صفحہ اول / بنگلہ دیش / روہنگیا کیمپ میں کیا دیکھا؟

روہنگیا کیمپ میں کیا دیکھا؟

کاکس بازار ایرپپورٹ

سہیل بلخی

(پہلی قسط)

میں وہاں اس لیئے جانا چاہتا تھا کہ میرے دوستوں کو ویزا نہیں مل رہا تھا..میں اس سر زمین سے، زبان سے اور وہاں کی زندگی سے واقفیت رکھتا ہوں…مگر میرا سوشل ورک اور ریلیف کا نہ تجربہ تھا نہ ڈگری اس لیئے پاکستان کسی این جی او کے لیئے فٹ نہیں تھا….میں خالی ہاتھ نہ جاوں اس خیال سے کچھ دوستوں نے کچھ تعاون کیا… کچھ نے وہاں کی مشکلات بتا کر ڈرایا کہ میں باز رہوں …  مگر کوئ بہاری اگر کچھ ٹھان لے تو اسے روکنا اتنا آسان نہیں….اس خیال سے گیا تھا کہ الیکٹرونک میڈیا حق نہیں ادا کر رہا اور میرے سوشل میڈیا پر بہت سارے دوست ہیں جن کے ساتھ ملکر میں سوشل میڈیا پر کیمپوں کی صورتحال سامنے لاوں گا تاکہ این جی اوز کے لیئے فنڈ جمع کرنا آسان ہو… پاکستانی قوم کی آنکھیں اور انکے کان بنکر وہاں پہنچا….

 

ڈھاکہ ائیر پورٹ پر ویزا لیتے ہوئے امیگریشن آفیسر نے جو مجھ سے عمر میں بہت چھوٹا تھا اسکے پوچھنے پر کہ کیوں آئے اور کہاں جا رہے ہو کہا کہ میں آپکی طرح بنگلہ بندھو ہوں ,یہاں پیدا ہوا ڈھاکہ میں جب ملک الگ ہوا تو وہاں چلے گئے والدین اور اب یہاں لوگوں سے ملنے آیا ہوں… ایسا جواب اسکو شائد کسی اور نے کم ہی دیا ہوگا ..اس نے بدلے میں گرمجوشی دیکھائ اور خوب تعاون کر کے جلدی فارغ کیا …ڈھاکہ میں دو روز گذار نے کے بعد لوکل سم خریدی پاسپورٹ دیکھا کر اور اکیلے گھومنے پھرنے سے اعتماد بڑھتا گیا جو بعد میں اوور بھی ہوگیا آخری دنوں میں اور تھوڑی سی پریشانی کا باعث بھی بنا ..

اکیلا آدمی اب کاکس بازار اکیلے کیا جاتا اس لیئے ہلپنگ ھینڈ کے ڈاکٹر شاہد منصور کا انتظار کرنا مناسب سمجھا جو کراچی سے آنے والے تھے.. یہ طے پایا کہ وہ جیسے ہی ڈھاکہ پہنچیں گے میں انھیں وصول کر کے ڈومیسٹک ٹرمینل سے دوسرے جہاز میں لیکر کاکس بازار پہنچوں گا…مقامی دوستوں سے رابطہ ہوچکا تھا اور انکے بھی کچھ لوگوں کو اسی دن اس فلائٹ سے کاکس بازار جانا تھا….

وہ وقت آیا جب میں سفری بیگ پیک کے ساتھ انکے اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ کاکس بازار کی طرف جہاز میں اڑ رہا تھا… اپنے سفر کی روداد بتاتے ہوئے ڈاکٹر شاہد منصور نے پی آئ اے کے عملے کا ذکر کیا جو بنگلہ دیشی مسافروں کے ساتھ اچھا رویہ اپنائے ہوئے نہیں نظر ایا…ہم ادھر ادھر کی باتیں کر رہے تھے کہ انہوں نے اچانک مجھے کہا کہ ذرا دیکھیں اس جہاز کی ائیر ہوسٹس کو , اسکی باڈی لینگویج دیکھیں…اور اسکا موازنہ اپنی فضائی میزبانوں سے کریں…..میں نے کہا کہ یہ پروفیشنل ہیں ,سیکھ کر جاب کر رہی ہیں ,وہاں جان پہچان سے جاب ملتی ہے, دونوں کا کیا مقابلہ .. (جاری ہے )

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے