صفحہ اول / بنگلہ دیش / الخدمت کے تحت بنگلہ دیش میں روہنگیا مسلمانوں کے کیمپوں میں امدادی سامان تقسیم کیا گیا

الخدمت کے تحت بنگلہ دیش میں روہنگیا مسلمانوں کے کیمپوں میں امدادی سامان تقسیم کیا گیا

Sohail Balkhiمظالم اور نقل مکانی جاری ہے ٗ عالم اسلام مسئلہ کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے

سہیل بلخی کی کیمپوں کے دورے سے واپسی پر گفتگو

آئی سی برما میں روہنگیا مسلمانوں کے لیے سیکورٹی زون بنانے ، شہریت دینے ،نسل کشی روکنے اور مہاجرین کی واپسی کا مطالبہ کرے

sohail balkhiکراچی 17اکتوبر-الخدمت کراچی کی جانب سے بنگلہ دیش میں روہنگیا مسلمانوں کے کیمپوں میں امدادی اشیاء اور غذائی اجناس تقسیم کی گئیں ، برما کے اندر اور کیمپوں میں مسلمانوں کی حالت زار انتہائی تکلیف دہ ہے ، انسانیت سوز مظالم اور مسلمانوں کی نقل مکانی کا سلسلہ ختم ہوا ہے اور نہ فی الحال ختم ہونے کی کوئی امید ہے ، بنگلہ دیش میں روہنگیا مسلمانوں کے لیے ہمدردی پائی جاتی ہے مگر تمام اسلامی ممالک کو مسئلے کے حل اور مسلمانوں کی آباد کاری اور بحالی کے لیے کوشش کرنے کی ضرورت ہے ، میڈیا بھی اس مسئلے کو اجاگر کرتارہے ۔

ان خیالات کا اظہار الخدمت کے نمائندے فعال اور متحرک سوشل میڈیا ورکر سہیل بلخی نے بنگلہ دیش میں روہنگیا مسلمانوں کے کیمپوں کے دورے سے واپسی پر ادارہ نورحق میں ایک تاثراتی نشست میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سہیل بلخی نے جماعت اسلامی بنگلہ دیش کو درپیش تازہ ترین صورتحال ، گرفتاریوں و پابندیوں ، سرگرمیوں بالخصوص ریلیف ورک کے حوالے سے بھی اپنے تاثرات اور وہاں کے حالات بیان کیے ۔

rohingyaنشست میں امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے بھی شرکت کی اور سہیل بلخی کے دورے ، الخدمت کے ریلیف ورک اور تاثراتی و مطالعاتی نشست کو حوصلہ افزاء قراردیا ۔ نشست سے قیصر جمیل ایڈوکیٹ نے سقوط ڈھاکا کے حوالے سے اپنے تاثرات اور شکیل خان نے برما میں روہنگیا اور اراکان کی تاریخ بیان کی ۔ سہیل بلخی نے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ کیمپوں میں غربت اور افلاس انتہائی نچلے درجے تک پہنچ گئی ہے اور مظلوموں کی داستان الم جگہ جگہ بکھری ہوئی ہیں جن کو بیا ن کرنے کے لیے بہت طویل وقت درکار ہے ۔ تمام اسلامی ممالک پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کریں ۔ سب مل کر اور او آئی سی کے پلیٹ فارم پر مطالبہ کریں کہ برما کے اندر روہنگیا مسلمانوں کے لیے سیکورٹی زون بنایا جائے ، ان کو شہریت دی جائے ۔ مہاجرین کو واپس لیا جائے اور برما کے اندر مسلمانوں کی نسل کشی بند کی جائے ۔

جب مشرقی تیمور بن سکتا ہے اور سوڈان کے اندر عیسائیو ں کے لیے ایک حصہ قائم ہوسکتا ہے تو برما کے اندر مظلوم اور نہتے مسلمانوں کا مسئلہ کیوں حل نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ اس علاقے میں چین اور بھارت کے اپنے اپنے مفادات ہیں ۔ بھارت کو بھی ڈیپ سٹی پورٹ چاہیئے ہے بنگلہ دیش کی حکومت بھارت کی آلہ کار بنی ہوئی ہے عوامی دباؤ اور انتخاب قریب آنے کی وجہ سے شیخ حسینہ واجد نے یوٹرن لیا ہے لیکن ابھی بہت کچھ کرنا ضروری ہے اورپاکستان سمیت پورے عالم اسلام کو اپنا فرض سمجھتے ہوئے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینا ہوگا اور عالمی سطح پر آواز اٹھانی ہوگی ۔

سہیل بلخی نے کیمپوں میں الخدمت کی طرف سے امدادی سرگرمیوں کے بارے میں بتایا کہ ہم نے سامان اورغذائی اجناس تقسیم کیں اور مختلف ذرائع اور چینل استعمال کرتے ہوئے امدادی سامان کیمپوں میں پہنچایا اور نقد رقومات بھی فراہم کیں ۔ اس سلسلے کو آئندہ بھی جاری رکھنے کی ضرورت ہے اور الخدمت ان شاء اللہ برما کے روہنگیا کے مسلمانوں کے لیے امدادی مہم جاری رکھے گی ۔نشست میں جماعت اسلامی ضلع شرقی کے امیر یونس بارائی ، ڈپٹی سکریٹری کراچی و پبلک ایڈ کمیٹی کے صدر سیف الدین ایڈوکیٹ ،ڈپٹی سکریٹری کراچی راشد قریشی ، جنرل سکریٹری پبلک ایڈ کمیٹی نجیب ایوبی ، سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری اور پبلک ایڈ کمیٹی کے ذمہ داران ، سوشل میڈیا ورکرز اور دیگر نے شرکت کی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے