صفحہ اول / بنگلہ دیش / برما میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی کی جا رہی ہے – حسینہ واجد کا روہنگیا مسلمانوں کے کیمپ کا دورہ

برما میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی کی جا رہی ہے – حسینہ واجد کا روہنگیا مسلمانوں کے کیمپ کا دورہ

"برما اپنے ملک میں معصوم اور بے گناہ لوگوں کے خلاف ظلم کو فوری رکوائے "
 حسینہ واجد کا برمی مسلموں کے کیمپ کا دورہ

ڈھاکہ سے ہمارا اخبار کے لئیے رضوان الدین کی  خصوصی تحریر 
اگر انکے ہاں کوئی واقعہ ہوا تو اسکی تحقیق کر کے اصل ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کرے،. ہم ایک پڑوسی ملک کے طور ان بے گناہ لوگوں کی جو مدد کر سکتے ہیں کریں گے – کاکس بازار کے سرحدی ڈسٹرکٹ میں انہوں نے کیمپ کا دورہ کرتے ہوئے یہ بات کہی – انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب تک برما میں حالت سازگار نہیں ہوتے یہ مہاجرین وہاں عارضی طور پر رہیں گے، برما کی مسلمان اقلیت کا انسانی بنیادوںخیال رکھا جائے گا مگر کیمپ میں رہنے والے کسی بھی طرح کی جوابی کاروائی بنگلہ دیش میں بیٹھ کر نہ سوچیں نہ کریں، ایسا ہوا تو اسکو برداشت نہیں کیا جائے گا –
برما کو ہر حال میں اپنے شہریوں کو واپس لینا ہوگا، ہم اپنے پڑوسی ملک سے پر امن تعلقات رکھنا چاہتے ہیں – وہ جہاز میں ڈھاکہ سے کاکس بازار پہنچیں مگر واپس میں سڑک کے راستے کوتو پالونگ کے مہاجر کیمپ میں پہنچیں جو ایک اور سرحد کے قریب واقع ہے – دونوں جگہ انہوں نے کیمپوں میں موجود خواتین، بچوں اور مردوں سے باتیں کیں اور ان سے معلوم کیا کہ –انکے ساتھ کیا کیا ہوا ہے
برما میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بنیادی انسانی حقوق کی شدید خلاف ورز ی ہے ”  انہوں نے ایک مختصر تقریر بھی کی جس میں کہا کہ جو کچھ لوگوں کے ساتھ  ہو رہا ہے وہ دیکھکر اور ” سنکر ان لوگوں کے آنسو پونچھنا بھی مشکل کام ہے ، ان لوگوں کا حق ہے کہ انہیں انسان سمجھا جائے ، آخر انکے ساتھ اس ظلم کی کیا وجہ ہے ؟
انہوں نے برما کے اپنے قوانین میں تبدیلی لا کر گیارہ لاکھ لوگوں سے شہریت کا حق چھینے کے فیصلے پر سخت تنقید کی — اسی قانون کی وجہ سے بے گناہ لوگوں پر یہ ظلم ڈھائے جا رہے ہیں اور وہ دربدر مارے مارے پھر رہے ہیں ، یہ عمل ناقابل برداشت ہے .. کوئی ملک کبھی اپنے ہی لوگوں پر ایسے ظلم ڈھاتا ہے ؟اپنے اس سفر میں وہ اپنی ہمشیرہ ریحانہ اور اپنی بہو پپپی کیونمی صدیق  کے ہمراہ تھیں جو ایک ای او ایم آفیشل بھی ہیں

وزیر اعظم کے ہمراہ ڈیزاسٹر ریلیف منسٹر مفضل حسین چوہدری مایا، منسٹر آف ڈیفنس مشرف حسین  اور وزیر داخلہ (منسٹر آف لینڈ) سیف  آزماں بھی تھے
اس سے قبل پیر کے روز روڈ ٹرانسپورٹ اور پلوں کے وزیر عبیدالقدیر  نے کہا تھا کہ وزیر اعظم دن رات اس مسلے کے حل کے لیے کوشاں ہیں ، انہوں نے متعلقہ سفیروں اور زمہ داروں سے کی ملاقاتیں کی ہیں اور وہ اپنے دورے پر اسکی تفصیلات بھی بیان کرینگی اور ایک روڈ میپ کا اعلان بھی کرینگی کہ روہنگیا کے مسلمانوں کی عارضی ہاؤسنگ اور ری ہیب کے لیے کیا اقدامات کے جا سکتے ہیں  مگر ایسا کوئی اعلان انہوں نے آج نہیں کیا
ڈھاکہ میں موجود مختلف ممالک کے سفارتی عملے نے کیمپوں کے دورے کر کے صورتحال کا جایزہ لینا شروع کر دیا – تقریبا تین لاکھ تیرہ ہزار اب تک بنگلہ دیش میں داخل ہو چکے ہیں – غیر ملکی میڈیا نے خبردار کیا ہے کہ بنگلہ دیش میں کسی بھی وقت کوئی بڑا انسانی سانحہ رونما ہو سکتا ہے ، وہاں ان لوگوں کی دیکھ بھال کے انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں
یہ مہاجرین 25 اگست کو سیکورٹی آپریشن کے نام پر ایک بہت بڑے آپریشن کے بعد وہاں سے جان بچا کر نکلے –
پاکستان میں بہت سے لوگوں کو شائد یہ بات نہیں معلوم کہ بنگلہ دیش پہلے پانچ لاکھ روہنگیا مسلمانوں کو گزشتہ ایک دہائی سے پناہ دئیے ہوئے ہیں

اس وقت چٹا گانگ کے مختلف ہسپتالوں میں بے شمار زخمی روہنگیا مہاجرین کا علاج ہو رہا ہے ، حکومت بنگلہ دیش نے فیصلہ کی اہے وہ مہاجرین کا بائیو میٹرک ڈیٹا اکٹھا کرے گا تاکہ ایک مستند ڈیٹا بیس تیار ہو سکے ….

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے