صفحہ اول / بنگلہ دیش / روہنگیا کیمپ میں کیا دیکھا؟

روہنگیا کیمپ میں کیا دیکھا؟

کاکس بازار ایئرپورٹ

سہیل بلخی

(دوسری قسط)

 

ایک گھنٹے سے کم وقت میں ہمارا چھوٹا جہاز کاکس بازار کے چھوٹے سے ایئرپورٹ پر لینڈ کر چکا تھا- راستے میں شاہد منصور بھائی نے بتایا کہ وہ واپسی پر سید پور بھی جائیں گے جہاں بہاری بڑی تعداد میں رہتے ہیں اور یہ اپنے عزیزوں کے ساتھ ملکر کچھ اسکولوں کی مالی مدد کرتے ہیں… انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ مرتبہ بھی جب وہ سید پور آئے تھے تو انکے ایک عزیز نے انہیں خاص تاکید کی تھی کہ سید پور کاائیرپورٹ ضرور دیکھنا اور مجھ سے تصور شئیر کرنا کیونکہ میں نے اس ایئر پورٹ کی تعمیر میں پاکستان کی فوج کے ساتھ بطور جبری مزدور کے کام بھی کیا ہے … اس جنگی حالات میں پاکستانی فوج نے وہاں کے مقامی لوگوں کو دفاتر اور کالجوں سے جمع کر کے کام لیا اور ہنگامی بنیادوں پر ایئر پورٹ کی تعمیر کی – افسوس کی جنہوں نے ساتھ دیا وہ کہیں سید پور میں غربت کی زندگی گذار رہے ہیں، کہیں محمد پور کے کیمپ میں اور جو پاکستان آگئے انکی آئے دن نادرا خوب .عزت افزائی کرتا ہے – انکی اولاد تک سے پاکستانی ہونے کے ایسے ایسے ثبوت مانگے جاتے ہیں جو میہا نہیں کیے جا سکتے

کاکس بازار ایئر پورٹ پر میں تو بیگ پیک کے ساتھ ایک کھلنڈرے لڑکے کے طور اترا مگر ہمارے دوست کا لگیج سائز میں بڑا ہونے کی وجہ سے انکے ہاتھوں میں نہیں دیا گیا اور الگ سے لینا تھا… مگر کوئی بیلٹ یا الگ جگہ جانے کی ضرورت نہیں تھی، بس وہیں جہاز کے نیچے کھڑے کھڑے پکڑ لیا
ائیرپورٹ کے باہر کچھ فوجی کھڑے تھے مگر انکی ضرورت نہیں محسوس ہوتی کہیں بھی، یہ بہت پرامن ملک ہے اور گن کنٹرولڈ ہے، یہاں درہ نہیں، یہاں اسلحہ نہیں بنتا اور یہاں برابر میں افغانستان نہیں ہے –

میں نے بہت سے لوگوں سے پوچھا کہ یار کبھی کوئی فائر کی آواز سنی ؟
"مووی میں سنی ہے ”  …. کبھی کوئی ” سامان ” دیکھا ؟ نہیں لائیو تو بس فوجیوں کے ہاتھوں میں دیکھا …. دوسرے لفظوں میں یہاں پرائیویٹ سیکورٹی کمپنی کا دھندہ بلکل نہیں چلتا …. ائیرپورٹ پر سیکورٹی رکھنا بین الاقوامی قوانین اور سکیورٹی کے لحاظ سے ہوگا ..کاکس بازار غیر ملکی این جی او ورکرز اور ٹورسٹ بہت اتے ہیں …. ہمارے میزبان موجود تھے اور میں سلام دعا کر کے وین کی طرف بڑھا تو کچھ پولس والوں نے ادب سے سلام کیا، میں نے جواب دیا ، پھر مزید سپاہی بھی قریب آئے اور انہوں نے بھی اسی جذبے سے سلام کیا .. میں سمجھا کہ شائد ہمارے پروٹوکول میں آئے ہیں ..مگر وہ تو میزبان کو بھی اسی عقیدت سے سلام کر رہے تھے …کہ شائد کچھ سلامی مل جائے

میں نے ونڈو سیٹ سنبھالتے ہی موبائل سے ویڈیوبنانی شروع کر دی اور سب کو پیغام مل گیا کہ میں اسی لیے آیا ہوں ..  میں نے انہیں ڈھاکہ ہی میں بتا دیا تھا کہ میں کسی مشن پر نہیں بھیجا گیا، بلکہ آزادانہ حیثیت میں روہنگیا کیمپ اور مہاجرین کے حالات دیکھنے آیا ہوں اور اپنے ہم وطنوں سے شئیر کرنا چاہتا ہوں تاکہ ان تک صحیح صورتحال پہنچے، انکے دلوں میں روہنگیا کے لوگوں سے ہمدردی بڑھے اور وہ لوگ اپنا رول ادا کر سکیں، میری خواہش بس یہی ہے کہ میں روہنگیا کے بھائیوں کے لیے عطیات بڑھانے والے کام کروں –

کاکس بازار کے لوگوں اور روہنگیا کی زبان ایک جیسی ہے – اراکان (موجودہ راکھائین اسٹیٹ) اور کاکس بازار کے لوگوں کی اپس میں رشتہ داریاں ہیں- آنا جانا رہا ہے اور میں نے یہاں تک سنا ہے کہ کاکس بازار کا ایک مشھور عوامی لیگ کا لیڈر بھی روہنگیا ہے اسکے نانا وہاں سے آکر آباد ہوئے تھے –
یہی وجہ ہے مقامی آبادی میں انکے لیے شدید ہمدردی کے جذبات پائے جاتے ہیں – ویسے تو ڈھاکہ تک میں ہم نے انکے لیے چندہ جمع ہوتے دیکھا اور گلی محلوں میں سنا کہ تمام مسجد میں اور مارکیٹوں میں فنڈز جمع بھی ہوئے اور لوگوں کی ٹیموں نے کاکس بازار میں جا جا کر امدادی کاموں میں حصہ بھی لیا مگر چٹاگام ڈویزن میں لوگ بھی زیادہ مذہبی ہیں اور انہوں نے خود براہ راست ان مہاجرین کا مشاہدہ کیا ہے اس لیے انکے جذبات عروج پر ہیں ….
ایک رکشے والے نے بتایا کہ ہم لوگ خود انکی زبوں حالی اور ان پر ڈھائے جانے والے مظالم دیکھتے اور سنتے ہیں تو ہم غریب رکشے والوں نے بھی آپس میں چندہ جمع کیا اور دس لاکھ ٹکہ بہت آسانی سے جمع ہو گئے …


کل بھی کراچی میں راہ ٹی وی والے بھائی انٹرویو میں پوچھ رہے تھے کہ شروع میں حسینہ واجد نے روہنگیا مہاجرین کے بارے میں سخت رویہ اپنایا مگر بعد میں یو ٹرن لیا اسکی کیا وجہ ہو سکتی ہے ؟
وجہ تو انہیں معلوم ہو گی ہم تو اندازہ ہی کر سکتے ہیں، ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ملک چلانے والے کبھی رائے عامہ کے خلاف نہیں جاتے .. ہر جگہ کے حکمران اتنے "شریف” نہیں ہوتے کہ فکر ہی نہ کریں کہ خلق خدا کیا سوچ رہی ہے – جس حکومت کو یہ پتہ چل جائے کہ پورے ملک میں روہنگیا کے لوگوں سے شدید ہمدردی ہے تو وہ انکے خلاف کیسے اور کیوں جائے گی ؟

دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ہماری ٹیم میں شامل ایک بنگالی نژاد اوسٹریلوی نوجوان نے بتایا کہ وہاں کے چینل 4 پر کسی پروگرام میں ڈاکومنٹری دکھاتے وقت یہ بات بھی کہی گئی تھی کہ حسینہ واجد کو روہنگیا مہاجرین کی اتنی مدد کرنے پر امن کا نوبل پرائز ملنا چاہیئے .. ممکن ہے دیگر ممالک میں بھی بنگلہ دیشی لابی نے یہ بات شروع کی ہو … حسینہ واجد نے اقوام متحدہ میں دنیا بھر کے رہنماؤں سے ملاقات بھی کی ہو گی اور کچھ لوگوں نے انہیں کچھ اچھے مشورے بھی دئیے ہونگے ..جبھی تو واپسی پر انہوں نے ایک تاریخی بیان دیا تھا کہ ہم اگر سولہ کروڑ کو کھلا سکتے ہیں تو چھ لاکھ روہنگیا کو بھی کھلائیں گے – بلکہ یہاں تک کہا کہ ” اگر ضرورت پڑی تو ہر بنگلہ دیش دن میں ایک وقت کھانا کھائے گا اور باقی کھانا روہنگیا مہاجرین کو کھلائیں گے –
عوامی لیگ اس یو ٹرن کےبعد اگلے سال ہونے والے الیکشن میں بھی اس مہم کو استعمال کرنا چاہتی ہے – کاکس بازار سے کیمپ جاتے وقت اور ڈھاکہ کی سڑکوں پر ہم نے بے شمار قد آدم بینرز دیکھے جس میں حسینہ واجد صاحبہ کہیں کبوتر اڑا رہی ہیں اور کہیں روہنگیا کے بچوں کو پیار کر رہی ہیں – کہیں "مدر آف ہیومنٹی ” لکھا ہے اور کہیں ” چیمپین آف پیس ” ——– سیاست اسی کا نام ہے کہ ہر وہ چیز جس کو خلق خدا اہمیت دے رہی ہے اور ہمدردی رکھتی ہے آپ بھی بطور سیاسی رہنما اس کو اچک لیں….

ہمارے میزبانوں کی ٹیم بھی ڈھاکہ سے آئ تھی، انہوں نے خود اپنے لیے ہزار ٹکہ والے ہوٹل میں کمرے لیے اور ایک ایک کمرے میں تین تین افراد تھے جبکہ ہمارے لئیے دو ہزار ٹکہ والے ہوٹل میں انتظام کیا – ہم لوگ لنچ پر جمع ہوئے جہاں میزبانوں نے تفصیل سے روہنگیا کا مسلہ کیا ہے ؟ اس وقت کیا صورتحال ہے ؟ وہ کیا کر رہے ہیں اور دنیا سے انکی کیا توقعات ہیں بہت اچھے انداز میں پیش کیا – بتایا گیا کہ کل صبح سویرے ہم لوگ کیمپ میں جائیں گے ، آج رات ہم کچھ تازہ کھانوں کے ڈبے، پانی، اور راشن کے پیکجز تیار کر رہے ہیں جو دوسری ٹیم علی الصبح کچھ ٹرکوں پر لے کر روانہ ہو جائے گی اور جب تک آف لوڈ ہو گا ہم پہنچ چکے ہونگے …

یہ بھی بتایا گیا سارا کام فوج کی نگرانی میں شفاف اور منظم طریقے سے ہوتا ہے اور ہم انکی ہدایات کو فالو کرتے ہیں – انکے اچھے کاموں کے سبھی متعرف ہیں اور کل آپ لوگ خود دیکھ لیں گے کہ کیمپ میں کیا کچھ ہوتا ہے…


میں ساری رات اٹھ کر گھڑی دیکھتا رہا کہ کہیں سوتا نہ رہ جاؤں ….صبح پانچ بجے میں نے وہاٹس ایپ پر اپنی ٹیم کو بتا دیا کہ میں تیار ہوں اور آپکے حکم کا منتظر ہوں – کچھ دیر بعد ہم برطانیہ سے آئے ہوئے کچھ دوستوں کے ساتھ انکے ہوٹل میں ناشتہ کر رہے تھے – بہت پر عزم، جوان اور امت کا درد رکھنے والے لڑکے جو یو کے میں ہی پلے بڑھے ہیں.. ناشتے میں وہ یہی کہتے رہے کہ ہماری مسلم دنیا کے حکمران کیسے ہیں قطر والے اور کویت والے امریکہ میں طوفان آئے تو فوری لاکھوں ڈالرز بھیجتے ہیں اور روہنگیا کی بات ہو تو انہیں سانپ سونگھ گیا ؟ (جاری ہے )

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے