صفحہ اول / بنگلہ دیش / ہم جنگلوں سے گذر کر اور فی کس 20 ھزار ٹکہ دیکر سرحد کے اس پار آسکے …پانچ لاکھ لوگوں کی واپسی کے کوئ آثار نظر نہیں آتے

ہم جنگلوں سے گذر کر اور فی کس 20 ھزار ٹکہ دیکر سرحد کے اس پار آسکے …پانچ لاکھ لوگوں کی واپسی کے کوئ آثار نظر نہیں آتے

کاکس بازار کے کیمپ سے سہیل بلخی کی رپورٹ
کاکسز بازار,بنگلہ دیش

یہاں پانچ لاکھ لوگ جن میں اکثریت خواتین,بچوں اور بوڑھوں کی ہے بہت مشکلات سے پہنچے ہیں..مجھے ایسے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ملی جن کے گھر میں شہادتیں ہوئ ہیں.- جنگلات سے گذر کر جان بچا کر سمندر کے قریب پہنچے اور فی کس بیس ھزار ٹکہ اور بعض اوقات اس سے بھئ زیادہ ادا کر کے کاکس بازار پہنچے…عجیب ماحول ہے جس میں لوگ ایک طرف سے دوسری طرف راشن.,پانی اور دیگر چیزوں کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے تھے.. ایک طرف پریشان حال لوگ اور دوسری طرف اس بات کی بھی خوشی ہے کہ دنیا کے کئ ممالک سے امت مسلمہ کے نوجوانان امداد لیکر پہنچے ہیں..مجھے برطانیہ,امریکہ,آسٹریلیا اور کینیڈا کے کیمپوں میں نظر آئے جو بڑی محنت اور جانفشانی سے کام کر رہے تھے…یہاں بارشیں بھی ہوتی ہیں مگر جب بارش نہ ہورہی ہو تو سخت حبس پیدا ہوجاتا ہے…

ہم نے الخدمت فاونڈیشن پاکستان کی طرف امدادی سامان تقسیم کیا جس میں ہمیں یہاں کی ریلیف آرگنائزیشن کی مدد حاصل تھی -میرے ساتھ امریکہ سے ہلپنگ ھینڈز کے ڈاکٹر شاہد منصور اور آسٹریلیا اور یو کے سے تعلق رکھنے والے کچھ اور لوگ بھی تھے -امدادی سامان کی تقسیم کے بعد ہم نے ان رضاکاروں کے ہمراہ مختلف بلاکس میں جاکر انتظامات کا مشاہدہ کیا ,ہر چیز ابھی اپنی ابتدائ شکل میں نظر آئ اور صورتحال اچھی نہیں نظر آئ مگر مقامی رضاکاروں کا کہنا ہے کہ حالات پہلے سے بہتر ہیں.. کیمپ کے راست جگہ جگہ وزیر اعظم حسینہ واجد کے قد آورپوسٹر نظر آئے جس میں وہ پناہ گزینوں کے ساتھ کھڑی ہیں اور انھیں کہیں "مدر آف ھیومنٹی” اور کہیں "چیمپئن آف ھیومنٹی ” لکھا گیا ہے- ایک مقامی فرد کے مطابق وزیر اعظم کو ایک ٹی وی چینل نے اس طرح پروموٹ کیا کہ انھیں امن کا نوبل پرائز ملنا چاہیئے کہ انکے ملک نے کافی عرصے سے روھنگیا مھاجرین کو اپنایا ہوا ہے ..

کیمپ میں روھنگیا کے جوان لوگ کہیں نظر نہیں آئے ,یہ سوال میں نے مقامی ریلیف آرگنائزیشن کے زمہ دار کے سامنے اٹھایا تو مجھے بتایا گیا کہ بہت پہلے سے وہاں کے نوجوانوں کو ھائ اسکول کے بعد کسی یونیورسٹی میں داخلے کی اجازت نہیں تھی اور وہاں پرائیویٹ تعلیمی ادارے وجود نہیں رکھتے …نوجوان یا تو چاٹگام آکر یہاں کی اسلامک یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں یا بنگلہ دیشی پاسپورٹ پر کہیں نکل جاتے ہیں.. میانمار میں نہ انھیں آئ ڈی کارڈ دیا جاتا ہے نہ پاسپورٹ – نوجوانوں کی بڑی تعداد کو ھلاک کردیا گیا یا جیلوں میں بند کر دیا گیا ,وہاں 24 سال سے لیکر 40 سال کے لوگ تھے ہی نہیں…عورتیں,بچے اور ضعیف افراد ہی وہاں بچے تھے…میانمار کے لوگوں پر ظلم کا دور بہت عرصے سے جاری ہے اور حالیہ کاروائی کا مقصد اس علاقے سے روھنگیا نسل کو صاف کرنا تھا..ایک وقت تھا جب برما میں 45 لاکھ روھنگیا کے لوگ تھے جو آج صرف دو لاکھ بچے ہیں….

کیمپ کا دورہ کرتے ہوئے دو بچوں نے خوبصورت قرات کی اور ہم انھیں انعام میں کچھ کیش دینے کا سوچ ہی رہے تھے کہ ہجوم اکٹھا ہوگیا اور فوجی جوانوں نے آکر کہا کہ کیش دینے کی اجازت نہیں

کیمپ کا انتظام فوج نے بہت خوبی سے کیا ہے اور ہر چیز کاغذی کاروائی کر کے ,ریکارڈ اور اصولوں کے مطابق کیا جاتا ہے …فوج امداد بانٹنے کے دوران نظم و ضبط رکھتی ہے اور لوگ اپنا مھاجر کارڈ دیکھا کر متعلقہ بلاک کے فوجی عملے سے کارڈ وصول کرکے الگ الگ قطاروں میں بیٹھ کر راشن کا انتظار کرتے ہیں..امدادی تنظیمیں انھیں بتا دیتی ہے کہ وہ کتنا راشن اور کیا کیا لائے ہیں…لوگوں کی.ضرورت کے لحاظ سے انھیں کوپن جاری کیا جاتا ہے –

فلاحی تنظیمیں فوج کے تعاون اور اس رویے سے خوش ہیں- میں نے پوچھا کہ کن چیزوں کی اپیل کی جائے تو مقامی ریلیف آرگنائزیشن کے صدر نے بتایا کہ بنگلہ دیش میں چیزیں آسانی سے اور کم قیمت پر دستیاب ہوتی ہیں ,ہم اپنی پارٹنر تنظیموں سے فنڈز کی اپیل کرتے ہیں اور لوکل مارکیٹ سے ضرورت اور وقت کے لحاظ سے پیکجز تیار کرتے ہیں-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے