صفحہ اول / بنگلہ دیش / روہنگیا بحران ختم کرنے کا آنگ سان سوچی کے لیے آخری موقع ہے: اقوامِ متحدہ

روہنگیا بحران ختم کرنے کا آنگ سان سوچی کے لیے آخری موقع ہے: اقوامِ متحدہ

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا ہی کو کہ میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی کے لیے فوجی کارروائی کو روکنے کا ایک آخری موقع ہے جس کے نتیجے میں لاکھوں روہنگیا مسلم ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

آنگ سان سوچی جو کہ نوبیل انعام یافتہ ہیں اور جو خود ایک عرصے تک نظر بند رہی ہیں انھیں روہنگیا کے مسئلے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔

وہ نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں شریک نہیں ہو رہی ہیں اور انھوں نے کہا کہ بحران کو افواہ کے انبار میں توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔

اینتونیو گوتریز کا یہ انتباہ بنگلہ دیش کے فیصلے کے بعد آیا ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ وہ میانمار سے بھاگ کر آنے والے چار لاکھ سے زیادہ روہنگیا کو اپنے یہاں نہیں رکھ سکتا۔

بنگلہ دیش کی پولیس نے کہا کہ روہنگیا کو ان کے الاٹ کیے گئے گھروں کے سوا کہیں اور جانے کی اجازت نہیں ہوگی یہاں تک کہ اپنے اہل خانہ اور دوست کے ساتھ بھی رہنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

ٹرانسپورٹ والوں اور ڈرائیورز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پناہ گزینوں کو نہ لے جائیں اور مالکان کو کہا گيا ہے کہ وہ انھیں کرایے پر مکان نہ دیں۔

اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ یہ نسل کشی کے مترادف ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے