صفحہ اول / بنگلہ دیش / بھارتی ہندو اپنی فوج کے ساتھ ملکر بڑی تعداد میں گائے بنگلہ دیش اسمگل کرتےهیں

بھارتی ہندو اپنی فوج کے ساتھ ملکر بڑی تعداد میں گائے بنگلہ دیش اسمگل کرتےهیں

ہر سال پانچ ارب ڈالرز مالیت کی اکانومی سرحدی محافظوں کے تعاون سے چل رہی ہے

cow to bangladesh
گزشتہ میہنے ایک تصویر سوشل میڈیا پر عام ہوئی جس میں ایک مجبورو بے کس گائے جس کے چاروں پیر آپس میں مضبوطی سے بندھے ہوئے تھے ، ایک دریا کے راستے بھارت کے شہر آسام سے بنگلہ دیش اسمگل کی جا رہی تھی – اس تصویر نے سارے بھارت میں ایک بحث کو ہوا دی کہ ہم ایک طرف گو ماتا کے نام پر اپنے ملک میں لوگوں کو قتل کر رہے ہیں اور دوسری طرف وہی لوگ اس ماتا کو اس طرح اسمگل کر کے دوسروں ملکوں کو بیچ رہے ہیں – ایک طرف بھارتی مسلمانوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے اور دوسری طرف یورپ ، امریکہ او  مڈل ایسٹ میں انکا گوشت ایکسپورٹ کر کے ہندو بنیئے اربوں ڈالرز کما رہے ہیں

بہارایک بھارتی ایجنسی کے مطابق روزانہ تین ہزار گائے بیلیں نیپال، آسام  بھارتی سرحدی علاقوں اتر پردیش ،بہار اور جھاڑ کھنڈ کے راستے دریا برہم پترا استعمال کر کے بنگلہ دیش میں دھکیل دیئے جاتے ہیں جہاں سے انکے ایجنٹ  بارڈر سکیورٹی فورس کی مدد سے آگے پہنچا دیتے ہیں

لگتا ہے کہ بھارت کا اس وقت کا سب سے بڑا مسلہ گاؤ کشی روکنا اور گاؤ بچانا ہے، بھارتی وزیر اعظم نے گزشتہ ہفتے "گاؤ بچاؤ فورس” کے رضاکاروں سے اپیل کی کہ وہ گائے کے اسمگلروں پر سخت نظر رکھیں مگر گائے اور گائے کا گوشت اسمگل کرنے والے ہندووں پر اس کا کوئی اثر نہیں دیکھنے میں آرہا ، ایک طاقتور مافیا کے طور پر وہ سرکار کی کسی بات کو نہ صرف خاطر میں نہیں لاتے بلکہ جہاں موقعہ ملتا ہے اپنی طاقت کا بھی مظاہرہ کرتے ہیں – بہار کے ایک ریلوے کراسنگ ہندو اسمگلروں نے اس ملازم کی انگلیاں کاٹ ڈالیں جس نے گائے سے لدی ٹرکوں کو جانے کے لیے ریلوے کراسنگ کھولنے سے انکار کر دیا تھا کہ ٹرین آنے والی ہے ..

بنگلہ دیش میں عید قربان کی منڈی شروع ہو چکی ہے اور ریٹ کا انحصار صرف اس بات پر ہوتا ہے کہ بھارتی سرحد سے مال چھوڑا گیا کہ نہیں … مخصوص دنوں مافیا سرحدی محافظوں سے ملکر کر ایک ہی وقت میں ریوڑ کے ریوڑ دھکیل دیتے ہیں اور سرحد کے اس پار انکی ٹیم اسکو سبنھال لیتی ہے، یہ خبر جیسے ہی مارکیٹ میں پہنچتی ہے کہ مال آیا ہے تو لوگوں کا رش لگ جاتا ہے اور کاروباری سرگرمی بڑھ جاتی ہے

smuggle stat
اتر پردیش کا وزیر اعلی بنتے ہی یوگی ادیتیانتھ نے گائے کے کاروبار کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیا مگر یہ کاروبار اتنا منافع بخش ہے کہ ہندو بنیئے اس سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے وہ علاقے بدل لیتے ہیں اور جب حالات نارمل ہوتے ہیں تو واپس ان علاقوں میں دوبارہ کام شروع کر دیتے ہیں- ایک بھارتی جرنلسٹ نے لکھا ہے کہ گائے بیرون ملک اسمگل کرنے کے کام میں ہر ذات کے بڑے بڑے لوگ شامل ہیں- گائے کے اسمگلر راجھستان، گجرات، پنجاب اور ہریانہ سے آکر اتر پردیش کے راستے مغربی بنگال اور بنگلہ دیش بڑی تعداد میں پہنچا کر کروڑوں کما رہے ہیں

بھارتی فوج بھی اس دھندے میں شریک ہے ،یہ پانچ ارب ڈالرز کا کا سالانہ کاروبار ہے – بیف کے گاہک منہ مانگے دام دینے کو تیار رہتے ہیں ، بنگلہ دیشی مویشی منڈی بھارتی گائے اور بیلوں کی قیمت کافی اچھی ملتی ہے – سرحد کے دونوں طرف کےاسمگلرز دونوں طرف کے سرحدی محافظوں کے ساتھ ملکر یہ کاروبار عرصے سے کر رہے ہیں – جیسے جیسے عید قربان کے دن قریب آرہے ہیں انکی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا جاتا ہے – عید کے دنوں میں ایک اوسط درجے کے بھارتی گائے کی قیمت بنگلہ دیشی مندی میں تیس ہزار سے پینتالیس ہزار ٹکہ اور اچھی گائے ہو تو قیمت دو لاکھ ٹکہ تک مل سکتی ہے

cattle smuggle ایسے بھارت میں جہاں لوگوں کے پاس گھروں میں غسل خانے اور ٹوایلیٹ نہیں، کروڑوں لوگوں کے پاس رہنے کو گھر نہیں فٹ پاتھوں پر سوتے ہیں کیا یہی ایک سب سے اہم مسلہ تھا کہ گائے کشی نہیں ہونے دینگے ؟ بھارت ایک ہندو اسٹیٹ ہے کہ سیکولر جہاں مسلمان اپنی مرضی سے جی نہیں سکتے ؟

اس جائز تجارت کو ناجائز اور اسمگلنگ سے کرنے میں بھارتی حکومت کو کیا ٹیکس ملے گا ؟ جو وہ اپنی عوام کی بہتری کے لیے خرچ کر سکتی وہ رقم سرحدی محافظوں کے درمیان بٹ جاتا ہے اور فوج مزید کرپٹ ہو رہی ہے – دوسری طرف نظریہ پاکستان کی سچائی اور حقیقت بھی دنیا کے سامنے اور واضح ہو رہی ہے کہ یہ دو الگ قومیں ہیں ہر اعتبار سے اور ساتھ نہیں رہ سکتے ، انھیں کشمیر میں ساتھ رکھنے کی کوششیں بے کار ہیں ..

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے