سرگرمی میں مصروف ہوں  بہت اصرار پر کہا کہ تم خود ہی اردو میں نیوز بنا کر بھیجو، مجھے اردو ٹائپ کرنے میں پروبلم ہوتی ہے ، میں وہاٹس ایپ پر آگے فارورڈ کر دوں گا … 

وہ بھی بھیجنے کے بعد صرف وہاٹس ایپ تک ہی محدود رہا …. میں نے چار سو تصاویر اور پچاس کے قریب کلپس بنائیں کہ میرا تعلق جن لوگوں سے ہے انکے پیچھے تو پوری ایک فوج ہے جگہ جگہ ہر چینل اور ہر اخبار میں روہنگیا کے اعداد و شمار ، کیمپوں کی حالت، برما حکومت کا ظلم اور امداد کی اپیلیں ہی چلیں گی مگر افسوس کہ کسی نے پوچھا بھی نہیں کہ ہمیں کچھ بھیجیں .. کسی نے نہیں کہا ایسے نہیں ایسے کور کریں، یہ لکھیں ، یہ بتائیں ، ایسے بولیں ، ایسے انٹرویوز لیں لوگوں کے .. ایک دو جگہ میری پوسٹ "شئیر ” کر کے احسان عظیم کیا گیا ہے

– دوسری طرف پاکستان کی ” بڑی ” این جی او کے "بڑوں ” نے روہنگیا کیمپ میں ایک عام آدمی کے اچھل کود کا کوئی نوٹس نہیں لیا – صاف پیغام دیدیا کہ ” یہ بچہ ہمارا نہیں ہے ، جن کا ہے وہ آکر لے جائیں ” 🙂 …. جب بادشاہ اور وزرا اس طرح کے پیغام دیتے ہیں تو یہی ادارہ کی پالیسی بن جاتی ہے اور پالسی کے طور پر سب سے بڑی این جی کے سوشل میڈیا یا تحریک کے سوشل میڈیا پر بھی مکمل بائیکاٹ کیا گیا …. چونکہ میں ان لوگوں پر انحصار ہی نہیں کرتا اور میرے اپنے اتنے دوست احباب ہیں سوشل میڈیا پر کہ ہم جس چیز کو چاہیں اپنے ساتھیوں کی مدد سے اسکو پروموٹ کریں تو یہ معاملہ میرے لیے کوئی پریشانی کی بات نہیں – ہم تو کام ہی ڈیجیٹل پروموش کا کرتے ہیں – ہمارا بزنس ہی ڈیجیٹل مارکیٹنگ ہے تو انکی کہیں ضرروت ہی محسوس نہیں ہوئی … مگر جو DUE RESPECT ہے وہ دفن ہوتا نہیں دیکھ سکتے کہ یہی رویہ آگے دوسروں کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے –

آج جب دوستوں نے انکے پیجزکھول کر دیکھائے کہ تم جن کے دیوانے ہو وہ تو تمہیں اون ہی نہیں کرتے، یہ دیکھو ، کوئی ایک پوسٹر ، کوئی ایک مضمون، کوئی ایک وڈیو پروڈکشن ہو تو دیکھا دو .. تمہاری چند پوسٹ” شئیر” کر کے کیا احسان کیا انہوں نے ؟ یہ دیکھ کر مجھے لگا کہ اس کا ذکر کرنا ضروری ہے ..

روہنگیا کا مسلہ ابھی ختم نہیں ہو رہا .. یہ مہینوں کا نہیں سالوں کا معاملہ ہے .. ایک وزٹ اور ایک کوریج ایک آغاز ہے – میری یہ دورہ اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے کہ میرے بعد ہر کچھ عرصے کے بعد کچھ لوگ وہاں جائیں اور جب وہ جائیں تو سب لوگ تحریکی اور غیر تحریکی ملکر اسے سپورٹ کریں، اس بچے کو اپنا ہی بچہ سمجھیں … بادشاہ اور وزیر ایسے مواقع پر جب عام آدمی کا بچہ محاذ پر جائے تو سب کچھ بھول کراسکو اپنا ہی بچہ سمجھیں – اسکی واپسی پرکسی اینٹری لیول اسٹاف سے کہیں کہ اسکے ساتھ بیٹھ کر نوٹس لے لو کہ بعد میں دوسروں کے کام آئے ..

یہ کہتے ہیں کہ ھم ISO 9001 اور ٢ اور ٣ کی سرٹیفکشن رکھتے ہیں .. مگر سلام دعا اور سفر کا حال احوال لینا تو ایک بنیادی بات ہے –

بنگلہ دیش کی ریلیف آرگنائزیشن کے چیف ایکزیکٹو ہمارے ساتھ سفر میں بھی رہے اور عام آدمی بنکر دوستی بھی کی اور اب بھی پانچ منٹ کے اندر اندر ہر پیغام کا جواب دیتے ہیں … انہوں نے ابھی کوئی سرٹیفکشن نہیں لی اور انکے آفس میں ابھی ایئر کنڈیشنڈ بھی نہیں لگا .. عام آدمی بن کر رہنے اور عام آدمیوں کے ساتھ نیچے بیٹھ کر ہاتھ سے کھانا کھانے والوں کے پاس حسینہ واجد کی بد ترین مخالفت اور پارٹی پر پابندی کے باوجود پورے ملک کی بلدیہ میں بائیس سو کونسلرز اور دو سو چیرمین ہیں ….

سراج الحق صاحب سے جب ملاقات کروں گا اگلے ہفتے تو یہی درخواست کرونگا کہ آپ ترکی اور مصر اور سوڈان سے نہیں بنگلہ دیشی بھائیوں سے سیکھیے کہ وہی آپکے قریب تین کی قوم ہے اور بہت زیادہ سوچ بچار اور پلاننگ کی ضرورت نہیں بس بنیادی باتوں کو اپنانے کو کوشش کریں – SBASIC ہی سب کچھ ہے ، جب سرفراز بھارت سے ہاراتھا تو اس نے کہا کہ اس ہار کے بعد ہم نے ساری دانشوری اور اعلی ٹیکنالوجی کو لات مار دیا اور BASICS کو اپنا لیا …

میرا روہنگیا کا یہ سفر نامہ ختم ، اب میں چاہتا ہوں کہ بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی کس حال میں ہے ؟ کیسے کام کرتی ہے اور ہم ان سے کیا کچھ سیکھ سکتے ہیں اس پر کچھ لکھوں .. اپکا کیا مشورہ ہے ؟​

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے