صفحہ اول / بنگلہ دیش / "میں نے ڈھاکہ پھر ڈوبتے دیکھا ” – مون سون کی بارش میں دارالحکومت ڈھاکہ سے وینس بن گیا

"میں نے ڈھاکہ پھر ڈوبتے دیکھا ” – مون سون کی بارش میں دارالحکومت ڈھاکہ سے وینس بن گیا

بارش کے بعد خراب صورتحال سے پورا شہر مفلوج ہو گیا 

  ڈھاکہ سے وسیم بن حبیب کی رپورٹ  


Dhaka after rain
معمول کے دنوں میں ٹریفک تتر بتر ہوتا ہے بارش نے تو اسکو اور بڑھا دیا

 

سارا شہر ڈوبا ہوا تھا، مشرق ،مغرب ، جنوب اور شمال ہر طرف پانی ہی پانی ، کوئی کونا نہ بچا تھا جہاں گاڑیاں چل سکیں.ڈھاکہ کی دونوں میونسپلٹی کے ورکرز اور شہری جب کل صبح جاگے تو یہ منظر دیکھا کہ پورا شہر جام ہو چکا ہے ، معمول کی زندگی معطل اور ٹریفک تو معمولی کے رش کو چار گنا کر لیں – جو لوگ ڈھاکہ آئے ہیں وہ تو ویسے ہی یھاں کی ٹریفک کو دنیا کی بد ترین ٹریفک کا لقب دیتے ہیں

کل صبح جب مون سون کی بارش شروع ہوئی تو تھوڑے وقفے کو رکی مگر شام تک جاری اس بارش نے تباہی مچا دی – محکمہ موسمیات کے مطابق پینسٹھ ملی میٹر کی بارش ریکارڈ ہوئی بارہ گھنٹوں میں ،سٹی پلانر کہتے ہیں کہ یہ تباہی اور شہر کو تالاب میں بدلنے کی وجہ بارش نہیں ایک ناکام ڈرینج سسٹم ہے اور یہ نظام دن بہ دن خراب ہی ہوتا جا رہا ہے جو انے والے دنوں میں بھی ڈھاکہ کو ڈوبا تا رہے گا -ہر طرف کچرا ، پلاسٹک بیگ اور دیگر فضلہ نظر آرہا تھا

Traffic jam after ran
ڈھاکہ میں بارش ہو نہ ہو اگر ٹریفک جام ہے تو بسوں کے اندر مت بیٹھے رہیں ، اگر گھر پہنچنا ہے تو

اگر چہ کم وسائل کے باوجود سیوریج کے محکمے نے اچھا کام کیا کہ گھنٹوں کی محنت کے بعد کچھ علاقے گاڑیوں کے لیے کھلے مگر ٹریفک میں بہتری نظر نہیں ای – بسیں ، کاریں اور رکشے ایک ایک انچ کے فاصلے سے سڑکوں پر رینگتی رہیں – سارا دن یہی منظر دیکھنے میں آیا –

جہاں جہاں ٹریفک پولس والے نظر آئے بے بس نظر آئے – اسکولوں اور کام سے واپس انے والے گھنٹوں بسوں کے انتظار میں رہے اور اکثر جگہوں پر بسیں اتنی آہستہ رینگ رہی تھیں کہ مسافروں نے اتر کرپانی میں ڈوب کر جانا منظور کیا – بہت سے والدین کو میں نے دیکھا کہ وہ پانی میں ڈوب کر آرہے تھے اور انکے بچے انکے کندھوں یا سروں پہ بیٹھے تھے -دوپہر کو کھلنے والے اسکولوں نے تو والدین کو ٹیکسٹ میسج کر دیا کہ اسکول بند رہیں گے

ہزاروں مسافر بسوں سے اترکر میلوں پیدل چلے کیوں کہ بسیں بلکل رک ہی گئی تھیں مختلف انٹر سیکشن پر یہ ایک معمول کی بات لگ رہی تھی کہ بسیں خالی کھڑی ہیں کہ رش ختم ہو تو وہ آگے بڑھیں اور مسافر اپنی مدد آپ کے تحت آدھا جسم پانی میں ڈوبا کر پیدل چلنے کی جد و جہد کرتے رہے ، خاص کر قاضی نذرالاسلام ایو نیو، میرپور روڈ ،مانیکا میاں ایو نیو اور پراگاتی سارانی جیسے مقامات پر ہزاروں لوگ کام پر نہ پہنچ سکے اور ایک چھٹی کا دن بن کر گذا رہ گیا جو کام پر گئے انکا بھی کہنا تھا کہ بہت مشکلوں سے -فرحان احمد نے جو فارم گیٹ پر ایک ادارے میں کام کرتے ہیں بتایا میں عام طور پر روزانہ صرف دس منٹ میں آفس پہنچتا ہوں مگر آج تو ڈھائی گھنٹے لگ گئے – لوگوں کا کہنا ہے کہ صورتحال دن بہ دن بد سے بد تر ہوتی جا رہی ہے مگر حکومت ان چیزوں میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی –
شرمین دیبا جوفارم گیٹ کے پاس اندرا روڈ پررہتی ہیں بتایا کہ آج صبح مجھے اپنے بچے کو اسکول دھان منڈی چھوڑنے میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ، لگتا ہی نہیں تھا کہ میں سٹرک پر ہوں ،ایسا لگ رہا تھا کہ کسی دریا میں چل رہی ہوں .

جیسے ہی میں اپنے گھر سے نکل کر کچھ دور گئی مجھے لگا جیسے میں کسے سمندر کے درمیان میں ہوں، دور دور تک پانی ، مجھے ایک رکشے والے سے اس بات کی بھیک مانگنی پڑی کہ خدا کے لیے میری مدد کرو اور مجھے دھان منڈی چھوڑ دو ، آج میرے بچے کا امتحان تھا اور مجھے ہر حال میں جانا تھا

 

kids from school after rain
ایک کم عمر لڑکا اپنے چھوٹے بھائی کو سائکل پر بیٹھا کر اسکول سے گھر لے جا رہا ہےموگھا بازار جیسے شیر سے دور دراز علاقے میں

سوشل میڈیا پر بھی دن بھر یہی چلتا رہا کہ تم گھر کب پہنچے ؟ مجھے تو تین گھنٹے لگے ، کل کا کیا پلان ہے ؟ اب تو یہ روز کا معمول بن گیا ہے – دیکھنا یہ ہے کہ معاشی ترقی کے دعوے کرنے والی حکومت اپنے شہریوں کو بنیادی ضرورتیں دینے پر کب توجہ دے گا ، اگر اسی طرح ساٹھ ستر ملی میٹر بارش سے کیپٹل سٹی بند ہوجاے تو یہ ترقی کہلائے گی ؟ بارشیں تو سارا سال ہوتی ہیں تو کیا اگر صورتحال بد سے بد تر کی طرف جا رہی ہیں تو آنے والے وقت میں شہر پچیس اور تیس ملی میٹر بارش میں بھی بند ہوسکتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے